Thursday , June 29 2017
Home / سیاسیات / حکومت نے کسانوں کا اتحاد توڑنے کی کوشش کی

حکومت نے کسانوں کا اتحاد توڑنے کی کوشش کی

چیف منسٹر فرنویس کی قیامگاہ طلب کرکے کسان قائدین کی توہین کی گئی : شیو سینا
ممبئی ، 5 جون (سیاست ڈاٹ کام) شیوسینا نے آج حکومت مہاراشٹرا کو کسانوں کی ہڑتال کے معاملے میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ہڑتالیوں کے اتحاد کو توڑنے کی کوشش میں اُن کے مابین دراڑیں پیدا کرنے کا مورد الزام ٹھہرایا۔ سینا نے الزام عائد کیا کہ اسی طرح کی چالیں ماضی میں مراٹھا ہڑتال کو کچلنے کیلئے بھی استعمال ہوئی ہیں۔ سینا نے پارٹی ترجمان ’سامنا‘ کے اداریہ میں کہا کہ اگر کسانوں کے مطالبات قبول کرلئے گئے ہوتے تو وہ سی ایم کو پھولوں کے ہار پیش کرتے۔ لیکن حکومت کے بعض لوگوں نے (مملکتی وزیر زراعت) سدابھاؤ کھوٹ کو ان کے ساتھ لے گئے اور کسانوں کے اتحاد کو توڑنے کی کوشش کی۔ پھوٹ ڈالو اور حکمرانی کرو والی پالیسی استعمال کی جارہی ہے۔ جو قائدین ’ورشا‘ کو گئے (تاکہ سی ایم کے ساتھ اُن کی قیامگاہ پر بات چیت کی جاسکے) انھیں جواب دینا چاہئے کہ آیا کسانوں کے کوئی مطالبات قبول کئے گئے ہیں۔ مہاراشٹرا میں کسانوں نے اپنی ہڑتال یکم جون کو شروع کی تھی تاکہ مختلف مطالبات پر زور ڈالا جاسکے جن میں فصل ناکامیوں اور قرض سے بدحالی کے سبب قرضوں کی معافی، اور ضمانتی ایم ایس پی (اقل ترین امدادی قیمت) نمایاں ہیں۔ سینا نے سوال اٹھایا کہ چیف منسٹر کا کہنا ہے کہ 35-40 لاکھ کسانوں کو قرض معافی سے فائدہ ہوگا۔ لیکن کیا وہ مراٹھواڑہ کے وہ کسانوں کے تعلق سے جواب دے سکتے ہیں جن کے پاس زائد از دو ہیکٹر کی اراضی ہے اور وہ بارشوں پر انحصار کرتے ہیں؟سینا نے کہا کہ ریاستی حکومت نے اس معاملے کی موت میں عارضی طور پر تاخیر کرنے کی کوشش کی۔ پہلے کسانوں کو اُن کی قیامگاہ (ورشا) طلب کیا گیا، توہین کی گئی اور آخرکار کچھ بھی نہ دیا گیا۔ کسانوں کو اس حکومت پر کوئی بھروسہ نہیں اور اس لئے اپنی ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT