Tuesday , April 25 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت پر انتخابی وعدوں سے انحراف کا الزام

حکومت پر انتخابی وعدوں سے انحراف کا الزام

غلط پالیسیوں سے سماج کا ہر طبقہ پریشان حال ، اسمبلی میں اتم کمار ریڈی کا خطاب
حیدرآباد ۔ 27۔ مارچ (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے آبپاشی پراجکٹس کے ٹنڈرس میں بے قاعدگیوں کی جانچ کیلئے ایوان کی کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیا۔ تلنگانہ اسمبلی میں تصرف بل پر مباحث کا آغاز کرتے ہوئے کانگریس کے اتم کمار ریڈی نے حکومت پر انتخابی وعدوں سے انحراف کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ سماج کا ہر شعبہ حکومت کی غلط پالیسیوںکے سبب پریشان ہے۔ کسان خودکشی پر مجبور ہیں تو دوسری طرف طلبہ فیس کی عدم ادائیگی کے باعث تعلیم ترک کرنے کے موقف میں ہیں۔ انہوں نے حکومت پر درج فہرست قبائل کے 12 فیصد تحفظات کے وعدہ پر عمل آوری میں ناکامی کا الزام عائد کیا۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ ریاست قرض میں ڈوبتی جارہی ہے ۔ کانگریس دور حکومت میں قرض کے حصول کے ساتھ ادائیگی پر توجہ دی جاتی رہی لیکن گزشتہ تین برسوں میں ٹی آر ایس حکومت نے بھاری قرض حاصل کرلیا ہے جو تقریباً ایک لاکھ کروڑ تک پہنچ چکا ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت اس طرح کا بوجھ کس طرح برداشت کرے گی ۔ اتم کمار ریڈی نے زائد قرض کو ریاست کیلئے نقصاندہ قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی خودکشی کے معاملہ میں تلنگانہ ملک میں دوسرے نمبر ہے جبکہ خاتون کسانوں کی خودکشی میں سرفہرست ہے۔ انہوں نے کہا کہ خودکشی کرنے والے کسانوں کے افراد خاندان کو معاوضہ تک ادا نہیں کیا گیا۔کے جی تا پی جی مفت تعلیم کے انتخابی وعدہ کا حوالہ دیتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہاکہ سرکاری اور خانگی اسکولوں میں اسکول جانے والے طلبہ کی تعداد 50 لاکھ ہے اور حکومت کی جانب سے قائم کئے جانے والے اقامتی اسکولس کی گنجائش ایک لاکھ ہے ۔ باقی 49 لاکھ طلبہ کیلئے کہاں انتظام کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اقامتی اسکولس میں 12 ویں جماعت تک تعلیم کا انتظام ہے ، لہذا پوسٹ گریجویشن کا کوئی تذکرہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں کے جی تا پی جی اسکیم پر موثر عمل آوری نہیں کی گئی ۔ فیس ری ایمبرسمنٹ کی عدم ادائیگی سے طلبہ کو مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر نے گزشتہ اسمبلی سیشن میں 31 مارچ تک 2015-16 ء کے تمام بقایاجات ادا کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ابھی تک 388 کروڑ کے بقایا جات ادا نہیں کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ 2016-17 ء کا ایک پیسہ بھی جاری نہیں ہوا ہے ۔ اس مرحلہ پر وزیر فینانس ای راجندر نے وضاحت کی کہ 2015-16 ء کے تمام بقایا جات جاری کئے جاچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2016-17 ء کی رقم ادائیگی کے مرحلہ میں ہے ۔ اتم کمار ریڈی نے کالج انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کو فیس کیلئے ہراساں کرنے کی شکایت کی اور کہا کہ اگر حکومت مقررہ وقت پر فیس ادا کرتی تو طلبہ کو پریشانی نہ ہوتی۔ کالجس نے طلبہ کے سرٹیفکٹس کو روک لیا ہے جس کے باعث وہ ملازمتوں کے  انٹرویوز میں شرکت سے محروم ہیں ۔ ہر دلت خاندان کو تین ایکر اراضی کا انتخابی منشور میں وعدہ تھا لیکن اس وعدہ سے انحراف کرلیا گیا ۔ درج فہرست قبائل کو 12 فیصد تحفظات کا حوالہ دیتے ہوئے  اتم کمار ریڈی نے کہا کہ تین سال مکمل ہونے کو ہے لیکن حکومت نے کوئی پیشرفت نہیں کی۔ ایس ٹی کمیشن کی رپورٹ میں تاخیر کی جارہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ درج فہرست قبائل کی آبادی 9.34 فیصد ہے ، انہیں کم سے کم ملازمتوں میں آبادی کے اعتبار سے مواقع فراہم کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تحفظات میں اضافہ کیلئے کمیشن کے قیام کی ضرورت نہیں ہے ۔ این ٹی راما راؤ نے درج فہرست قبائل کے تحفظات کو 4 فیصد سے بڑھاکر 6 فیصد کرنے کیلئے جی او جاری کیا تھا جس پر آج تک عمل آوری جاری ہے ۔ صنعتوں کے قیام میں ریاست کو ملک میں پہلا درجہ حاصل ہونے کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ کو چھٹواں مقام حاصل ہوا ہے ۔ گجرات ، کرناٹک ، مہاراشٹرا اور آندھراپردیش ہم سے آگے ہیں۔ انہوں نے انفارمیشن ٹکنالوجی اکسپورٹ میں تلنگانہ کو چوتھے مقام کا تذکرہ کیا اور کہا کہ حکومت نمبر ون پوزیشن کا دعویٰ کر رہی ہے جبکہ اکسپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق کرناٹک ، مہاراشٹرا اور ٹاملناڈو کے بعد تلنگانہ کا نمبر ہے ۔ انہوں نے ورنگل کے مہادیو پور میں ہرنوں کے شکار میں ریاستی وزیر کے فرزند  کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت حقیقی خاطیوں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اتم کمار ریڈی نے بجٹ میں بعض ترمیمات کے ذریعہ کسانوں کیلئے زائد رقومات مختص کرنے کی مانگ کی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT