Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت پر پرانے شہر کو نظرانداز کرنے کا الزام

حکومت پر پرانے شہر کو نظرانداز کرنے کا الزام

مقامی جماعت کے ارکان اور وزیر داخلہ کی جائزہ اجلاس میں تکرار
حیدرآباد۔ 26 مئی (آئی این این) ماہِ صیام کے انتظامات کے سلسلے میں منعقدہ جائزہ اجلاس میں مقامی جماعت کے ارکان اسمبلی نے حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ وہ حالیہ بارش اور تیز ہواؤں کے سبب متاثرہ عوام کو راحت فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بہادرپورہ کے رکن اسمبلی محمد معظم خاں نے کہا کہ تباہ کاری کے پانچ دن بعد بھی بیشتر علاقوں میں پینے کے پانی اور برقی سربراہی بحال نہیں ہوسکی۔ انہوں نے جاننا چاہا کہ اگر یہی صورتحال ماہ رمضان میں درپیش ہو تو اس وقت حکام کیا کریں گے۔ یاقوت پورہ کے رکن اسمبلی ممتاز احمد خاں نے کہا کہ پرانے شہر کے عوام کو غیرمعلنہ برقی شٹ ڈاؤن کا سامنا ہے اور ہر دن تقریباً 8 گھنٹے برقی مسدود رہتی ہے۔ وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ مجلسی ارکان اسمبلی بے بنیاد الزامات عائد کررہے ہیں اور ان کی لفظی تکرار ہوگئی۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے کہا کہ غیرمتوقع بارش اور تیز ہواؤں کے سبب جو تباہ کاریاں ہوئی ہیں، اس کا حکومت کو اندازہ نہیں تھا۔ جی ایچ ایم سی کمشنر ڈاکٹر بی جناردھن ریڈی نے بتایا کہ صرف 11 منٹ میں 7.4 سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی اور ہواؤں کی رفتار تقریباً 100 کیلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ ایسا اکثر ساحلی علاقوں میں طوفان کے دوران دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف ایجنسیاں 24 گھنٹے کام انجام دے رہی ہیں تاکہ شہریوں کو بنیادی خدمات بحال ہوسکے، لیکن مجلسی ارکان حکومت کے جواب سے مطمئن نہیں تھے اور انہوں نے پرانے شہر کو دانستہ طور پر نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے اجلاس میں کئی سینئر عہدیداروں کی غیرحاضری پر بھی تنقید کی۔ حکمراں جماعت اور مجلسی ارکان میں گرماگرم بحث شروع ہوگئی جس پر وزیر داخلہ نے میڈیا عملہ کو اجلاس سے چلے جانے کیلئے کہا۔ بعدازاں وزیر داخلہ اجلاس کے بارے میں تفصیلات بتائے بغیر ہی سیکریٹریٹ سے روانہ ہوگئے۔بی جے پی رکن اسمبلی کشن ریڈی بھی اجلاس کی تفصیلات بتائے بغیر یہاں سے چلے گئے اور سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود عمر جلیل بھی چلے گئے۔ آخر میں ڈپٹی چیف منسٹر نے میڈیا کو تفصیلات بتائی۔          (خبر اندرونی صفحہ پر)

TOPPOPULARRECENT