Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / حکومت کا اقدام جرأت مندانہ : صدرجمہوریہ ، متوسط طبقہ متاثر ہوگا : سی پی ایم

حکومت کا اقدام جرأت مندانہ : صدرجمہوریہ ، متوسط طبقہ متاثر ہوگا : سی پی ایم

غیر محسوب دولت سامنے آئے گی ،وزیراعظم کا فیصلہ سخت ترین مگر وقت کا تقاضہ : امیت شاہ ، بینکرس ، صنعتوں کاروں کی جانب سے خیرمقدم

نئی دہلی ۔ /8 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے آج رات وزیراعظم نریندر مودی کے اعلان کو جرأت مندانہ اقدام قرار دیتے ہوئے خیرمقدم کیا ۔ نصف شب سے ملک بھر میں 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کے چلن کو بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مودی نے حکومت کے فیصلہ سے عوام کو آگاہ کیا ہے ۔ صدرجمہوریہ نے حکومت کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اس سے غیر محسوب دولت کو باہر لانے میں مدد ملے گی ۔ اس کے علاوہ جعلی کرنسی پر بھی قابو پایا جائے گا ۔ راشٹرپتی بھون سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ پرنب مکرجی نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ حکومت کے فیصلے سے بحران کا شکار نہ ہوں بلکہ حکومت کے جاری کردہ رہنمایانہ خطوط پر عمل کرتے ہوئے اپنے 1000 اور 500 روپئے کے نوٹس تبدیل کرالیں ۔ عوام حکومت کی فراہم کردہ سہولت سے استفادہ کریں ۔ اسی دوران مغربی بنگال میں سی پی آئی ایم نے وزیراعظم نریندر مودی کے اچانک اعلان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اس فیصلے سے ملک کی معیشت پر برا اثر پڑے گا اور متوسط طبقہ چھوٹے تاجروں کی مالی حالت بگڑ جائے گی ۔ سی پی آئی ایم پولیٹ بیورو کے رکن محمد سلیم نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ کالے دھن کو باہر لانے کی کوششوں کی حمایت کی ہے ۔ لیکن اس مسئلہ پر ڈھائی سال کی خاموشی کے بعد حکومت نے یہ فیصلہ کیوں کیا ۔ کانگریس کے سابق پردیش کانگریس کمیٹی صدر اور ایم پی پردیپ بھٹاچاریہ نے حکومت کے اس فیصلے کو جلد بازی میں کیا گیا فیصلہ قرار دیا گیا اور کہا کہ یہ عوام دشمن فیصلہ ہے ۔ کل جب ہندوستان کی عوام بیدار ہوں گے تو وہ 500 اور 1000 روپئے کے نوٹس استعمال کرنے کے قابل نہیں ہوں گے ۔ ایسی صورت میں وہ کیا کرسکیں گے ۔ یہ فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا ہے ۔ اس سے چھوٹے تاجروں اور متوسط طبقہ کے علاوہ غریب عوام پر اثر پڑے گا ۔ ممبئی میں بینکرس اور صنعتکاروں نے حکومت کے اس فیصلہ کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ اقدام جرأت مندانہ اور انقلابی ہے ۔

بینکروں نے کرنسی نوٹوں کی پرسکون تبدیلی انجام دینے کا عہد بھی کیا ۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے چیرپرسن اروندھتی بھٹاچاریہ نے کہا کہ ہم اے ٹی ایمس میں کرنسی نوٹوں کو بھردیں گے اور جتنا جلد ہوسکے بینک کی کارروائیوں کو پرسکون انداز میں انجام دیں گے ۔ حکومت نے نوٹوں کی تبدیلی کیلئے وقت دیا ہے اور استثنائی اقدامات بھی کئے ہیں ۔ ہم 24 گھنٹے کام کرتے ہوئے کسٹمرس کو سہولت پہونچائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بینکنگ سسٹم نے ماضی میں بھی ایسے حالات سے نمٹا ہے ۔ آئی سی آئی سی آئی بینک کے سربراہ چندا کوچھر نے کہا کہ یہ بلاشبہ ایک غیرمعمولی قدم ہے جو متوازی معیشت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے ۔ اس سے رقومات کی ادائیگیوں کے تمام باقاعدہ چیانلوں کو زبردست راحت ملے گی اور معیشت میں بہتری آئے گی ۔ یہ سب سے بڑا اصلاحات کا قدم ہے ۔ آنے والے دنوں میں عوام پر اس کا اثر اچھا پڑے گا ۔ مہیندر گروپ کے وائس چیرمین آنند مہیندرا کے علاوہ ایچ ڈی ایف سی بینک کے چیرمین دیپک پاریک اور جے ایس ڈبلیو گروپ کے ساجن جندال نے بھی وزیراعظم نریندر مودی کے اقدام کو شاندار اور نہایت ہی جرأت مندانہ قدم قرار دیا ۔ کالے دھن کو کچلنے کیلئے یہ قدم بہت ہی معاون ثابت ہوگا ۔ کالے دھن کے خلاف کارروائی کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے کہا کہ وزیراعظم کے اعلان سے غیرقانونی فنڈس کی لعنت پر قابو پانے مدد ملے گی ۔ ایس آئی ٹی چیرمین جسٹس ریٹائرڈ ایم بی شاہ نے کہا کہ یہ نہایت ہی بہترین فیصلہ ہے جو لوگ ٹیکس ادا کئے بغیر اثاثہ جات اور آمدنی رکھتے ہیں اور جنہوں نے اپنے کالے دھن کو منکشف نہیں کیا ہے ان کے لئے یہ ایک کاری ضرب ہے ۔ بی جے پی صدر امیت شاہ نے بھی وزیراعظم نریندر مودی کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ کالے دھن اور رشوت کے خلاف ’’ سرجیکل اسٹرائیک‘‘ ہے ۔ امیت شاہ نے کہا کہ نریندر مودی نے عوام سے کئے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کا عہد کیا تھا اور وہ کامیاب رہے ہیں ۔ ملک میں بڑھتے کرپشن ، کالے دھن ، حوالہ کاروبار اور جعلی کرنسی کے ریاکٹس کو بے نقاب کرنے کیلئے اس طرح کے ٹھوس فیصلے کی ضرورت تھی ۔

TOPPOPULARRECENT