Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت کا دعویٰ ایک اور زمینی کیفیت ایک

حکومت کا دعویٰ ایک اور زمینی کیفیت ایک

حیدرآباد ۔ 11 ڈسمبر (سیاست نیوز) اینی ٹائم منی (اے ٹی ایم) سنٹرس نوٹ بندی کے بعد اینی ٹائم نو کیاش میں تبدیل ہوگئے۔ حیدرآباد کے 90 فیصد اے ٹی ایم کیاش لیس ہوگئے ہیں۔ مسلسل تین دن تعطل کی وجہ سے عوام اے ٹی ایم پر انحصار کررہے ہیں۔ تاہم حیدرآباد کے ہر 50 اے ٹی ایم میں صرف ایک اے ٹی ایم میں رقم رکھی جارہی ہے جس کی وجہ سے نصف شب میں بھی دن کے برابر اے ٹی ایم پر عوام کی قطاریں دیکھی جارہی ہیں۔ حکومت اور بینکس کا یہ ادعا کہ 85 فیصد اے ٹی ایم کارکرد ہوچکے ہیں دھکوسلہ دکھائی دے رہا ہے۔ سارے ملک میں 70 فیصد اے ٹی ایم غیرکارکرد ہیں۔ 500 اور 1000 روپئے کی نوٹ منسوخ ہونے کے 32 دن بعد بھی ملک میں معاشی بحران برقرار ہے۔ بڑی نوٹوں کی منسوخی سے صرف 2 یا3  ہفتوں تک مسائل برقرار رہنے کی توقع کی جارہی تھی۔ تاہم ایک ماہ کی تکمیل کے باوجود حالات جوں کے توں برقرار ہیں۔ تمام بینکوں اور اے ٹی ایم سنٹرس پر عوام کی قطاروں میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ اے ٹی ایم کی اصطلاح پوری طرح تبدیل ہوگئی ہے۔ آر بی آئی کی جانب سے تلنگانہ کو قریب 16 ہزار کروڑ روپئے روانہ کئے گئے ہیں جن میں 95 فیصد نوٹ 2000 روپئے کی ہے جس سے چلر کی بہت زیادہ قلت دیکھی جارہی ہے۔ اضلاع اور دیہی علاقوں کی مزید سنگین صورتحال ہے ملک کے 13 اہم شہروں میں 70 فیصد اے ٹی ایم میں پیسے نہیں ہے، جس سے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا ہے۔ آبادی کا زیادہ تناسب رکھنے والے شہروں میں اے ٹی ایم ANY TIME NO CASH میں تبدیل ہوگئے ہیں جس سے عوام میں ناراضگی اور برہمی بڑھ رہی ہے۔ میڈیا کی جانب سے ملک کے 13 شہروں میں تقریباً 700 اے ٹی ایم سنٹرس کا سروے کیا گیا ہے۔ حیدرآباد میں 50 اے ٹی ایم میں صرف ایک اے ٹی ایم کام کررہا ہے۔ حیدرآباد کے 90 فیصد اے ٹی ایم کام نہیں کررہے ہیں۔ وجئے واڑہ میں 87.5 فیصد، وشاکھاپٹنم میں 85 فیصد اے ٹی ایم سنٹرس کام نہیں کررہے ہیں۔ حیدرآباد میں سنگین صورتحال ہے۔ اے ٹی ایم سنٹرس میں رقم جمع کرتے ہی گھنٹے دو گھنٹے میں ختم ہورہی ہے، جس سے عوام مشکلات سے دوچار ہیں۔

TOPPOPULARRECENT