Sunday , July 23 2017
Home / Top Stories / حکومت کا ظلم بڑھے گا تو مسلمان سڑکوں پر آئینگے

حکومت کا ظلم بڑھے گا تو مسلمان سڑکوں پر آئینگے

نوٹ بندی اور گوشت بندی سے زیادہ شراب بندی ضروری، مذہب کے نام پر سیاست ناقابل برداشت

دیوبند۔ 5 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی مسلمانوں کو ملک کے موجودہ ناگفتہ حالات کا صبر و تحمل سے مقابلہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے جمعیتہ العلماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید محمود مدنی اور آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ جو لوگ حق پر ہوتے ہیں وہ کسی سے نہیں ڈرتے بلکہ صبر کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرتے ہیں۔ موجودہ حکومت اگر اپنے ظلم و زیادتی کی روش میں شدت پیدا کرتی ہے تو مسلمان سڑکوں پر اتر آنے سے گریز نہیں کریں گے۔ جمعیتہ العلمائے ضلع سہارنپور کے زیراہتمام منعقدہ قومی یکجہتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمود مدنی نے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہیکہ آج تین طلاق پر پابندی کی بات وہ لوگ کررہے ہیں جن کی خود کی شادیاں نہیں ہوئی ہیں اور جن کی ہوئی ہیں وہ بیویاں ساتھ نہیں رکھتے ہیں۔ آچاریہ پرمود کرشنم نے کہاکہ دراصل تین طلاق اور گوشت پر پابندی کا مقصد حکومت مسلمانوں کو ڈرانا چاہتی ہے لیکن ہم تاریخی سرزمین دیوبند سے سارے ملک کے عوام کو یہ بتادینا چاہتے ہیںکہ اگر حکومت ظلم و زیادتی کا راستہ اختیار کرتی ہے تو مسلمان خاموش نہیں رہیں گے۔ ملک کے موجودہ نامساعد حالات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات کا اندازہ اس بات سے کیا جاتا ہیکہ مذہب کی سیاست کو ترجیح دی جارہی ہے۔ اترپردیش کی یوگی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یوگیوں کے یہاں قانونی یا غیرقانونی کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے۔ اگر یوگی میں ہمت ہے تو وہ پوری طرح گوشت، انڈہ اور میٹ، مچھلی کے ساتھ شراب بندی نافذ کرے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اترپردیش میں گوشت بندی کی بات کرتی ہے لیکن شمال مشرقی علاقوں میں  اسے بیف سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔

اس وقت ملک میں نوٹ بندی اور گوشت بندی کی طرز پر شراب بندی ضروری ہے لیکن حکومت شراب کے بیوپاریوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتی۔ انہوں نے میڈیا پر تنقید کی اور کہا کہ آج کا میڈیا دلالی کی طرف آچکا ہے۔ اس کا مقصد حکومت کو خوش کرنا ہوگیا ہے۔ محمود مدنی نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں نے ہمیشہ دوقومی نظریہ کی مخالفت کی ہے۔ یہاں کا مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن ایمان سے سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔ مذہبی لوگ سیاست کرتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن مذہب کے نام پر سیاست برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مسلمانوں کو صبروتحمل کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سے ڈرنے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ حالات کا صبر و استقامت سے مقابلہ کریں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT