Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / حکومت کا واویلا پھر دھمکیاں اور اس کے بعد راہ فرار

حکومت کا واویلا پھر دھمکیاں اور اس کے بعد راہ فرار

کانگریس کے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی وجہہ اراضی بل پر مرکز کا ’’یوٹرن‘‘ ، للت گیٹ اور ویاپم پر بھی یہی موقف : راہول گاندھی

نئی دہلی ۔ 4 اگسٹ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام) اراضی بل پر حکومت کے موقف میں اچانک تبدیلی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے راہول گاندھی نے کہاکہ کانگریس کی مزاحمت کی صورت میں دھمکیاں دینے اور چیخ و پکار کرنے کے بعد اس نے ’’راہ فرار‘‘ اختیار کی ہے ۔ انھوں نے کہاکہ للت مودی اور ویاپم موضوعات پر بھی کانگریس اسی طرح کا دباؤ برقرار رکھے گی ۔ نائب صدر کانگریس نے کہاکہ اراضی مسئلہ پر کانگریس ڈٹ کر کھڑی ہوگئی ۔ حکومت نے پہلے تو چیخ و پکار کی اور خوب واویلا مچایا پھر دھمکیاں دی گئیں اور آخر کار اسے ’’اپنا موقف ‘‘ تبدیل کرکے راہ فرار اختیار کرنا پڑا ۔ واضح رہے کہ پارلیمانی پینل کے بی جے پی ارکان نے ترمیمات پیش کرتے ہوئے پیشرو یو پی اے کے اراضی قانون میں فراہم گنجائش کو بحال کردیا ہے ۔ راہول گاندھی نے کہاکہ اسی طرح کرپشن ، ویاپم معاملہ میں بھی اور چیف منسٹر راجستھان وسندھرا راجے و مرکزی وزیر خارجہ سشما سوراج کے مسئلہ پر ہم حکومت پر اپنا دباؤ کم ہونے نہیں دیں گے ۔

اگر ہمیں پارلیمنٹ کے باہر پھینک دیا جاتا ہے یا ہمیں پارلیمنٹ میں داخلہ کی بالکل اجازت نہیں دی جاتی تب بھی ہم اپنا یہی موقف برقرار رکھیں گے ۔ راہول گاندھی نے آج لوک سبھا سے 25 پارٹی ارکان کی معطلی کے خلاف پارلیمنٹ ہاوز کامپلکس کے باہر جاری احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی ۔ کانگریس ارکان پارلیمنٹ کو ایوان میں مسلسل ہنگامہ آرائی اور کارروائی چلنے کی اجازت نہ دینے کی بنا اسپیکر کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ یہ ارکان للت گیٹ مسئلہ پر وزیر خارجہ سشما سوراج سے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے تھے ۔ یہی نہیں بلکہ چیف منسٹر راجستھان وسندھرا راجے اور ویاپم اسکام کے سلسلہ میں چیف منسٹر مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان سے بھی استعفیٰ کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ کانگریس ان مسائل پر ملک بھر میں حکومت کا گھیراؤ کرے گی ۔ راہول گاندھی کے ریمارکس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر دیہی ترقیات ہریندر سنگھ نے کہا کہ جن کی تعداد صرف 44 ہو وہی اس طرح کی زبان استعمال کرتے ہیں۔

حالیہ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس ارکان کی تعداد گھٹ کر صرف 44 ہوگئی ہے ۔ دونوں طرف سے ایک دوسرے پر تنقیدیں اس وقت شدت اختیار کرگئیں جبکہ حکومت نے اراضی بل پر پارلیمانی پینل کی سفارشات قبول کرنے کیلئے آمادگی کا اظہار کیا اس کے ذریعہ یوپی اے قانون کی تمام گنجائشوں کو بحال کیا جائے گا ۔ حکومت کا یہ ماننا ہے کہ یہ شکست نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جس مسئلہ پر بھی اتفاق رائے ہو وہ رائے قبول کرنے تیار ہے۔ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں شامل تمام 11 بی جے پی ارکان نے ان ترمیمات کی تائید و حمایت کی تھی ۔ واضح رہے کہ بی جے پی حکومت نے اراضی بل پر اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کے بعد اپنا موقف تبدیل کرلیا ہے اور اس نے جو بھی ترمیمات کی تھیں ان سے دستبردار ہوگئی اس طرح عملاً اب یہ یوپی اے دور حکومت میں پیشکردہ بل بن چکا ہے ۔ حکومت کی جانب سے تشکیل دیئے گئے پارلیمانی پیانل میں شامل تمام 11 بی جے پی ارکان نے ان تمام ترمیمات سے اتفاق کیااور اسے اپوزیشن جماعتوں کی اہم کامیابی تصور کیا جارہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT