Sunday , August 20 2017
Home / مضامین / حکومت کو سچ کا آئینہ دکھانا ہے

حکومت کو سچ کا آئینہ دکھانا ہے

یوگیندر یادو
اب آپ سے کیا چھپانا ۔ میں نے کل تک میرل اسٹریپ کا نام نہیں سنا تھا ۔ میں نہیں جانتا تھا کہ میرل اسٹریپ ہالی ووڈ کی کتنی مقبول اداکارہ ہیں ، انھیں کتنے ایوارڈ مل چکے ہیں ۔ میں انگریزی فلم زیادہ نہیں دیکھتا ہوں ۔ اب کام چلائو انگریزی لکھ پڑھ ،بول ضرور لیتا ہوں ۔ لیکن دکھ سکھ ، پیار اور رنج میں انگریزی ساتھ چھوڑ دیتی ہے ۔ اس لیے کویتا ، کہانی اور فلم کا مزہ عموماً ہندی میں یا ہندی ترجمہ کے ذریعہ ہی لے لیتا ہوں ۔
اس لیے میرل اسٹریپ سے میری ملاقات کل ہی ہو پائی ۔ فلم کے ذریعہ نہیں بلکہ چھہ منٹ کی ان کی تقریر کے ویڈیو سے ۔’گولڈن گلوب ‘میں انھیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کے لیے مدعو کیا گیا تھا ۔ایوارڈ لیتے وقت صرف ’’ تھینک یو ‘‘ کہنے کی بجائے اس ہمتی عورت نے امریکہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر تنقید کرنی شروع کر دی ۔سامعین حیران تھے ،متوجہ بھی تھے ۔ اس کے جملوں میں سیاسی نعرے نہیں تھے ، گالی گلوج یا الزام بھی نہیں ۔لیکن اشارہ صاف تھا ، نشانے پر ٹرمپ اور امریکہ کی نئی بدتہذیب تھی ۔ حملہ اتنا زوردار تھا کہ اگلے دن صدر ٹرمپ کو اپنی سطح پر اتر کر جواب دینا پڑا ۔ گزشتہ کچھ دنوں سے ان کا یہ ویڈیو پوری دنیا میں چل نکلا ہے ۔ میرے فیس بک پیج پر بھی یہ خطبہ ۱۲؍ گھنٹے میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ گیا ۔

میں امریکہ کی سیاست کا کوئی دیوانہ نہیں ہوں ۔میں تو صرف یہ دیکھ رہا تھا کہ اس ملک کی ایک اداکارہ اپنے ملک کے سب سے طاقتور گدی نشین آدمی کے سلسلہ میں کس ہمت سے بول سکتی ہے ۔مجھے ٹرمپ اور اسٹریپ کے تصادم میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے ۔ مجھے تو صرف اقتدار اور سچ کے درمیان تصادم میں دلچسپی ہے ۔ تاج کس کے سر پر رکھا ہے ، مجھے اس سے مطلب نہیں ہے ۔ مجھے اس گونج سے مطلب ہے جو تاج اچھال سکتی ہے ، اس آواز سے مطلب ہے جو تخت ہلا سکتی ہے ۔ میرے آنکھ اور کان امریکہ کا خطبہ دیکھ اور سن رہے تھے ۔ میرا من بار بار ہندوستان میں ایسی آوازوں کو تلاش رہا تھا ۔
مجھے بیلا بھاٹیا اور نندنی سندر کی آواز سنائی دے رہی تھی ۔ چھتیس گڑھ کے بکسر علاقہ میں اب کئی سال سے ہندوستان اور ریاستی حکومت نے ملکر جمہوریت کی چھٹی کردی ہے ۔ہتھیاربند نکسلیوں کے ساتھ ساتھ پر امن مہم چلانے والوں کو کچلا جا رہا ہے ، بڑی پارٹیاں ملی ہوئی ہیں اور میڈیا کا منہ بند ہے ، حقو ق انسانی کے لیے کام کرنے والے رضاکاروں کی خیر نہیں ہے ۔اس ماحول میں ان دونوں خواتین نے ہر خطرہ اٹھاتے ہوئے بستر کا سچ ملک تک پہنچانے کی ہمت کی ہے ۔ امن پسند بیلا بھاٹیا کو نکسلی قرار دے دیا گیا ہے ، دہلی یونیورسٹی کی پروفیسر نندنی سندر کے خلاف سنگین الزامات کے تحت مقدمے کر دیے گئے ہیں ۔ وہ پھر بھی بول رہی ہیں ۔ لیکن کیا ہم انھیں سن رہے ہیں ؟

آواز کانپ رہی ہے ۔لیکن اسٹریپ بول رہی ہیں ۔ڈونالڈ ٹرمپ کا نام لیے بغیر ایک اشارہ کرتی ہیں ۔ ٹرمپ نے اپنے ایک خطبہ میں ایک معذور صحافی کی نقل کرتے ہوئے اس کی جسمانی کمزوری کا مذاق اڑایا تھا ۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے اسٹریپ کہتی ہیں یہ بات ان کے دل میں برچھی کی طرح چبھ گئی کہ ملک کے عظیم  عہدے کا دعویدار ایک ایسے شخص کو بے عزت کر رہا تھا جو اس کے پیسے ، طاقت اور اہلیت میں بہت کمتر تھا ۔جب اقتدار پرست اپنے اقتدار کی طاقت پر کسی کمزور کو بے عزت کرتے ہیں تو پورے سماج میں دھونس پٹی کی رسم عام ہوتی ہے ۔
میری آنکھوں کے سامنے کئی تصویریں تیرنے لگتی ہیں ۔ دہلی میں 1984میں سکھوں کا قتل عام ہوتا ہے ۔ ملک کا وزیر اعظم کہتا ہے کہ جب بڑا پیڑ اکھڑے گا تو زمین تو ہلے گی ۔ گجرات میں 2002 کے فسادات کے بعد صوبہ کا وزیر اعلی کہتا ہے کہ فسادات متاثرین راحت کیمپ میں بریانی کھا رہے ہیں ۔ہم سب کے ماتھے پر خون کے چھینٹے لگتے ہیں ۔ لیکن ملک کے کچھ جانے مانے لوگ سکھ قتل عام کے ملزمین کی شناخت کرتے ہیں ۔گجرات سے آکر ہرش مندر لکھتے ہیں کہ اب’’ سارے جہاں سے اچھا ۔۔۔’’نہیں گا پائوںگا ۔‘‘لیکن کیا ہم انھیں یاد کرتے ہیں ؟ ملک میں اظہار رائے کی آزادی پر پہرے کے خلاف پروفیسر گنیش دیویدی کی قیادت میں ہندوستانی زبانوں کے سینکڑوں قلم کاروں ’’دکشنیان ‘‘ کی مہم شروع کر چکے ہیں ۔کیا ہم اس کے بارے میں جانتے بھی ہیں ؟

اسٹریپ پریس کی آزادی کی بات کر رہی ہیں ۔ میرے سامنے ٹی وی کا کالا پردہ ہے ۔ اس کے پیچھے سے آتی رویش کمار کی آواز ہے ،’’ یہ اندھیرا پردہ ہی آج میڈیا کی سچی تصویر ہے ‘‘۔میرے سامنے اس سال رام ناتھ گوئنکا انعامات تقریب میں وزیر اعظم کی موجودگی میں انڈین ایکسپریس کے ایڈیٹر راج کمل جھا کا چھوٹا خطبہ ہے ۔ قومی پرچم کی آڑ میں ہو رہی سیلفی صحافت کو آڑے ہاتھ لیتے ہوئے ایڈیٹر نے کہا کہ اگر حکومت کسی صحافی کی تنقید کرتی ہے تو یہ تو قدر کا تمغہ ہے ۔اسی تقریب میں ایک اور صحافی اکشے مکل نے وزیر اعظم کے ہاتھ سے ایوارڈ لینے سے انکار کر دیا ۔مجھے بچپن میں پڑھی کہانی یاد آتی ہے ۔ جب فتح عالم سکندر نے ایک سادھو سے پوچھا ’’ تم کو کیا چاہئے ‘‘ تو سادھو بولا ’’ میری دھوپ مت روکو ، سائڈ میں ہو جائو ‘‘ راجا اور سادھو کے اس قصہ کو کتنے لوگوں نے یاد کیا ۔
اسٹریپ کی زبان معتدل ہے ، نرم ہے لیکن کمزور نہیں ہے ۔ میرے کان میں پرشانت بھوشن کی آواز گونج رہی ہے ۔ پرشانت جی سپریم کورٹ میں ہیں ، سامنے ملک کے مستقبل کے چیف جسٹس آف انڈیا کھیہڑ ہیں ۔ معاملہ بڈلا سہارا کاغذوں میں وزیر اعظم سمیت ملک کی تمام پارٹیوں کے بڑے لیڈران پر پیسے لینے کے الزام کی جانچ کا ہے ۔ پرشانت جی من سے جسٹس کھیہڑ کی عزت کرتے ہیں ۔ لیکن کھلے کورٹ میں ، معتدل آواز میں ، نرمی سے بول رہے ہیں ’’ جسٹس ، مجھے آپ کی غیر جانبداری پر کوئی شک نہیں ہے ۔ لیکن اس عدالت کا ایک افسر ہونے کے ناطے میری ذمہ داری ہے کہ ایک غیر پسندیدہ بات آپ کے سامنے رکھوں ۔ جب آپ کی اپنی پرموشن کی فائل وزیر اعظم کے دفتر میں پڑی ہے ، اس وقت آپ کا اس کیس کا فیصلہ کرنے میں جلد بازی کرنا جنتا میں غلط پیغام دے گا ‘‘۔کھچا کھچ بھری عدالت میں کچھ ویسا ہی سناٹا رہا ہوگا جیسا میرل اسٹریپ کے غیر پسندیدہ جملے سے ہوا ہوگا ۔میں نے پرشانت جی کو سلام کیا ۔ آپ نے بھی کیا ؟
ہال میں تالیاں بج رہی تھیں ۔ کئی آنکھیں نم تھیں ، میری بھی تھی ۔ آنکھ میں آنسو تھے لیکن چھاتی چوڑی ہو رہی تھی ۔ یہ مجبوری نہیں مضبوطی کے آنسو تھے ۔
(مضمون نگار سوراج انڈیا کے قومی صدر ہیں )

TOPPOPULARRECENT