Thursday , August 17 2017
Home / ہندوستان / حکومت کو مالی خسارہ کی کوئی فکر نہیں: ارون جیٹلی

حکومت کو مالی خسارہ کی کوئی فکر نہیں: ارون جیٹلی

چھوٹی بچتوں کا شرح سود کم کرنے سے پہلے محتاط جائزہ کا تیقن
نئی دہلی ۔ 4 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیرفینانس ارون جیٹلی نے آج کہا کہ انہیں مالی خسارہ کی کوئی فکر نہیں ہے اور حکومت مزید سرمایہ کے طرز پر جو بعد میں پے کمیشن پر عمل آوری کے نتیجہ میں ہوگا۔ اپنا خسارہ پورا کرنے اور مقررہ اہداف تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ پے کمیشن کی سفارشات پر عمل آوری کا اثر ضرور مرتب ہوگا اور اس کے نتیجہ میں سرکاری خزانہ مزید 1.02 لاکھ کروڑ روپئے سالانہ کا بوجھ عائد ہوگا جو 2 تا 3 جاری رہے گا۔ ارون جیٹلی نے کہا کہ انہیں کوئی خاص فکر نہیں ہے کہ مالی خسارہ سے مقررہ مقاصد کا حصول مشکل ہوگا۔ وہ سرکاری فینانسیس پر سفارشات کے اثرات کے بارے میں سوال کا جواب دے رہے تھے۔ ای پی قیادت چوٹی کانفرنس کے دوران ان سے یہ سوال کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقررہ نشانہ حاصل کرنے کے علاوہ حکومت مالی خسارہ کے معیار کو بہتر بناسکتی ہے۔ حکومت نے تجویز پیش کی ہیکہ جی ڈی پی کا 3.9 فیصد مالی خسارہ 2015-16ء کے دوران ہے، 2016-17ء کے دوران 3.5 اور 2017-18ء کے دوران 3 ہوجائے گا۔ پے کمیشن کے اثرات کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے جیٹلی نے کہا کہ عام قاعدہ یہ ہیکہ تنخواہ اور وظیفہ کی ادائیگی جی ڈی پی کا 2.5 فیصد ہونا چاہئے

لیکن اس تناسب میں کمیشن پر عمل آوری کے ابتدائی برسوں میں انحاط پیدا ہوگا ۔ تاہم جی ڈی پی نے اضافہ کے نتیجہ میں تیسرے اور چوتھے سال تک یہ انحطاط کم ہوجائے گا اور 2.5 فیصد ہوجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ یہ دباؤ صرف 2تا 3 سال جاری رہے گا۔ چھوٹی بچتوں پر شرح سود میں تخفیف کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے حکومت کمزور اور مخدوش طبقات کیلئے شرح سود میں کمی کرے گی تاکہ ان کا تحفظ کیا جاسکے۔ ارون جیٹلی نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بچی کی پیدائش اسکیم کا آغاز گذشتہ سال کیا گیا تھا ۔ ایک سال بعد فوری طور پر ا س میں تخفیف کی گئی تاکہ کمزور اور مخدوش طبقات کے مفاد میں اس اسکیم کو بنایا جاسکے۔ اس لئے ہمیں درست سمت میں پیشرفت کرنا چاہئے۔ تاہم یہ پیشرفت محتاط ہونا بھی ضروری ہے۔ کئی افراد چھوٹی اسکیموں پر منحصر ہوتا ہے۔ ارون جیٹلی نے کہاکہ منتخبہ حکومت کی ذمہ داری ہیکہ معاشی اصولوں کے ساتھ ساتھ اس کے سیاسی اثرات کو بھی پیش نظر رکھے۔ سکنیا سمترتھی اسکیم فی الحال سب سے زیادہ شرح سود 9.2 فیصد ہے اور عوام بچی کیلئے رقومات کی سرمایہ کاری اسکیم میں کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT