Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت کو 12 فیصد تحفظات کا وعدہ پورا کرنے کا چیلنج: کے جانا ریڈی

حکومت کو 12 فیصد تحفظات کا وعدہ پورا کرنے کا چیلنج: کے جانا ریڈی

سیاست سے سبکدوش ہوجانے سابق وزیر داخلہ کی پیشکش ۔ مریال گوڑہ میں کانگریس کارکنوں سے خطاب

نلگنڈہ 10 جولائی ( سیاست نیوز) سابق وزیر داخلہ و سی ایل پی لیڈر مسٹر کے جانا ریڈی نے آج اعلان کیا کہ اگر ٹی آر ایس حکومت مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کو یقینی بناتی ہے اور اور فصل کو آبی سربراہی عمل میں لانے اور 10 لاکھ ایکر اراضی کو سیراب کرنے کے وعدے کو پورا کرتی ہے تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں گے ۔ جانا ریڈی ضلع نلگنڈہ کے مریال گوڑہ میں پارٹی کے جائزہ اجلاس میں قائدین اور کارکنوں سے خطاب کر رہے تھے ۔ اجلاس میں پردیش کانگریس صدر این اتم کمار ریڈی اپوزیشن قائدکونسل محمد علی شبیر ‘ پارٹی ضلع مبصر ملوروی رکن اسمبلی و سابق وزیر مسٹر کے وینکٹ ریڈی کے علاوہ دیگر شریک تھے ۔ مسٹر جانا ریڈی نے کہا کہ میری امیج کو متاثر کرنے چیف منسٹر چندر شیکھرراؤ نے رکن اسمبلی مریال گوڑہ کو پارٹی میں شامل کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابات میں غریب بچوں کی فیس ادائیگی اور مسلمانوں کو اندرون 4 ماہ 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ و تیقنات دیتے ہوئے گمراہ کیا گیا ۔ اقتدار پر فائز ہو کر 2 سال سے زائد کا عرصہ گذرنے کے باوجود مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی میں تساہل برتا جا رہا ہے ۔ ضلع کو دوسری فصل کیلئے آبرسانی عمل میں لانے اور 10 لاکھ ایکر اراضی کو سیراب کرنے کا وعدہ کیا گیا جو تا حال وفا نہیں ہوا ۔ صدرپردیش کانگریس کمیٹی مسٹر اتم کمار ریڈی نے کہا کہ کے سی آر کو اقتدار حاصل ہوتے ہی ناگرجناساگر پراجکٹ خشک ہوگیا ہے ۔ دلتوں کو 3 ایکراراضی ‘ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات ڈبل بیڈ روم مکانات و دیگر گمراہ کن اعلانات سے عوام کو سبز باغ دکھایا جارہاہے ۔

انہوں نے رکن پارلیمنٹ نلگنڈہ اور رکن اسمبلی مریال گوڑہ پر تنقید کی ۔ اپنے اختلافات کو فراموش کرکے پارٹی استحکام کیلئے ایک ہی شہ نشین پر براجمان رکن اسمبلی نلگنڈہ کے وینکٹ ریڈی نے کہاکہ ایک روپیہ خرچ کئے بغیر ایم پی بننے والے جی سکھیندر ریڈی پارٹیوں کی تبدیلی سے گریز نہیں کرتے ۔ سکھیندر ریڈی کی کامیابی میں جانا ریڈی کا اہم رول ہے ۔ کانگریس کی  وجہ سے ان کو کامیابی حاصل ہوئی ۔2019 میں کانگریس کو دوبارہ کامیابی حاصل ہوگی ۔ قائد اپوزیشن کونسل مسٹر شبیر علی نے کہا کہ علحدہ ریاست قائم ہونے پر عوام اورعلاقہ کی ترقی کی امید تھی اور سنہرے تلنگانہ کا خواب پورا ہونے کی امید تھی لیکن ٹی آر ایس سربراہ پارٹی تبدیلیاں ‘ کلکشن الیکشن و تہواروں کا نشانہ مقرر کر رہے ہیں ۔ انہوں نے سکھیندر ریڈی و بھاسکرراؤ کو مواضعات میں داخل ہونے پر وفا داری تبدیل کرنے پر سوالات کرنے پر زور دیا ۔ راج گوپال ریڈی نے کہا کہ ٹی آر ایس کی وجہ سے علحدہ ریاست قائم نہیں ہوئی بلکہ یہ شریمتی سونیا گاندھی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے ۔ تلنگانہ عوام سونیاگاندھی کے احسان کو فراموش نہیں کرسکتے ۔ انہوںنے کہا کہ منحرف قائدین میں جرات ہو تو اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجائیں ۔ ان حلقوں میں کانگریس کو دوبارہ کامیابی حاصل ہوگی ۔ اس اجلاس کو سینئر قائد و رکن راجیہ سبھا مسٹر گوردھن ریڈی ‘ ملو روی اور دیگر نے بھی مخاطب کیا ۔

TOPPOPULARRECENT