Wednesday , June 28 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت کیخلاف جدوجہد کیلئے صحافیوں کے عظیم اتحاد پر زور

حکومت کیخلاف جدوجہد کیلئے صحافیوں کے عظیم اتحاد پر زور

آزادیٔ صحافت پر ضرب نہیں لگایا جاسکتا، احتجاجی اجلاس سے سرکردہ صحافیوں کا خطاب
حیدرآباد۔11جون (سیاست نیوز) دستور میں ذرائع ابلاغ کو حاصل آزادی پر کوئی ضرب نہیں لگا سکتا سابق میں کی گئی اس طرح کی کوششوں کا ذرائع ابلاغ اداروں نے پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کیا اور آئندہ بھی اس طرح کی کسی بھی کوشش کا پوری طاقت کے ساتھ مقابلہ کیا جائے گا۔ پریس کلب آف انڈیا نئی دہلی میں ایڈیٹرس گلڈآف انڈیا‘ انڈین ویمنس پریس کارپ‘ انڈین جرنلسٹس یونین‘ پریس اسوسیشن‘ دی دہلی یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام این ڈی ٹی وی کے خلاف سی بی آئی کی کاروائی پر منعقد کئے گئے احتجاجی اجلاس میں سرکردہ صحافیوں‘ مدیراں‘ وکلاء اور دانشوروں سے شرکت کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے ذرائع ابلاغ اداروں کو نشانہ بنائے جانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے ماضی میں کی گئی کوششوں کے انجام یاد دلائے۔ اس اجلاس میں شرکت کرنے والی اہم ترین شخصیات میں مسٹر ایس نہال سنگھ‘ معروف صحافی کلدیپ نائر‘ ماہر قانون داں فالی ایس نریمن‘ ارون شوری‘ مسٹر شیکھر گپتاکے علاوہ کئی شامل ہیں۔ مسٹر ارون شوری نے اس احتجاجی اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ حکومت کا یہ تصور کرنا کہ وہ جو چاہے کرسکتی یا کسی بااثر شخص کا یہ سمجھ لینا کہ وہ ذرائع ابلاغ اداروں یا صحافی کو پریشان کرتے ہوئے اسے اپنے مطلب کی راہ پر لا سکتا ہے تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔انہوں نے اپنے خطاب کے دوران سابق میں ذرائع ابلاغ اداروں پر ہونے والے حملو ںکا تذکرہ کرتے ہوئے نریندر مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ’’تجھ سے پہلے یہاں جو تخت نشین تھا‘ اسکو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقین تھا‘‘ ۔انہوں نے کہا کہ موجوہ حکومت کے خلاف جدوجہد کے لئے صحافیوں کے عظیم اتحاد کی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ حکومت کی جانب سے مرعوب کرتے ہوئے حکومت کرنے کی پالیسی اختیار کی جارہی اور اسی خوف میں مبتلاء ہر بات کو ہر گوشہ کی جانب سے تسلیم کیا جانے لگا ہے۔ارون شوری نے ملک میں قانون کی حکمرانی اور دستور کے تحفظ کیلئے صحافیوں کو کمربستہ ہونے کا مشورہ دیا۔انہوں نے انتباہ دیا کہ اگرکوئی طاقت آزادیٔ صحافت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتی ہے تو وہ ہاتھ جلا دیئے جائیں گے۔مسٹر فالی ایس نریمن نے این ڈی ٹی وی کے خلاف کی گئی شکایت پر قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ 7سال بعد شکایت درج کروایا جانا ہی اس پورے واقعہ کو مشتبہ بنانے کیلئے کافی ہے۔این ڈی ٹی وی صدرنشین مسٹر پرونا رائے نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران کہا کہ انہوں نے یا ان کی اہلیہ رادھیکا نے کبھی کوئی کالے دھن کو ہاتھ نہیں لگایا ہے اور نہ ہی زندگی میں کبھی کسی کو کوئی رشوت دی ہے۔انہوں نے بتایا کہ سی بی آئی نے دہلی اور دہرادون4مقامات پر دھاوے کئے ہیں لیکن اب تک یہ نہیں بتایا گیا کہ انہیں کیا دستیاب ہوا ہے؟مسٹر پرونا رائے نے کہا کہ وہ شفاف تحقیقات میں تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن جس طرح سے آزادی صحافت کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہوئے NDTVپر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے اس پر خاموشی اختیار نہیں کی جاسکتی۔معروف قلمکار و صحافی مسٹر کلدیپ نائر نے اس اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ حکومت جمہوریت کی بنیادوں کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس طرح کی کوششوں کے ہر دور میں سنگین نتائج برآمد ہوئے ہیں۔انہوں نے صحافت پر دباؤ بنانے کی کوشش کو جمہوریت کی بنیادوں کو دہلانے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ صحافی اپنے گریبانوں کے ساتھ جمہوریت کے تحفظ کا فن جانتے ہیں۔مسٹر شیکھر گپتا نے کہا کہ اب وقت ہے کہ صحافتی برادری نہ صرف اپنی بلکہ جمہوریت کی بقاء و دستور کے تحفظ کیلئے متحد ہوجائیں اور جیل جانے کیلئے بھی تیار رہیں ورنہ حالات اور سنگین ہو سکتے ہیں۔اجلاس نے حکومت کی کاروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے قرارداد منظور کی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT