Friday , July 21 2017
Home / ہندوستان / حکومت کیخلاف 18 اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد

حکومت کیخلاف 18 اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد

نوٹوں کی تنسیخ اور جی ایس ٹی جیسے اقدامات پر حکومت کے خلاف متحدہ صف آرائی
نئی دہلی 13 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران جس کا آغاز 17 جولائی سے ہونے والا ہے، حکومت کا نوٹوں کی تنسیخ ، جی ایس ٹی اور دیگر کئی مسائل پر متحدہ طور پر صف آرائی کرنے کے لئے 18 اپوزیشن پارٹیاں متحد ہوگئی ہیں۔ اِن پارٹیوں کے قائدین نے وسیع تر حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جسے پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران منگل کے دن سے عمل کیا جائے گا۔ بنیادی طور پر یہ اجلاس نائب صدر کے عہدہ کے انتخاب کے لئے اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار کے تعین کے لئے منعقد کیا گیا تھا۔ ذرائع کے بموجب 5 مسائل پر 18 پارٹیوں میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر حکومت کا مقابلہ کرنے کے لئے صف آرائی سے اتفاق رائے کیا گیا۔ سماجی ذرائع ابلاغ کی اطلاع کے بموجب نوٹوں کی تنسیخ کے مضر اثرات، جی ایس ٹی کے نفاذ کا عاجلانہ اقدام، کاشتکاروں کی پریشانی اور خودکشیاں، سیاسی انتقام کی حکمت عملی اور ملک کے وفاقی ڈھانچے کے تحفظ کے علاوہ غلط خبروں کی تشہیر، عوام کو فرقہ وارانہ طور پر اُکسانے کے سلسلے میں حکومت کے خلاف اپوزیشن متحدہ طور پر صف آرا ہوگی۔ مبینہ سیاسی انتقام کا حوالہ دیتے ہوئے ذرائع نے کہاکہ ترنمول کانگریس قائدین کے خلاف ناردا اسکام کے سلسلہ میں مقدمات قائم کئے گئے ہیں۔ سابق مرکزی وزیر فینانس چدمبرم کے خاندان کے خلاف دھاوے کئے گئے ہیں، آر جے ڈی کے صدر لالو پرساد یادو کے خاندان کے خلاف کارروائی کی گئی۔ یہ تمام مرکزی حکومت کی سیاسی انتقام کی کارروائیاں ہیں۔ منگل کے اجلاس میں صدر کانگریس سونیا گاندھی، نائب صدر کانگریس راہول گاندھی، ترنمول کانگریس کے قائدین ڈیرک اوبرائن، جے ڈی یو کے قائد شرد یادو، این سی پی کے پرافل پٹیل، سی پی آئی (ایم) کے سیتارام یچوری، نیشنل کانفرنس کے عمر عبداللہ، سماج وادی پارٹی کے نریش اگروال، بی ایس پی کے ستیش مشرا کے علاوہ دیگر 10 پارٹیوں کے قائدین شریک تھے۔ اوبرائن نے کارروائی کی تفصیلات کا انکشاف نہیں کیا، صرف اتنا کہاکہ انفرادی طور پر پارٹیاں تمام مسائل اُٹھا سکتی ہیں۔ تمام 18 اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان مفاہمت ہوچکی ہے۔ ترنمول کانگریس کے قومی سکریٹری اور راجیہ سبھا میں پارٹی قائد اوبرائن نے کہاکہ ہم ایک متحد ٹیم کے طور پر کام کریں گے۔ کسی کو بھی کسی پر برتری حاصل نہیں ہوگی۔ اپوزیشن جماعتیں نائب صدارتی انتخاب کے مسئلہ پر بھی حکومت سے متحدہ مقابلہ آرائی کر رہی ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT