Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت کی اسکیمات پر تنقید سے عوام میں الجھن

حکومت کی اسکیمات پر تنقید سے عوام میں الجھن

اپوزیشن کے اشاروں پر کام ، پروفیسر کودنڈا رام پر ٹی آر ایس ایم پی بی سمن کی تنقید
حیدرآباد ۔ 30 ۔ جنوری (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ بی سمن نے تلنگانہ پولیٹیکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے صدرنشین پروفیسر کودنڈا رام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کودنڈا رام حکومت کی اسکیمات پر تنقیدوں کے ذریعہ عوام میں الجھن پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سمن نے الزام عائد کیا کہ کودنڈا رام اپوزیشن جماعتوں کے اشارے پر حکومت کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ مشن کاکتیہ اور مشن بھگیرتا جیسی اسکیمات پر کودنڈا رام اور اپوزیشن جماعتوں کی تنقیدیں باعث شرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں اسکیمات تلنگانہ کی ہمہ جہتی ترقی میں اہم رول ادا کر رہی ہیں۔ سنہری تلنگانہ کیلئے چیف منسٹر نے عوام سے جو وعدہ کیا ہے اس کے مطابق ہر گھر کو پانی کی سربراہی اور آبپاشی سہولتوں کیلئے پانی کا انتظام مذکورہ دونوں اسکیمات کا اہم مقصد ہے ۔ انہوں نے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ مشن کاکتیہ کے کاموں کی انجام دہی کیلئے آندھرا سے تعلق رکھنے والے افراد کو کنٹراکٹ دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اسکیمات پر مکمل شفافیت کے ساتھ عمل کیا جارہا ہے اور بے قاعدگیوں کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور تلگو دیشم دور حکومت میں ہر سرکاری اسکیم بے قاعدگیوں کا شکار رہی جس کے باعث اسکیمات کے فوائد عام آدمی تک نہیں پہنچ سکے۔ سمن نے کہا کہ مشن بھگیرتا اسکیم کی ملک بھر میں ستائش کی جارہی ہے جس کے تحت ہر گھر کو صاف پینے کا پانی فراہم کیا جائے گا ۔ اسکیم کا تجرباتی طور پر بعض علاقوں میں آغاز ہوچکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کودنڈا رام دراصل سیاسی بیروزگاروں کی سرپرستی کر رہے ہیں اور وہ خود بھی ایک سیاسی قائد کی طرح رول ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی مہم کا عوام پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ سمن نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ریاست کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کیلئے گزشتہ تین برسوں میں جو اقدامات کئے ہیں، اس کی مثال ملک کی کسی اور ریاست میں نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی کئی ریاستیں تلنگانہ کی اسکیمات پر عمل کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارکردگی کے اعتبار سے چیف منسٹر ملک کے نمبر ون چیف منسٹر کی حیثیت سے نام درج کرچکے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کو تنقیدوں کے بجائے اسکیمات پر بہتر عمل آوری کیلئے حکومت سے تعاون کرنا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT