Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت کی اسکیمات پر موثر عمل آوری کا جائزہ

حکومت کی اسکیمات پر موثر عمل آوری کا جائزہ

فیس باز ادائیگی اور اسکالر شپ کے بقایا جات فوری جاری کرنے ریاستی وزیر جگدیش ریڈی کی ہدایت
حیدرآباد۔/16فبروری، ( سیاست نیوز ) ریاستی وزیر برقی و بہبودی درج فہرست اقوام جگدیش ریڈی نے آج مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس میں اسکالر شپ اور فیس بازادائیگی اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ دونوں اسکیمات کے بقایا جات جلد جاری کئے جائیں تاکہ طلبہ کو تعلیم جاری رکھنے میں دشواری سے بچایا جاسکے۔ عام طور پر حکومت کو شکایت ملی ہے کہ فیس بازادائیگی اور اسکالر شپ کی عدم اجرائی کے سبب کالجس کی جانب سے طلبہ کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ کئی طلبہ کے سرٹیفکیٹس کالجس کی جانب سے روک دیئے گئے۔ جگدیش ریڈی نے ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتی طلبہ کیلئے اسکالر شپ اور فیس بازادائیگی کی اجرائی کے بارے میں تفصیلات حاصل کی۔ انہوں نے عہدیداروں پر واضح کیا کہ حکومت اسکیمات پر عمل آوری میں سنجیدہ ہے۔ اسی دوران ڈائرکٹر اقلیتی بہبود ایم جے اکبر نے ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس کا اجلاس طلب کیا اور ہر ضلع میں اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لیا۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ حکومت کی جانب سے ہر ضلع کو مقرر کردہ نشانہ کی تکمیل پر توجہ مرکوز کریں۔ انہوں نے کہا کہ درخواستوں کی جانچ اور یکسوئی کے کام میں تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود نے شادی مبارک، اوورسیز اسکالر شپ اسکیم، فیس باز ادائیگی اور پوسٹ میٹرک اسکالر شپ اسکیمات کی تفصیلات حاصل کیں اور درخواستوں کی یکسوئی کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ شادی مبارک اسکیم کیلئے درخواستوں کی جانچ میں تاخیر نہیں ہونی چاہیئے کیونکہ حکومت غریب خاندانوں کو شادی کے موقع پر امداد فراہم کرنے کے مقصد سے اس اسکیم کا آغاز کیا ہے۔ رقم کی اجرائی میں تاخیر سے اسکیم کے مقاصد کی تکمیل نہیں ہوپائے گی۔ انہوں نے اوورسیز اسکالر شپ کیلئے اضلاع سے موصولہ درخواستوں اور ان کی یکسوئی کے بارے میں رپورٹ طلب کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پہلے مرحلہ کے تحت 210 امیدواروں کو اسکیم کیلئے مستحق قرار دیا گیا تھا ان میں سے 180طلباء کو پہلی قسط کی رقم جاری کردی گئی ہے۔ بعض طلباء نے ابھی تک درکار دستاویزات داخل نہیں کئے ہیں جس کے سبب رقم کی اجرائی ممکن نہیں۔ کئی طلباء کی پہلی قسط کی رقم کے بلز ٹریژری کو روانہ کردیئے گئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دوسرے مرحلہ کے تحت ابھی تک 470 درخواستیں داخل کی گئیں۔ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس نے اسٹاف کی کمی کے سبب درخواستوں کی یکسوئی میں تاخیر سے واقف کرایا۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود نے بتایا کہ حکومت نے اقلیتی بہبود کیلئے 80 ارکان پر مشتمل اسٹاف کی منظوری دی ہے اور جلد ہی تقررات عمل میں آئیں گے۔ اس طرح ہر ضلع میں اقلیتی بہبود کیلئے اسٹاف کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ اسکالر شپ اور فیس باز ادائیگی کے تحت گزشتہ سال کے 90کروڑ روپئے کے بقایا جات کی اجرائی باقی ہے۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود نے ضلعی عہدیداروں سے کہا کہ وہ ان درخواستوں کی یکسوئی میں تاخیر سے گریز کریں۔ ضلعی عہدیداروں کو شادی مبارک اور اوورسیز اسکالر شپ اسکیم میں شامل کی گئیں نئی شرائط سے واقف کرایا گیا۔ شادی مبارک اسکیم میں لڑکی کے آدھار کارڈ کو لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ اوورسیز اسکالر شپ اسکیم میں والدین کے آدھار کارڈز کو پیش کرنا ضروری ہے۔

TOPPOPULARRECENT