Friday , August 18 2017
Home / دنیا / حکومت کی بے عملی گجرات فسادات 2002ء کی ذمہ دار

حکومت کی بے عملی گجرات فسادات 2002ء کی ذمہ دار

پولیس اور فوج کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بڑا مسئلہ، محکمہ خارجہ امریکہ کی سالانہ رپورٹ

واشنگٹن ۔ 14 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پولیس اور فوج کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہندوستان میں بہت بڑا مسئلہ ہیں۔ امریکہ نے آج اندیشہ ظاہر کیا کہ حکومت کی بے عملی 2002ء کے فرقہ وارانہ فسادات کی ذمہ دار تھی جس میں 1200 سے زیادہ افراد جن میں بیشتر مسلمان تھے، ہلاک ہوگئے تھے۔ محکمہ خارجہ امریکہ کی سالانہ انسانی حقوق رپورٹ 2015ء کا رسم اجراء وزیرخارجہ امریکہ جان کیری نے انجام دیا جس میں کہا گیا ہیکہ پولیس اور فوج کی زیادتیاں بشمول ماورائے عدالت ہلاکتیں، اذیت رسانی اور عصمت ریزی ہندوستان میں بہت بڑا مسئلہ ہیں۔ کرپشن بڑے پیمانے پر پھیلا ہوا ہے اور جرائم کے غیرمؤثر ردعمل کیلئے یہی ذمہ دار ہے۔ خواتین، بچوں اور درج فہرست ذاتوں و قبائل کے خلاف سماجی تشدد کے واقعات عام ہیں۔ صنف مذہبی وابستگی، ذات پات اور قبیلے کی بناء پر تشدد کیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق پر عمل کے بارے میں امریکہ کی سالانہ رپورٹ محکمہ خارجہ کے ہیڈکوارٹر پر جان کیری نے جاری کرتے ہوئے اس کے دیباچہ میں کہا کہ اکثر مقامات پر رپورٹ سنگین واقعات کی تفصیلات میں بیان کی گئی ہیں جس سے ہمارا یہ عزم اور مستحکم ہوجاتا ہے کہ بنیاد پرستوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جوابدہ بنایا جائے۔

امریکی کانگریس نے ہندوستان کے بارے میں انسانی حقوق کی اس سالانہ رپورٹ کو منظوری دے دی ہے۔ محکمہ خارجہ امریکہ نے کہا کہ گجرات فسادات کے مہلوکین کو تاحال انصاف حاصل نہیں ہوا۔ سماجی معاشرہ کے کارکن مسلسل گجرات حکومت کی خاطی افراد کو مجرم قرار دینے کے سلسلہ میں بے عملی پر تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں جس کے نتیجہ میں 1200 سے زیادہ افراد بیشتر مسلمان ہلاک ہوئے تھے۔ اپنی رپورٹ میں محکمہ خارجہ امریکہ نے الزام عائد کیا کہ جواب دہی کا فقدان اور تمام سطحوں پر حکومت کا غلط کردار ہنوز جاری ہے جو بڑے پیمانے پر لوگوں کو جوابدہی کا خوف نہ ہونے کا ذمہ دار ہے۔ علحدگی پسند شورش پسند اور دہشت گرد جموں و کشمیر و شمال مشرقی ہند کی ریاستوں میں سرگرم ہیں۔ ماوسٹوں کی پٹی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بشمول فوجیوں، پولیس، سرکاری عہدیداروں اور بے قصور شہریوں کی ہلاکتیں واقع ہوتی ہیں۔ شورش پسند بے شمار اغواء، اذیت رسانی، عصمت ریزی، دھمکیاں دے کر رقم کی وصولی اور بچوں کو سپاہی بنانے کے ذمہ دار ہیں۔ دیگر انسانی حقوق کے مسائل کے بارے میں رپورٹ میں لاپتہ ہوجانے، قیدخانوں کے تباہ کن حالات اور من مانے گرفتاریاں اور حراست میں رکھنا مقدمہ چلائے بغیر طویل عرصہ تک قید وغیرہ شامل ہیں۔ رپورٹ کے بموجب عصمت ریزیاں، گھریلو تشدد، جہیز سے متعلق اموات، عزت کے لئے ہلاکتیں، جنسی ہراسانی اور خواتین سے تعصب دیگر سنگین سماجی مسائل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہیکہ بچوں کا استحصال کیا جاتا ہے اور بچپن کی شادیاں بھی عام ہیں۔ شہری معاشرہ کے نمائندے ایک تخمینہ کے بموجب 139 فرقہ وارانہ تشدد کے معاملات میں بنگلور (کرناٹک) میں جنوری سے اگست تک ملوث رہ چکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT