Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت کی خود روزگار اسکیم کے مثبت نتائج

حکومت کی خود روزگار اسکیم کے مثبت نتائج

اقلیتوں کو آبادی کے لحاظ سے مزید نمائندگی کی ضرورت ، موٹر کال اسکیم سے جوڑا جائے

حیدرآباد /9 نومبر ( سیاست نیوز ) شہر کے نوجوان بے روزگار طبقہ کو خود مختار بنانے کیلئے شروع کردہ اسکیم کے بہترین نتائج برآمد ہوئے ۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی جانب سے شروع کردہ اسکیم ’’ اونر کم ڈرائیور ‘‘ ڈرائیور کو مالک بنانے کی اسکیم کے تحت جملہ 988 درخواستوں کو منظوری دی گئی اور انہیں مختلف دفاتر اور ایرپورٹ سے بھی جوڑ دیا گیا تاکہ نفع بخش کاروبار کے ذریعہ اسکیم کو کامیاب بنایا جائے ۔ تاہم گریٹرحیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی جانب سے شروع کردہ اس اسکیم میں شہر میں آبادی اور اس کے تناسب کے لحاظ سے طبقہ داری سطح پر نمائندگی کو نظر انداز کردیا گیا اور تقریباً 40 فیصد مسلم آبادی والے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں صرف 10 فیصد مسلم طبقہ کو نمائندگی دی گئی اور 44 مسلم امیدواروں کو مراعات دی گئی ۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد گریٹر حیدرآباد حدود میں نوجوانوں کو روزگار سے مربوط کرنے کیلئے ریاستی حکومت نے بہترین اقدام کیا اور عمل آوری میں بھی تیزی کے ساتھ اقدامات کئے جس کے موثر نتائج برآمد ہوئے ۔ تاہم دوسری طرف آبادی کے لحاظ سے تناسب اور نمائندگی نہ دینے اور نظر انداز کرنے کے الزامات پائے جاتے ہیں ۔ ایک آر ٹی آئی کارکن کی جانب سے قانون حق معلومات کے تحت حاصل کردہ اطلاعات کے مطابق پہلے دو مرحلوں میں اس اسکیم کی عمل آوری کی گئی ۔ سال 2014 ستمبر میں اس اسکیم کو رائج کیا گیا اور اس اسکیم کے پہلے مرحلہ کے تحت 272 اور دوسرے مرحلہ کے تحت 716 کل 988 درخواستیں وصول ہوئی تھی ۔ اس اسکیم کو ایس سی ایس ٹی اور بی سی اور میناریٹیز کیلئے شروع کیا گیا اور تعلیمی قابلیت کے تحت گریجویشن کو لازمی کرتے ہوئے سبسیڈی کا موقع دیا گیا ۔ میناریٹیز کے علاوہ دیگر طبقات نے مختلف کارپوریشنوں سے سبسیڈی حاصل کی اور اسکیم کامیاب انداز سے جاری ہے اور اس کے بہترین نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ تاہم شہر کی آبادی اور آبادی کے تناسب کے لحاظ سے اسکیم کے آئندہ مراحل میں مسلم اقلیتی بے روزگار نوجوانوں کو موقع فراہم کیا جاتا ہے تو حکومت کے اقدامات کی بھرپور تائید و ستائش ہوگی ۔ چونکہ میناریٹی فینانس کارپوریشن کے ذریعہ آٹوز کی اسکیم کا کوئی فائدہ نظر نہیں آیا اور اقلیتی نوجوانوں کو بھی آٹوز کے بجائے کاروں کی اسکیم سے جوڑا جائے اور موثر انداز میں فائدہ پہونچایا جائے تو بہتر ہوگا ۔ شہر میں ان دنوں ٹیکسی اور کیاب سرویس کو آٹوز کی بہ نسبت زیادہ اہمیت دی جارہی ہے ۔ ایسی صورت میں کاروں کی اسکیم سے فائدہ پہونچانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے اور حکومت کو اس اسکیم کو عمل آوری کیلئے سنجیدگی سے اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ مسلم اقلیت کی فلاح و بہبود کیلئے یہ اقدام مثالی ہوگا ۔
ڈرائیور کم اونر اسکیم

TOPPOPULARRECENT