Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت کی سبسیڈی قرض اسکیم، درخواستوں کی جانچ کا آغاز

حکومت کی سبسیڈی قرض اسکیم، درخواستوں کی جانچ کا آغاز

ایک لاکھ قرض کے درخواستوں کا جائزہ، 8200 درخواست گذاروں کو قرض کی اجرائی کا نشانہ
حیدرآباد۔/2اپریل، ( سیاست نیوز) اقلیتی فینانس کارپوریشن کی سبسیڈی سے مربوط قرض اسکیم کیلئے پہلے مرحلہ میں ایک لاکھ روپئے تک کی درخواستوں کی جانچ کا آغاز کیا جارہا ہے تاکہ غریب افراد کو سبسیڈی اور قرض حاصل ہوسکے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے اقلیتی فینانس کارپوریشن کو ہدایت دی کہ وہ ایک لاکھ روپئے تک قرض سے متعلق درخواستوں کی جانچ کا آغاز کریں اور اہل درخواست گذاروں کیلئے درکار بجٹ سے حکومت کو واقف کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کیلئے ریاست میں 8200 افراد کو قرض جاری کرنے کا نشانہ مقرر کیا ہے لیکن موصولہ درخواستوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ 60ہزار ہے۔ اس قدر زائد درخواستوں میں سے مستحق امیدواروں کا انتخاب کرنا آسان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلہ میں انتہائی غریب خاندانوں کو ایک لاکھ روپئے تک قرض کی فراہمی کا فیصلہ کیا گیا اور بہت جلد درخواستوں کی جانچ کا آغاز ہوگا۔ مستحق امیدواروں کی علحدہ فہرست تیار کی جائے گی اور اس کیلئے  درکار بجٹ کا تخمینہکیا جائے گا تاکہ حکومت کی جانب سے منظورہ بجٹ سے سبسیڈی کی اجرائی کا جائزہ لیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ زائد بجٹ کی ضرورت کی صورت میں حکومت سے نمائندگی کی جائے گی۔ سکریٹری نے بتایا کہ بعض گوشوں سے شکایات ملی ہیں کہ درخواست گذاروں کو پروسیڈنگ لیٹرس جاری کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ درخواستوں کی جانچ سے قبل اس طرح کے لیٹرس کی اجرائی بے معنی ہے اور اس طرح کے لیٹرس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے پروسیڈنگ لیٹرس کی اجرائی کے سلسلہ میں کارپوریشن کے بعض ملازمین کی جانب سے رقومات کی وصولی کی شکایات کا جائزہ لینے کا تیقن دیا۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں کو ابھی تک نشانہ الاٹ نہیں کیا گیا ایسے میں پروسیڈنگ لیٹرس قرض کی منظوری کی ضمانت نہیں۔ انہوں نے درخواست گذاروں سے اپیل کی کہ  وہ پروسیڈنگ لیٹر کے جھانسہ میں آکر بھاری رقومات دینے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ قرض اسکیم کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے اس پر عمل آوری کا ایکشن پلان طئے کیا جائے گا۔ جاریہ سال تلنگانہ حکومت نے اس اسکیم کے تحت 10لاکھ روپئے تک قرض کی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 5 لاکھ روپئے بطور سبسیڈی جاری کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن اور اس کے ضلعی دفاتر میں درمیانی افراد کے رول یا ملازمین کی ملی بھگت کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT