Wednesday , August 23 2017
Home / مضامین / حکومت کی سردمہری اور عدلیہ کی فعالیت

حکومت کی سردمہری اور عدلیہ کی فعالیت

غضنفر علی خان

کسی بھی جمہوریت میں وہاں کی عاملہ، مقننہ، عدلیہ، صحافت اس کے بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ ہماری جمہوریت میں بھی یہ تینوں ادارے بحسن و خوبی کام کررہے ہیں۔ نہ کبھی عاملہ نے یہ محسوس کیا کہ عدلیہ ضرورت سے زیادہ سرگرمی دکھا رہا ہے لیکن آج کل ملک میں یہ بحث شروع ہوگئی ہیکہ عدلیہ کی غیرمعمولی سرگرمیوں کی وجہ سے عاملہ (جس سے عام طور پر مراد حکومت وقت ہوتی ہے) یہ محسوس کررہی ہیکہ عدلیہ اپنی حد سے زیادہ ملک کے مسائل میں مداخلت کررہا ہے۔ اس لئے وزیرفینانس ارون جیٹلی نے کہا کہ ’’اپنی غیرمعمولی فعالیت اور سرگرمیوں کے دائرہ کو سمیٹتے ہوئے عدلیہ کو عاملہ کے ساتھ کوئی لکشمن ریکھا‘‘ کھینچنی چاہئے۔ کئی مسائل جن پر عدلیہ نے دوٹوک رائے ظاہر کی جس کی وجہ سے یہ احساس سیاست دانوں میں پیدا ہوا کہ اختیارات کے استعمال کی اس دوڑ میں عدلیہ ہماری عاملہ حکومت پر سبقت نہ لے جائے۔ یہ بے بنیاد خیال ہے۔ عدلیہ کے رول کا جائزہ لینے سے پہلے عاملہ کے طرزعمل کے تجزیہ کی ضرورت ہے۔ یہ صحیح ہیکہ دونوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم متوازن ہونی چاہئے لیکن جہاں عاملہ اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرنے لگتی ہے یا جہاں عوامی مسائل کو نظرانداز کرکے عوامی ضروریات کو پس پشت ڈال کر عاملہ کام کرنے لگے تو وہاں جمہوریت کی بقاء کی خاطر عدلیہ ہی کو آخرکار آگے آنا پڑتا ہے۔ عدلیہ ایک منظم ادارہ ہے جبکہ عاملہ ایک غیرمنظم ادارہ ہے۔ عدلیہ میں شمولیت کیلئے بنیادی تعلیمی قابلیت ہر مرحلہ پر ضروری ہے جبکہ جمہوریت میں کوئی بھی شخصیت کسی وزارتی عہدہ پر فائز ہوسکتا ہے۔ کسی عدالت کے جج بننے کے وسیع تجربہ ضروری ہوتا ہے لیکن سیاست داں بننے کیلئے کسی ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کوئی شخص ڈگری حاصل کئے بغیر وکالت نہیں کرسکتا۔ کسی سیاسی عہدہ کیلئے کوئی ڈگری کا لزوم نہیں ہے۔ تعلیمی امور سے قطعی ناواقف مرد یا عورت وزیرتعلیم بن سکتی ہے جبکہ عدلیہ میں کسی منصب پر فائز ہونے کیلئے شرائط ہوتی ہیں۔ آج پارلیمان میں کیا ہورہا ہے ہمارے عوامی نمائندے کس طرح سے کس انداز میں ایک دوسرے سے الجھ پڑتے ہیں۔ کسی عدالت میں جج کے سامنے کوئی وکیل اپنے حدود پار نہیں کرسکتا۔   عدالتوں میں ایک نظم و ضبط ہوتا ہے۔ ایسا کوئی ڈسپلن عدلیہ کے ایوانوں میں نہیں پایا جاتا۔ خصوصاً آج کے سیاسی ماحول میں جو ابتری پیدا ہوگئی ہے اس کی کوئی مثال ملنی دشوار ہے۔ عوام ان کے مسائل پر برسوں کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ اب حال کی ہی بات لیجئے کیسے کیسے سنگین اور جان لیوا مسائل کا ہندوستانی قوم کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ملک کی کسی ریاست کی اسمبلی یا لیجسلیٹیو کونسل میں کیا کبھی ان مسائل پر خلوص نیت سے سنجیدہ بحث ہوتی ہے۔ شوروغل بعض اوقات تو مار پیٹ کے واقعات بھی ہوتے ہیں۔ عوام ٹی وی پر ان مناظر کو دیکھ کر حیرت زدہ ہوجاتے ہیں کہ یہ کیسے نمائندے ہیں جو اصل بات کو چھوڑ کر اپنی تنخواہوں میں دگنا اضافہ کرنے کیلئے پارلیمنٹ میں زمین و آسمان کے قلابے ملادیتے ہیں لیکن روزی روٹی کو پانی کی ایک ایک بوند کیلئے ترستے ہوئے عوام کے بارے میں نہ تو کوئی بحث کرتے ہیں اور نہ عوامی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس جمہوریت میں عاملہ اتنی نکمی و ناکارہ ہوجائے وہاں کا عدلیہ اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے مداخلت کرتا ہے تو اس میں کیا مضائقہ ہے اس پر کیوں ہمارے سیاستداں پریشان ہورہے ہیں اور عدلیہ پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ اپنی حدیں پار کررہا ہے یا Over Teach کررہا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ دستور میں عدلیہ اور عاملہ و مقننہ کے دائرہ اختیارات کو واضح طور پر طئے کردیا گیا ہے لیکن اس وقت صورتحال ہ ہیکہ حکومت (عاملہ) کچھ نہیں کرنا چاہتی۔ عوامی مفادات کو نظرانداز کرنا گویا سیاستدانوں کی پہچان بن گئی ہے۔ اس صورت میں ان مفادات کا تحفظ کون کرے گا اگر عدلیہ مداخلت کرتے ہوئے عاملہ کے دائرہ اختیارات کی ازسرنو شناخت کرتا ہے۔ عاملہ کو یاد دلاتا ہیکہ وہ جمہوریت میں عوام کے حاکم نہیں بلکہ خادم ہے تو اس کو کسی بنیاد پر عدلیہ کے دائرہ کار میں مداخلت کا نام دیا جاسکتا ہے کیا موجودہ دور میں ایسے مسائل نہیں ہیں جو برسوں سے اپنے حل کیلئے ترس رہے ہیں۔ کیا یہ درست نہیں ہیکہ عاملہ کے نمائندے خصوصاً ہمارے ارکان پارلیمنٹ صرف سر پھٹول کررہے ہیں۔ ایک ایسے وقت جبکہ 36 کروڑ ہندوستانی عوام خشک سالی کی لپیٹ میں ہیں۔ پارلیمنٹ میں ساری کارروائی صرف ان بے سہارا عوام کی مدد کرنا ضروری نہیں ہے۔ خشک سالی سے دھرتی کا سینہ شق ہوگیا ہے اور ایسے بعض مقامات پر جہاں پانی کمیاب و نایاب ہوگیا ہے کسی وزیر کے عارضی دورہ کیلئے ہیلی پیاڈ بنانے کیلئے لاکھوں لیٹر پانی ضائع نہیں کیا جاتا ہے یا پھر کرکٹ کے سلسلہ میں آئی پی ایل میچس کھیلنے کیلئے سبز و شاداب کرکٹ میدان کیلئے ہزاروں لاکھوں لیٹر پانی استعمال کرنا جائز ہے۔ کیا ملک کے باشندے یہ محسوس نہیں کریں گے کہ کرکٹ حکومت کو ان کی جان و مال سے زیادہ عزیز ہے اور اگر ان حالات میں عدالت یہ حکم دیتی ہیکہ فلاں ریاست میں سوکھے کی صورتحال اتنی سنگین ہیکہ وہاں عوام کو پہلے پانی فراہم کرنا ضروری ہے۔ کھیل کود بعد میں بھی ہوسکتا ہے کیا عدلیہ نے یہ حکم دے کر عوام کے ساتھ انصاف نہیں کیا ہے۔ حکومت کو اپنی ترجیحات بدلنی چاہئے۔ کیا کس ریاست میں منتخبہ حکومت کو ہٹا کر صدر راج لاگو کردینا درست ہے؟ اور اگر عدلیہ یہاں کی سابقہ حکومت کو بحال کرنے کیلئے دستوری طریقہ کار پر عمل کرے اور مقامی اسمبلی میں حکومت کے دعویدار کو اپنی پانی تائید اور طاقت کا مظاہرہ کرنے کیلئے کیسے نتیجہ کا دو عدالت ایک دن بعد مہربند لفافہ میں فیصلہ صادر کرے تو کیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہیکہ عدلیہ نے فعالیت یا actiuism کا مظاہرہ کیا۔ آخر عاملہ کس لکشمن ریکھا کی بات کررہی ہے۔ اس کو کیسے یہ حق مل گیا کہ وہ عدلیہ کو مشورہ دے کہ وہ اپنے اختیارات کی حد متعین کرے۔ اگر عدلیہ نے عوامی مسائل کی یکسوئی کیلئے کام نہ کیا ہوتا تو آج حالات قابو سے باہر ہوجاتے۔ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ہی عدالتوں کو ایسے معاملات میں بھی فیصلہ صادر کرنے پڑ رہے ہیں جن کا تعلق عاملہ سے ہے۔ اگر ایسا عدالتوں نے نہیں کیا ہوتا تو ملک کی صورتحال خدانخواستہ پوری طرح بے قابو ہوجاتی۔ عدلیہ کی طرح صحافت بھی جمہوریت کا ایک اہم ستون ہے۔ آج اگر عاملہ یہ محسوس کررہا ہے کہ عدلیہ اپنے حدود سے تجاوز کررہا ہے تو کل یا آئندہ کبھی صحافت پر بھی ایسا ہی کوئی الزام عائد کیا جاسکتا ہے۔ صحافت تو اور زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ اگر جمہوری اداروں کی کارکردگی پر روک لگانے کی یہ کوشش ایسے ہی جاری رہی تو پھر آج  عدلیہ اور کل صحافت اس کے بعد دیگر جمہوری اداروں کی بقاء کے سامان ہی ختم ہوجائیں گے۔ 5 ماہ قبل خود بی جے پی کے سینئر لیڈر ایل کے اڈوانی نے کہا تھا کہ ملک میں حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور انہوں نے اس خدشہ کا بھی اظہار کیا تھا کہ کوئی سطح پر ایمرجنسی نافذ ہوسکتی ہے یقینا حالات اسی سمت اشارہ کررہے ہیں کہ بی جے پی کی موجودہ حکومت رفتہ رفتہ انفرادی حقوق کو پامال کررہی ہے اور اتنی ہی تیزی کے ساتھ جمہوری اداروں کے گریبان تک اس کے ہاتھ بڑھ رہے ہیں۔ عدلیہ اور جمہوریت کی حفاظت کرنے والے تمام اداروں کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے ورنہ ہماری مضبوط جمہوریت بھی خدا نہ کرے شکار ہوسکتی ہے۔ جمہوری طاقتوں کے اتحاد کی آج جتنی ضرورت محسوس ہورہی ہے پہلے کبھی محسوس ہوئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT