Monday , September 25 2017
Home / مضامین / حکومت کی لوٹ کھسوٹ

حکومت کی لوٹ کھسوٹ

پٹرول کی بارہ روپئے آٹھ آنے خریدی 60 روپئے فی لیٹر فروخت

محمد ریاض احمد
عالمی مارکٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں خطرناک حد تک کمی نے عالمی معیشت کو پھر ایک بار سال 2008 کی بھیانک صورتحال کی جانب ڈھکیل دیا ہے ۔ اُس وقت دنیا کے بیشتر ممالک بشمول امریکہ کو معاشی انحطاط نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا نتیجہ میں کئی حکومتیں عوامی غیض و غضب کا شکار ہو کر اپنا نام و نشان مٹاچکی تھیں ۔ سال 2008 میں معاشی انحطاط کے بعد پٹرول کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ ہوا تھا اور ایک مرحلہ پر عالمی مارکٹ میں اس کی قیمت 140 ڈالر فی بیارل تک پہنچ گئی تھی ۔ یہاں تک کہ جون 2014 میں عالمی مارکٹ میں خام تیل کی قیمت 115 ڈالرس فی بیارل ریکارڈ کی گئی  اس کا مطلب یہ ہوا کہ 2014 میں بھی تیل کی قیمت مستحکم رہی ۔ تاہم 2015 کے آغاز کے ساتھ ہی تیل کی عالمی قیمتوں میں تیزی کے ساتھ گراوٹ آتی رہی نتیجہ میں گذشتہ سال اس کی قیمت فی بیارل 50 ڈالرس تک محدود ہو کر رہ گئی ۔ سال 2015 کے آخری ماہ یعنی ڈسمبر میں قیمتوں میں اور کمی آئی اور عالمی مارکٹ میں 36 ڈالر فی بیارل کے حساب سے خام تیل فروخت کیا جانے لگا ۔اب  حال یہ ہے کہ نئے سال کی آمد نے ساری دنیا کو خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا پیغام دیتے ہوئے تشویش میں مبتلا کردیا ہے ۔ عالمی مارکٹ میں پٹرول کی قیمت تقریباً 30 ڈالرس فی بیارل تک پہنچ گئی ۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر تیل کی پیداوار اس کی سربراہی اور قیمتوں کے تعین پر نظر رکھنے والے اداروں اور ماہرین کے خیال میں آنے والے ماہ بلکہ دنوں میں خام تیل کی قیمت 18 ڈالرس فی بیارل تک پہنچ سکتی ہے۔ آپ کو یہ بتادیں کہ ایک بیارل 159 لیٹر پٹرول پر مشتمل ہے ۔ اب یہ سوالات ابھرنے لگے ہیں کہ آخر خام تیل کی قیمتوں میں خطرناک حد تک کمی کیوں ہوتی جارہی ہے ؟ کہیں یہ عالمی سازش کا حصہ تو نہیں ؟ کچھ خاص ممالک کی معیشت کو زوال سے دوچار کرنے کیلئے تو یہ کھیل نہیں کھیلا جارہا ہے ؟ ان سوالات کے جوابات کیلئے ہمیں عالمی و علاقائی صورتحال ، ڈالرس کی قدر اور چینی حکومت کے اقدامات کے ساتھ ساتھ دنیا میں تیل کی پیداوار میں سرفہرست ممالک کے حالات کا بغور جائزہ لینا ہوگا ۔ سب سے پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے سب سے زیادہ نقصان کن ممالک کا ہوگا؟ تیل کی پیداوار کے لحاظ سے روس دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے جو یومیہ 10.8 لاکھ بیرل خام تیل کی پیداوار کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ اس کے استعمال میں عالمی سطح پر اُسے 5واں مقام حاصل ہے ۔ وہاں صارفین یومیہ 3.493 ملین بیرل تیل استعمال کرتے ہیں ۔ بعض گوشوں کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ روس کی معیشت تباہ و برباد کرنے اور اسے عالمی سطح پر کمزور بنانے کی خاطر امریکہ اور سعودی عرب تیل کی قیمتوں میں جان بوجھ کر کمی کرتے جارہے ہیں ۔ اس سلسلہ میں سازشی نظریہ پر یقین رکھنے والوں کا دعوی ہے کہ یوکرین مسئلہ پر روس اور امریکہ کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے ۔ امریکہ اور اس کے حلیف اس ملک کو طاقت اور جنگ و جدال کے ذریعہ حل کرنے کی بجائے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی لاتے ہوئے روس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ اس نظریہ میں کچھ سچائی اس لئے نظر آتی ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے علاوہ بیشتر یوروپی ملک شام میں بشار الاسد حکومت اور ایران کی روس کی جانب سے کی جارہی تائید پر برہم ہیں ۔ لیکن ولادیمیر پوٹین شام و ایران کی مدد پر ڈٹے ہوئے ہیں ۔ دوسری طرف سعودی عرب اور ایران کے درمیان سخت تناؤ کی کیفیت پائی جاتی ہے ۔ سعودی عرب نہیں چاہتا کہ روس ایران کی کسی بھی طرح مدد کرے لیکن روسی قیادت ایران کی پشت پناہی کررہی ہے ان حالات میں ہوسکتا ہے کہ سعودی عرب نے بھی روس کی معیشت کو ٹھکانے لگانے کی خاطر امریکہ کے ساتھ ہاتھ ملالیا ہو ۔ ویسے بھی امریکہ ۔ سعودی عرب کے درمیان خوشگوار تعلقات پائے جاتے ہیں ۔ عالم اسلام میں سعودی حکومت کو ممتاز و منفرد مقام حاصل ہے ۔ سعودی عرب کے علاوہ دیگر خلیجی ممالک جہاں بشار الاسد حکومت کے خلاف عالمی طاقتوں کی جانب سے فوجی کارروائی کے حق میں ہیں وہیں وہ یمن ، بحرین ، شام ، عراق اور خود سعودی عرب میں ایران کی بالواسطہ مداخلت  اور ان ملکوں میں دہشت گردی کو بڑھاوا دینے پر برہم ہیں ۔ سعودی عرب نے حال ہی میں اپنی قیادت میں 34 مسلم ممالک کا جو عسکری اتحاد قائم کیا ہے اس میں ایران عراق اور شام کو شامل نہیں کیا جبکہ سعودی عرب کی زیر قیادت چند عرب ملکوں پر مشتمل اتحاد یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف لڑائی میں مصروف ہے۔ ایسے میں ایران کی معیشت کو تباہ کرنے کی سازش کے امکان سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ جہاں تک روس کا تعلق ہے امریکہ کئی دہوں سے اس کے پیچھے پڑا ہے دونوں ملکوں کے درمیان سردجنگ کا سلسلہ طویل عرصہ تک جاری رہا ہے ۔ امریکہ کی بدولت ہی افغانستان میں مجاہدین نے سوویت یونین کو بدترین شکست سے دوچار کیا اور اسی شکست کے نتیجہ میں سوویت یونین کا شیرازہ بکھر گیا ۔ سوویت یونین کے خلاف امریکہ نے جن مجاہدین کو میدان جنگ میں اتارا تھا وہی مجاہدین اب طالبان اور القاعدہ کی شکل میں امریکہ کیلئے مصیبت بنے ہوئے ہیں ۔ جہاں تک روس کی معیشت کا سوال ہے روس کی معیشت کا زیادہ انحصار تیل کی پیداوار اور اسکی فروخت پر بھی ہے ۔ واضح رہے کہ پچھلے 15ماہ کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں 70 فیصد کمی درج کی گئی ۔ اس بارے میں روسی  وزیراعظم میدویدوف نے وارننگ دی تھی کہ عالمی مارکٹ میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل گراوٹ کے باعث روس کو جاریہ سال اپنے بجٹ پر نظرثانی کرنی پڑے گی ۔ میدویدوف نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر تیل کی قیمت میں کمی کا ایسا ہی رجحان برقرار رہا تو اروس بدترین معاشی صورتحال کا شکار ہوجائے گا ۔ آپ کو بتادیں کہ روسی حکومت کی آمدنی کا نصف سے زیادہ حصہ تیل اور گیس پر محصولات سے حاصل ہوتا ہے ۔ روس کی مشکل یہ ہے کہ اس کے بجٹ کو صرف اس صورت میں متوازن و مستحکم رکھا جاسکتا ہے جب عالمی مارکٹ میں خام تیل کی قیمت 82 ڈالر فی بیارل ہو اس ضمن میں روسی وزیر فینانس نے حکومت کو باقاعدہ یاد دہانی کرائی ہے ۔ خام تیل کی قیمت میں غیر معمولی گراوٹ کیلئے مشرق وسطی میں امن و امان اور سلامتی کی بدتر صورتحال کو بھی ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے ۔ عراق اور شام میں آئی ایس آئی ایس نے زبردست تباہی مچائی ہے اس کے جنگجوؤں نے عراق اور شام میں موجود تیل کے اہم ذخائر و کنوؤں پر قبضہ کرلیا ہے اور تیل کی بلیک مارکٹنگ زوروں پر ہے ۔ بحرین ، یمن اور متحدہ عرب امارات کے علاوہ سعودی عرب کے داخلی معاملات میں ایران کی مداخلت بھی بڑھ گئی ہے ۔ داعش نے بھی عرب حکومتوں کو پریشان کررکھا ہے ۔ اب چلتے ہیں امریکی ڈالرس اور چین کے یو ان کے مقابلے کی طرف ، امریکہ کے توانائی کے ذخائر میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے ۔ نتیجہ میں ڈالرس مزید مستحکم ہوا  اس کے برعکس دنیا کی دوسری جنگ اور ایشیا کی سب سے بڑی معیشت چین کی کرنسی یوان کی قدر میں گراوٹ آئی ہے اور اہم بات یہ ہے کہ چینی کرنسی میں گراوٹ کے ساتھ ہی تیل کی قیمت میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ۔ اگر دیکھا جائے تو ڈسمبر 2008 میں عالمی معاشی بحران کے بعد تیل کی قیمت کی یہ سب سے کم ترین سطح ہے ۔ اس وقت تیل کی قیمت 32.40 ڈالرس فی بیارل ہوگئی تھی ۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ حد سے زیادہ سپلائی اور ریکارڈ پیداوار کے باعث بھی تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی ہورہی ہے ۔ جون 2014 تیل کی قیمتوں میں کمی کا آغاز ہوا اور اس میں اب تک 70 فیصد کمی آچکی ہے ۔ اس کمی کے نتیجہ میں وہ کمپنیاں اور ممالک زیادہ متاثر ہوں گے جن کی آمدنی کا زیادہ انحصار تیل کی فروخت پر ہے ۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ اور کئی دیگر ممالک میں تیل کی بے تحاشہ پیداوار ہورہی ہے لیکن ان کے پاس تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش نہیں جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی ہونے کے پورے پورے امکانات پائے جاتے ہیں ۔ عالمی سطح پر اب یہ بھی سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ سال 2015 میں عالمی بازار میں تیل کی قیمت  125 ڈالرس فی بیالر تھی لیکن اب تقریباً 30 ڈالرس فی بیارل ہونے سے کیا امریکہ اور سعودی عرب کو نقصان نہیں پہنچے گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی سے امریکہ اور سعودی عرب کے ہی نہیں

تقریباً ملکوں کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔ جبکہ تیل کیلئے دوسرے ملکوں پر انحصار رکھنے والے ہندوستان جیسے ممالک زیادہ متاثر نہیں ہوں گے ۔ تیل کی قیمتوں میں کمی سے سعودی عرب کا خسارہ تقریباً 100 ارب تک پہنچ گیا ہے اس ملک کی مجموعی آمدنی کا 77 فیصد حصہ تیل کی برآمد سے حاصل ہوتا ہے ۔ سعودی عرب کے لئے اچھی بات یہ ہے کہ اس کے پاس 700 ارب ڈالرس کے بیرونی زر مبادلہ کے ذخائر موجود ہیں اس لئے اس پر تیل کی قیمت میں کمی کے زیادہ اثرات مرتب نہیں ہوں گے ۔ اسی طرح جی سی سی کے دیگر ملکوں پر بھی اس کا زیادہ اثر نہیں ہوگا ۔ اس کے باوجود ان ملکوں کو تیل کی آمدنی پر انحصارکم کرتے ہوئے دوسرے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی ورنہ تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی ان کے بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا باعث بن سکتی ہے ۔ اب رہا ہندوستان کا سوال ۔ تیل کی قیمت میں کمی سے جہاں اس کا مالیاتی خسارہ کم ہوگا وہیں ایندھن پر دی جانی والی سبسیڈی میں 2.5 ارب ڈالرس تک کمی ہوگئی ۔ ہندوستان کی پریشانی یہ ہے کہ ہم اپنی 77 فیصد تیل کی ضرورت کی تکمیل کیلئے دوسرے ملکوں پر انحصار رکھتے ہیں ۔ ہمارے ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی رٹیل قیمتوں میں گذشتہ 6 برسوں میں 3 گنا اضافہ ہوا ہے جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں کہا ہے کہ ایک بیارل 159 لیٹرس پر مشتمل ہوتا ہے اور عالمی مارکٹ میں تیل کی موجودہ قیمت کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ فی بیارل خام تیل کی قیمت ہندوستانی کرنسی میں 2000 روپئے سے کم بنتی ہے ۔ اس طرح اکسائز ڈیوٹیز اور دیگر محصولات کے بغیر پٹرول کی قیمت فی لیٹر 12.50 روپئے ہوتی ہے ۔ لیکن دہلی اسمبلی انتخابات کے دوران پٹرول کی قیمتوں میں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے چیخ چیخ کر خود کو ہندوستان کیلئے خوش قسمت قرار دینے والے نریندر مودی کی حکومت عوام سے فی لیٹر پٹرول کی قیمت 60-63 اور ڈیزل کی قیمت فی لیٹر 48-50 روپئے وصول کررہی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مودی حکومت عوام کو پٹرول قیمت خرید سے چار گنا زیادہ قیمت پر فروخت کررہی ہے اس کیلئے اکسائز ڈیوٹیز (مرکز اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے عائد کئے جانے والے مختلف محصول کو ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے) مودی حکومت  یہ بھی دعوے کرتی ہے کہ اس نے پٹرول کی قیمت میں 20 اور ڈیزل کی قیمت میں 16 سے زائد مرتبہ کمی کی ہے لیکن وہ عوام کویہ نہیں بتاتی کہ عالمی مارکٹ سے اسے صرف بارہ روپئے آٹھ آنے میں ایک لیٹر پٹرول حاصل ہورہا ہے  ۔مودی نے مئی 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی اکسائز ڈیوٹی میں بے تحاشہ اضافہ کیا ہے ۔ اپریل 2014 میں پٹرول پر اکسائز ڈیوٹی 9.48 روپئے فی لیٹر تھی اس میں پانچ مرتبہ اضافہ کرتے ہوئے اسے 19.06 روپئے فی لیٹر کردیا گیا یعنی پٹرول کی قیمت سے زیادہ اکسائز ڈیوٹی عائد کی گئی ۔
اسی طرح ڈیزل پر اکسائز ڈیوٹی اپریل 2014 میں 3.65 فیصد فی لیٹر تھی اس میں بھی 5 مرتبہ اضافہ کرتے ہوئے اسے 10.60 فیصد کردیا گیا ۔ فی الوقت پٹرول 12.50 روپئے میں خریدا جارہا ہے لیکن تیل کمپنیوں کا منافع  ، پٹرول پمپ ڈیلرس کے کمیشن اور مختلف ٹیکسوں کے بعد اسے 60 روپئے سے زائد میں فروخت کیا جارہا ہے ۔ باالفاظ دیگر عوام سے حکومت ایک لیٹر پر 40 روپئے زیادہ وصول کررہی ہے ۔ حکومت اکسائز ڈیوٹی میں بار بار اضافہ کرتے ہوئے 20-25 ہزار کروڑ خسارہ کی پابجائی کررہی ہے ۔ اگر مودی حکومت عوام کی بہبود کے بارے میں سنجیدگی سے فکر کرے تو ہندوستان میں پٹرول فی لیٹر 20 روپئے اور ڈیزل 18 روپئے فروخت کیا جاسکتا ہے ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT