Tuesday , April 25 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت کی واحد اسکیم جس سے مسلمان بڑی حد تک محفوظ

حکومت کی واحد اسکیم جس سے مسلمان بڑی حد تک محفوظ

مویشی کے 5 کروڑ کاروباری متاثر، آمرانہ فیصلے سے عوام کو سزاء۔ محمد سلیم
حیدرآباد ۔ 26 نومبر (سیاست نیوز) وزیراعظم نریندر مودی کے فیصلے سے اگرچیکہ عوام کو مشکلات پیش آرہی ہیں اور کاروبار بھی متاثر ہوا ہے لیکن اس فیصلہ کا دوسرا پہلو دیکھا جائے تو حکومت کی یہ واحد اسکیم ہے جس سے مسلمان کم متاثر ہوا ہے۔ آج جمعیت القریش کے اجلاس سے مخاطب کرتے ہوئے صدر حیدرآباد مسٹر محمد سلیم نے کہا اور بتایا کہ اس سے قبل حکومت کی جانب سے کئی قوانین اور فیصلے کئے گئے جس کا راست اثر مسلمانوں پر پڑا۔ تاہم یہ ایک واحد اسکیم ہے جس سے مسلم طبقہ پریشان نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے اگریکلچرل لینڈ سیلنگ ایکٹ کو نافذ کیا تھا جس کے تحت ایک فرد کو 51 ایکر سے زائد اراضی رکھنے کی اجازت نہیں تھی جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے یہاں جو بڑی زمینات تھیں یا تو اسے حکومت نے چھین لیا یا پھر مقامی افراد کے قبضہ کی نذر ہوگئیں جس کے بعد وقفہ وقفہ سے ایسی ہی قوانین اور اقدامات ہوئے جس کے بعد اربن لینڈسیلنگ ایکٹ کے تحت شہری مسلمان زیادہ متاثر ہوئے۔ اس ایکٹ کا اثر بھی آفت کی طرح تھا جس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ شہری حدود میں 2 ہزار سے زائد اراضی کو کوئی شہری نہیں رکھ سکتا اور شہری  حدود میں جو بڑے مکانات تھے ان کی رونق کو بھی ختم کردیاگیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان قوانین کے بعد جاگیری منسوخی ایکٹ (جاگیر آبالوشن ایکٹ) کو لایا گیا جس کا راست نشانہ مسلمان بنے جس سے جاگیر اور جائیداد دونوں ہی ہاتھ سے نکل گئیں۔ اب جبکہ موجودہ حکومت نے نوٹ بندی کا نیا فیصلہ لیا ہے اس سے مسلمانوں کی آبادی کا 5 فیصد سے بھی کم طبقہ متاثر ہوگا جوکہ سماج میں دولتمند تصور کیا جاتا ہے لیکن مجموعی طور پر اس اسکیم سے زیادہ تر اکثریتی طبقہ کے افراد ہی متاثر ہوئے ہیں۔ محمد سلیم رکن قانون ساز کونسل نے کہا کہ پورے ملک میں مویشیوں کی اور گوشت کی صنعت پر منحصر 5 کروڑ افراد کو بھاری نقصان ہورہا ہے۔ پہلے مہاراشٹرا کی حکومت کے فیصلے سے کسان اور تاجرین پریشان ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے نوٹ بندی کے فیصلے کو آمرانہ فیصلہ قرار دیااور اس فیصلے کو احمقانہ فیصلہ قرار دیا۔ جناب محمد سلیم نے نوٹ بندی کے فیصلے پر اپنا شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کالے دھن کے نام عام آدمی کو پریشان کیا گیا جبکہ بیرون ملک سے ایک روپیہ کالادھن بھی ملک واپس نہیں لایا گیا۔ انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس فیصلے کو بے جا اختیارات کے استعمال کی ایک مثال قرار دیا اور یکطرفہ و عنانیت پر مبنی فیصلہ قرار دیا۔ انہوں نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ وہ ملک کی حقیقی ترقی اور ہر فرد کو خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں تو بیروزگاروں کو روزگار فراہم کریں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ملک میں مواقع نہ ہونے کے سبب بیرون ممالک اپنی صلاحیتیں صرف کررہے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو عام آدمی کے مسائل اور گھر گرہستی کے مسائل سے کوئی واقفیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام بھروسہ سے اچھے دنوں کے منتظر تھے۔ تاہم عوام کو وزیراعظم نے بہت اچھے دن دکھادیئے جو کبھی بھولے نہیں جائیں گے۔ انہوں نے نوٹ بندی کے طریقہ کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کے بعد حکومت آن لائن سسٹم کو بغیر رقمی سماج کے قائم کرنا چاہتی ہے جو ملک میں ناممکنات میں سے ایک ہے چونکہ لندن اور امریکہ کی طرز پر سماج تشکیل دینے کیلئے مساوی  انصاف ضروری ہے اور وزیراعظم کو یہ بات سمجھنا چاہئے کہ وہ ملک کے ہر حصے کے وزیراعظم ہیں چونکہ ملک کی آبادی کا 50 فیصد سے زائد حصہ بینکوں کے کاروبار سے دور ہے۔ انہوں نے بلیک منی کنٹرول کرنے کے نئے طریقہ کار پر تنقید کی کہا کہ آئی ٹی عہدیداروں کو ہراسانی کا ایک اور موقع فراہم کیا جارہا ہے۔ جمعیت القریش نے اس موقع پر جمعیت کے مرحوم قائدین کیلئے دعائے مغفرت کی اور شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ مولانا مفتی خواجہ شریف نے بھی دعائے مغفرت کی ۔ جمعیت القریش آل انڈیا جمعیت قریش کے خازن چودھری صالحین حیدرآباد کے نائب صدر عبدالغفور، جانی میاں کی والدہ صاحبہ، سبزی منڈی کے الحاج سلیم اور جلیل کو تعزیت پیش کی۔ جمعیت القریش کی کمیٹی میں تین نئے اراکین کو شامل کیا گیا جن میں منیر قریشی کو کوآرڈینیٹر کی ذمہ داری دی گئی جبکہ دیگر دو میں عتیق قریشی اور پالم روڈ کریم بھی شامل ہیں۔ اس موقع پر جمعیت القریش کے جنرل سکریٹری عبدالقادر، خازن اسمعیل ایڈوکیٹ نائب صدور محمود اور بشیر کے علاوہ جوائنٹ سکریٹریز، جمعیت القریش کے عہدیداروں و دیگر ممبران کی کثیر تعداد موجود تھی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT