Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / حکومت کی کارکردگی میں شفافیت اور جوابدہی کا احساس ناگزیر

حکومت کی کارکردگی میں شفافیت اور جوابدہی کا احساس ناگزیر

قانون حق معلومات کے تحت مطلوبہ اطلاعات کی فراہمی پر زور، مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کا خطاب
نئی دہلی ۔ 7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے آج کہا ہیکہ سرکاری عہدیداروں کو چاہئے ہر ایک آر ٹی آئی(قانون حق جانکاری) کی درخواست کا  جواب دیں۔ یہ نہ دیکھیں کہ درخواستگذار نے کس کی نوعیت کی اطلاعات طلب کی ہیں، یہ ادعا کیا کہ دورحاضر میں قانون شفافیت کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ سنٹرل انفارمیشن کمیشن کے سالانہ کنونشن کا افتتاح کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا ہیکہ حال ہی میں ان کی وزارت سے یہ دریافت کیا گیا کہ زومبی یاایلین حملہ کی صورت میں حکومت پاس کوئی ایکشن پلان ہے؟ جس پر بہت جلد جواب دینے کا تیقن دیا گیا ہے۔ انہوں نے انفارمیشن کمشنر اور پبلک انفارمیشن آفیسرس کے اجتماع کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عہدیداروں کو ہر نوعیت کی اطلاعات کا ادارک ہونا چاہئے اور کوئی اثرورسوخ سے متاثر ہوئے بغیر درخواستگذار کو مطلوبہ اطلاعات فراہم کردی جائے۔ اس مو قع پر راجناتھ سنگھ نے سنٹرل انفارمیشن کمیشن میں ای ۔ کورٹ سسٹم کا بھی افتتاح کیا، جس میں آن لائن درخواستوں اور شکایتوں کی یکسوئی کی جائے گی چونکہ کمیشن کے دفتر میں 1.5 لاکھ فائیلس کو ڈیجٹلائز کردیا گیا ہے اور جس کے پیش نظر یہ جدید نظام بروئے کار لایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے عوام جوابدہی اور انسداد رشوت ستانی کے معاملہ پر حکومت کو حساس ہونا چاہئے جس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے قانون حق جانکاری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ جہاں تک آر ٹی آئی کا تعلق ہے یہ عوام اور حکومت کے درمیان ایک مؤثر اور مضبوط رابطہ کا وسیلہ ہے۔ پالیسیوں کی تدوین میں عوام کی شمولیت میں اضافہ پر زور دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گڈس اینڈ سیلز ٹیکس (جی ایس  ٹی) پر 40 ہزار تجاویز وصول ہوئی ہیں۔ اگر مزید سسٹمس ڈیجٹل ہوجائیں گے تو شفافیت میں بہتری واقع ہوگی کیونکہ ایک مضبوط ڈیجٹل سوسائٹی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہیکہ دستور کے دفعہ 21 کے تحت عوام کو ان کے حقوق کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ وزیرداخلہ نے بتایا عوامی شکایتوں کی یکسوئی کیلئے ایک سنگل ونڈو سسٹم کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو مختلف دفاتر کے چکر لگانے کی زحمت نہ ہوسکے۔ وقت کا تقاضہ ہیکہ حکومت اپنے اندر شفافیت، ذمہ داری اور اسمارٹ کی صفات پیدا کرنے اور حکومت کی کارکردگی بھی عوام کی ضروریات کے مطابق ہو اور عوام کو جس نوعیت کی اطلاعات مطلوب ہو فی الفور فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ قبل ازیں کنونشن کو مخاطب کرتے ہوئے مملکتی وزیر برائے وزیراعظم دفتر ڈاکٹر جتندر سنگھ سے کہا کہ آر ٹی آئی درخواستوں کی  یکسوئی میںکوئی تاخیرنہیں کی جارہی ہے گوکہ نئی حکومت تشکیل پانے کے بعد سالانہ 2 لاکھ درخواستیں داخل کی جارہی ہے جس کی تعداد اب تک 8 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ فرضی آر ٹی آئی درخواستوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہیکہ سختی سے جانچ کی جائے کہ پیشکردہ درخواستیں مفاد عامہ کی ہے یا شخصی نوعیت کی ہیں۔ چیف انفارمیشن کمشنر رادھا کرشنا ساتھر نے سسٹم کے بیجا استعمال کی طرف توجہ دلائی اور بتایا کہ شخصی نوعیت کی 35 ہزار درخواستیں داخل کی ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT