Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / حکومت کی گمراہی ، عوام کو جواب طلبی کا حق

حکومت کی گمراہی ، عوام کو جواب طلبی کا حق

گنبدان قطب شاہی کی تزئین نو پر عملی جامہ کا اعلان حقیقت کے برعکس
مرکز سے کسی قسم کا کوئی کام شروع ہی نہیں ہوا ، کام کی انجام دہی کے بغیر ہی رپورٹ کی پیشکشی
حیدرآباد ۔ 29 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : حکومت عوام کو گمراہ کرے تو حکومت سے جواب کو طلب کرے ؟ مرکزی حکومت کی جانب سے بجٹ 2015-16 کے دوران گنبدان قطب شاہی کے تزئین نو کے کاموں کے آغاز کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس پراجکٹ کے متعلق ایک سال گزرنے کے بعد بھی کچھ نہیں کیا گیا ۔ حکومت ہند نے گنبدان قطب شاہی کی تزئین نو و آہک پاشی کے ساتھ ’ ڈپازٹ ورک ‘ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا گیا تھا کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے تحت موجود گنبدان قطب شاہی کو سیاحوں کے لیے پرکشش بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ مالی سال 2015-16 کے بجٹ کی پیشکشی کے دوران کئے گئے اس اعلان پر آج ایوان میں پیش کردہ دستاویزات میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اعلان کو عملی جامہ پہنایا جاچکا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ مرکزی حکومت نے جن کاموں کی انجام دہی و اختیار کئے جانے کا اعلان کیا تھا ان میں کوئی کام گنبدان قطب شاہی میں ابھی تک شروع ہی نہیں ہوپایا ہے بلکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلہ میں ابھی تک کوئی قطعی مشاورت بھی نہیں ہوئی ۔ مرکزی وزارت فینانس کی جانب سے سال گزشتہ کی بجٹ تقریر میں گنبدان قطب شاہی کے تذکرے سے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ حکومت اس تاریخی و تہذیبی ورثہ کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گی لیکن ایک سال گزرنے کے بعد کچھ کئے بغیر یہ رپورٹ پیش کردی گئی کہ 2015-16 مالی سال کی ابتداء میں جو اعلان کیا گیا تھا اس پر عمل آوری ہوچکی ہے ۔ حکومت تلنگانہ و آغا خان ٹرسٹ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تاحال مرکزی حکومت نے کوئی کام شروع نہیں کئے ہیں اور فی الحال جوکام اس تاریخی و تہذیبی عمارت کے تحفظ کے کام آغا خان ٹرسٹ کی جانب سے انجام دئیے جارہے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی حکومت نے سال گزشتہ بجٹ کے دوران گنبدان قطب شاہی کے سلسلہ میں جو اعلانات کئے تھے ۔ ان کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ کام کررہی ایجنسیوں اور ریاستی حکومت سے مرکز کے عہدیداروں کو معاہدہ کرنا پڑتا ہے لیکن متعلقہ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ابھی تک گنبدان قطب شاہی کے متعلق بجٹ میں کئے گئے اعلان پر کوئی یادداشت مفاہمت پر دستخط نہیں ہوئے ہیں لیکن آج جب سال گزشتہ کے اعلانات میں اس معاملہ کو مکمل قرار دئیے جانے پر سب حیرت زدہ ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT