Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت کے افطار و طعام کے لیے بجٹ کی عدم اجرائی

حکومت کے افطار و طعام کے لیے بجٹ کی عدم اجرائی

مساجد و عیدگاہوں کی آہک پاشی و مرمت بھی التواء کا شکار، مساجد کمیٹیوں کو مشکلات
حیدرآباد۔ 8۔ جون  ( سیاست نیوز) رمضان المبارک میں حکومت کی جانب سے ریاست کی 200 مساجد میں افطار کے اہتمام اور کھانے کے انتظام کے سلسلہ میں مکمل بجٹ ابھی تک جاری نہیںکیا گیا۔ اس کے علاوہ مساجد اور عیدگاہوں کی آہک پاشی اور مرمت کیلئے جاریہ سال حکومت نے ابھی تک بجٹ جاری نہیں کیا ۔ گزشتہ سال چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے رمضان پیکیج کا اعلان کیا تھا جس کے تحت گریٹر حیدرآباد کے حدود میں 100 مساجد اور اضلاع کی 100 مساجد میں دعوت افطار اور طعام کے انتظام کا فیصلہ کیا گیا ۔ ہر مسجد میں کم از کم 1000 افراد کے کھانے کے انتظام کیلئے فی مسجد دو لاکھ روپئے منظور کئے جائیں گے۔ چیف منسٹر کی جانب سے حیدرآباد میں ہونے والی دعوت افطار کے دن تمام مساجد میں افطار اور کھانے کا انتظام کیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ دو لاکھ افراد کو کپڑوں کا تحفہ پیش کیا جائے گا جن میں ایک لاکھ افراد گریٹر حیدرآبادکے حدود کے ہوں گے۔ یہ انتظامات تلنگانہ وقف بورڈ کے ذمہ کئے گئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دعوت افطار کیلئے 5 کروڑ اور کپڑوں کی تقسیم کیلئے 10 کروڑ روپئے مختص کئے گئے۔ تاہم ابھی تک صرف 7.5 کروڑ روپئے ہی جاری کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر سال ہر ضلع کو 50 لاکھ روپئے کے حساب سے 5 کروڑ روپئے جاری کئے جاتے ہیں تاکہ مساجد اور عیدگاہوں کی تعمیر و مرمت کا کام انجام دیا جائے ۔ وقف بورڈ کی جانب سے یہ رقم تقسیم کی جاتی ہے لیکن یہ رقم ابھی تک جاری نہیں کی گئی۔ اب جبکہ رمضان المبارک کا آغاز ہوچکا ہے ، بجٹ کی اجرائی میں تاخیر سے مساجد کی کمیٹیوں کو مشکلات کا سامناہے ۔ مساجد کمیٹیوں کی شکایات ہے کہ بجٹ کی عدم اجرائی سے آہک پاشی اور دیگر ضروری کام انجام نہیں دیئے جاسکے۔ جاریہ سال کپڑوں کے تحفے کے تحت ہر خاندان کو کرتا پائجامہ کا 5.5 میٹر کپڑا ، 6 میٹر کی ساڑی اور چوڑی دار کرتا پائجامہ معہ اوڑھنی تقسیم کی جائے گی ۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ نے بتایا کہ 15 رمضان تک کپڑوں کے پیکیج اضلاع کو پہنچادیئے جائیں گے جبکہ 20 رمضان سے حیدرآباد کی منتخب کردہ  مساجد کیلئے یہ پیکیج روانہ کئے جائیں گے ۔ چیف منسٹر کی سرکاری دعوت افطار کے موقع پر عوامی نمائندوں کی موجودگی میں کپڑوں کی تقسیم عمل میں آئے گی۔

TOPPOPULARRECENT