Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت کے بدلتے موقف کی وجہ سے بی سی کمیشن کو الجھن

حکومت کے بدلتے موقف کی وجہ سے بی سی کمیشن کو الجھن

پسماندہ طبقات کا دباؤ اور احتجاج کی دھمکی‘ سرمائی سیشن میں رپورٹ پیش کئے جانے کا امکان نہیں
حیدرآباد ۔ 16 ۔ جنوری (سیاست نیوز) مسلم تحفظات کے مسئلہ پر کے سی آر حکومت کے بدلتے موقف نے بی سی کمیشن کو الجھن میں مبتلا کردیا ہے ۔ حکومت نے کمیشن کو ہدایت دی تھی کہ وہ اسمبلی اجلاس کے دوران اپنی رپورٹ پیش کردے تاکہ جاریہ سیشن میں تحفظات کے سلسلہ میں کوئی موقف اختیار کیا جاسکے۔ اب جبکہ اسمبلی اجلاس کو صرف دو دن باقی ہے ، حکومت نے بی سی کمیشن کو رپورٹ کی پیشکشی کیلئے طلب نہیں کیا ہے ، جس سے کمیشن میں الجھن اور مایوسی کا ملا جلا ردعمل دیکھا گیا ۔ حکومت کی ہدایت پر بی سی کمیشن نے مسلم تحفظات کے فیصد میں اضافہ کیلئے عجلت میں عوامی سماعت کا اہتمام کیا اور رپورٹ کی تیاری شروع کردی ۔ حکومت چاہتی تھی کہ کمیشن اضلاع کا دورہ کئے بغیر ہی اپنی سفارشات حکومت کو پیش کردے۔ ماہرین قانون نے سابقہ تجربات کی بنیاد پر تجویز پیش کی تھی کہ کمیشن کو علحدہ سروے کے بغیر رپورٹ پیش کرنے سے گریز کرنا چاہئے تاکہ عدالت میں تحفظات کو کوئی خطرہ پیدا نہ ہو۔ کمیشن نے ٹاملناڈو میں 68 فیصد تحفظات کی فراہمی کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن رپورٹ پیش کرنے کی عجلت میں دورہ کو منسوخ کردیا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کو اب بی سی کمیشن کی رپورٹ حاصل کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ اس نے مسلم تحفظات کے حق میں اپنا فیصلہ تبدیل کرلیا ہے۔ اسمبلی کے سرمائی اجلاس کے بجائے آئندہ ماہ شروع ہونے والے بجٹ اجلاس میں اس بارے میں بل پیش کئے جانے کا امکان ہے ۔ کمیشن کے ذرائع نے واضح کیا کہ وہ رپورٹ کی تیاری کے ذریعہ حکومت کے بلاوے کے منتظر ہیں لیکن انہیں لمحہ آخر میں اطلاع دی گئی کہ رپورٹ میں ہوسکتا ہے کہ بعض تبدیلیاں کی جائیں۔ حکومت نے کمیشن سے خواہش کی ہے کہ وہ اپنی سفارشات میں اسمبلی میں قانون سازی اور قرارداد کی منظوری کو بیک وقت شامل رکھیں تاکہ حکومت کو فیصلہ کرنے میں سہولت ہو۔ حکومت کے اس غیر یقینی موقف اور بی سی کمیشن کی رپورٹ حاصل کرنے میں تاخیر کی وجوہات کے بارے میں پتہ کرنے پر حکومت کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ پسماندہ طبقات کے دباؤ کے آگے حکومت کو جھکنا پڑا اور اسمبلی میں قانون سازی کا فیصلہ موخر کردیا گیا ۔ پسماندہ طبقات نے مسلمانوں کے تحفظات کے فیصد میں اضافہ کی صورت میں ریاست گیر سطح پر ایجی ٹیشن کی دھمکی دی ہے۔ بی سی طبقات کا مطالبہ ہے کہ مسلمانوں کو بی سی زمرہ میں شامل کئے بغیر علحدہ زمرہ کے تحت تحفظات فراہم کئے جائیں۔ حکومت نے درجہ فہرست قبائل کے تحفظات کو بھی 6 سے بڑھاکر 12 فیصد کرنے کا وعدہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں قانون سازی کی ضرورت ہے۔ حکومت اگر صرف مسلمانوں کے تحفظات کے سلسلہ میں پیشرفت کرے گی تو اسے بیک وقت بی سی ، ایس سی اور ایس ٹی طبقات کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی سے وابستہ ان طبقات کے قائدین اور عوامی نمائندوں نے چیف منسٹر کو مشورہ دیا کہ وہ مسلم تحفظات کے سلسلہ میں عجلت پسندی سے گریز کریں کیونکہ دیگر طبقات کی مخالفت آئندہ انتخابات میں پارٹی کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT