Friday , August 18 2017
Home / اداریہ / حکومت کے دو سال کا تحفہ

حکومت کے دو سال کا تحفہ

مرکز میں نریندر مودی حکومت نے اپنے قیام کے دو سال مکمل کرلئے ہیں۔ دو سال کی تکمیل پر سارے ملک میں جشن کا اہتمام کیا گیا ۔ غیر معلنہ طور پر کئی تقاریب عوام کو کارناموں سے واقف کروانے کے نام پر منعقد کی گئیں۔ حکومت کے دو سال کی تکمیل کے موقع کو آئندہ سال یو پی میں ہونے والے انتخابات کی تیاریوں کے آغاز کے طور پر استعمال کیا گیا اور سہارنپور میں جلسہ منعقد کرکے وزیر اعظم نے ڈاکٹر س کی وظیفہ کی عمر کو بڑھا کر 65 سال کرنے کا اعلان بھی کردیا ۔ کئی مرکزی وزرا اور بی جے پی قائدین نے سارے ملک میں تقاریب منعقد کرتے ہوئے عوام سے رابطہ بنانے کی کوشش کی اور انہیں حکومت کے دو سال کی تکمیل کے کارناموں سے واقف کروایا ۔ یہ کارنامے صرف مرکزی حکومت کے نمائندوں یا بی جے پی قائدین ہی کو نظر ا ٓ رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ دو سال میں عوام کو ایک فیصد بھی راحت نصیب نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی ایسے کوئی کام انجام دئے گئے ہیں جن کے نتیجہ میں آئندہ وقتوں میں عوام کو کسی قدر راحت ملنے کی امید پیدا ہوتی ہو ۔ اب دو سال کی تکمیل کے موقع پر حکومت نے عوام کو ایک تحفہ بھی دیدیا ہے ۔ یہ تحفہ مزید مہنگائی کا ہے ۔ حکومت کے قیام سے قبل یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ بی جے پی کے اقتدار پر آنے کے 100 دن کے اندر بیرونی ممالک میں رکھے ہوئے کالے دھن کو واپس لایا جائیگا اور عوام کے کھاتوں میں لاکھوں روپئے جمع کروادئے جائیں گے ۔ اس کے علاوہ یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ مہنگائی پر بہت جلد قابو پالیا جائیگا ۔ یہ دونوں کام تو نہیں ہوئے بلکہ اس کے برخلاف اقدامات ہوئے ہیں۔ کارپوریٹ گھرانوں کو ہزاروں کروڑ روپئے کے قرض دئے جا رہے ہیں اور ہزاروں کروڑ روپئے قرض باقی رہنے والوں کو ملک سے فرار ہونے کا موقع دیا جا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ مہنگائی کے محاذ پر عوام کو حالات کی مار کھانے کیلئے چھوڑ دیا گیا ہے ۔ انہیں راحت پہونچانے کی سمت حکومت کی کوئی توجہ نہیں ہے بلکہ جہاں واقعی راحت پہونچائی جاسکتی ہے وہاں خود حکومت فائدہ حاصل کر رہی ہے اور عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ عوام کو راحت پہونچانے کی بجائے سرکاری خزانہ کو بھرنے کی نت نئی راہیں تلاش کی جا رہی ہیں ۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں جب عالمی سطح پر انتہائی مہنگائی تھی تو سارا کا سارا بوجھ عوام پر منتقل کردیا گیا اور یہ کہا گیا کہ قیمتوں کو بین الاقوامی مارکٹ سے مربوط کیا جا رہا ہے ۔ جب تک یو پی اے مرکز میں اقتدار پر رہی ان قیمتوں میں اتار چڑھاو دونوں کو بین الاقوامی مارکٹ سے مربوط رکھا گیا ۔ تاہم جب سے نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے حکومت اقتدار پر آئی ہے اس وقت سے حالانکہ مہنگائی کو تو بین الاقوامی مارکٹ سے جوڑا رکھا گیا ہے لیکن جب کبھی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی تھی اس وقت عوام کو راحت پہونچانے کی بجائے اکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کرتے ہوئے عوام کو اس راحت سے محروم کردیا گیا اور سرکاری خزانہ بھرنے پر توجہ دی گئی ہے ۔ حکومت کی ساری توجہ صرف خزانہ بھرنے پر ہی مرکوز ہے یہی وجہ ہے کہ مختلف اشیا اور خدمات پر نت نئے محاصل اور ٹیکسیس عائد کئے جا رہے ہیں اور جہاں کسی نہ کسی حد تک عوام کو راحت پہونچانے کا امکان دکھائی دیتا ہے وہاں حکومت اپنا خزانہ بھرنے میں جٹ جاتی ہے ۔ اب پٹرول ‘ ڈیزل اور غیر سبسڈی والے گیس سلینڈرس کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ۔ حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات سے علاج تک مہنگا ہوتا جا رہا ہے ۔ عوام کے روز مرہ کے استعمال کی اشیا کی قیمتیں الگ مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں۔ پٹرولیم اشیا کی قیمتوں میں اضافہ سے الگ ضرورت کی ہر شئے مہنگی ہوتی جا رہی ہے ۔ یہ در اصل نریندر مودی حکومت کے دو سال کی تکمیل کا تحفہ ہے جو عوام کو دیا گیا ہے ۔ حکومت کے نمائندوں ‘ مرکزی وزرا اور بی جے پی قائدین کو عوام میں اس تحفہ کا بھی ذکر کرنا چاہئے ۔

بی جے پی نے اقتدار حاصل کرنے سے قبل اعلان کیا تھا کہ سالانہ کروڑوں نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جائیگا ۔ اب تک دو سال میں کتنے روزگار دئے گئے اس کا کوئی تذکرہ حکومت نے نہیں کیا ہے ۔ حکومت نے عوامی فلاح و بہبود کیلئے کوئی بڑی اسکیم شروع نہیں کی ہے اور جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ صرف تشہیر کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ عوام کو سبز باغ دکھانے کا سلسلہ انتخابی مہم سے جو شروع ہوا تھا وہ آج بھی جاری ہے ۔ ان اعلانات ‘ وعدوں اور تیقنات پر عمل آوری ندارد ہے ۔ دو سال میں اگر کچھ کیا گیا ہے تو صرف سماج کے مختلف طبقات کے درمیان نفرت کو مزید پختہ کرنے کے اقدامات کئے گئے ہیں۔ ہندوتوا طاقتوں کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ فرقہ پرستوں اور فاشسٹوں کو بے لگام چھوڑ دیا گیا ہے اور جہاں تک عوام ہیں وہ حسب روایت حالات اور مہنگائی کی مار کھانے پر مجبور کردئے گئے ہیں۔ یہ روایت بی جے پی حکومت کیلئے بھی مہنگی ثابت ہوسکتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT