Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / حکومت کے مشورہ پر نوٹ بندی کیلئے آر بی آئی نے سفارش کی تھی

حکومت کے مشورہ پر نوٹ بندی کیلئے آر بی آئی نے سفارش کی تھی

جعلی نوٹ، دہشت گردی کو فنڈس کی فراہمی اور کالا دھن جیسے تین مسائل سے نمٹنے کی کوشش، پارلیمانی کمیٹی کو مکتوب

نئی دہلی 10 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) اس عام خیال کے برخلاف کہ حکومت نے نہیں بلکہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے نوٹوں کی منسوخی کا فیصلہ کیا ہے وہ حکومت ہی تھی جس نے 7 نومبر کو 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کی منسوخی کا آر بی آئی کو مشورہ دیا تھا۔ جس کے دوسرے ہی دن اس مرکزی بینک نے نوٹ بندی کی سفارش کی تھی۔ کانگریس کے لیڈر ایم ویرپا موئیلی کی زیرقیادت پارلیمنٹ کی محکمہ سے متعلق کمیٹی برائے فینانس کو 7 صفحات پر مشتمل اپنے نوٹ میں آر بی آئی نے کہا ہے کہ حکومت نے 7 نومبر 2016 ء کو اس (آر بی آئی) کو مشورہ دیا تھا کہ جعلی نوٹوں، دہشت گردی کو فنڈس کی فراہمی اور کالا دھن جیسے تین مسائل سے نمٹنے کے لئے ریزرو بینک کا مرکزی بورڈ 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کی منسوخی پر غور کرسکتا ہے۔ حکومت کے مشورہ پر غور کے لئے آر بی آئی کے مرکزی بورڈ کا اجلاس دوسرے ہی دن منعقد ہوا اور غور و بحث کے بعد مرکزی حکومت کو یہ سفارش کرنے کا فیصلہ کیا گیا کہ 500 اور 1000 روپئے کے کرنسی نوٹوں کی چند ہی گھنٹوں بعد 8 نومبر کو وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا اور 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کا چلن بند کردیا گیا۔ بعدازاں چند وزراء نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت نے صرف آر بی آئی کی سفارش پر عمل کی ہے۔ اس پارلیمانی کمیٹی کے نام اپنے نوٹ میں آر بی آئی نے مزید کہاکہ جعلی نوٹوں کے مسئلہ سے نمٹنے کے لئے بہتر سکیورٹی نظام کے ساتھ بھاری قدر کی نوٹوں کی نئی سیریز متعارف کرنے کے لئے گزشتہ چند سال سے کام جاری تھا۔

اس کے ساتھ ہی حکومت نے کالے دھن اور دہشت گردی جیسے مسائل سے نمٹنے کا فیصلہ کیا۔ آر بی آئی نے کہاکہ ’’انٹلی جنس اور انفورسمنٹ اداروں کی یہ رپورٹس تھیں کہ بھاری قدر کے نوٹ سے کالا دھن کے ذخیرہ کے لئے آسانی تھی اور ان نوٹوں کو دہشت گردی کے لئے فنڈس کی فراہمی کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے‘‘۔ نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’حکومت اور آر بی آئی نے یہ محسوس کیا تھا کہ نوٹوں کی نئی سیریز کی اجرائی کے ذریعہ ان تینوں مسائل سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے‘‘۔ سنٹرل بینک نے کہا ہے کہ قبل ازیں 7 نومبر 2014 ء کو اس نے افراط زر اور ادائیات میں سہولت کو ملحوظ رکھتے ہوئے 5000 اور 10,000 روپئے کے کرنسی نوٹ جاری کرنے کی تجویز بھی پیش کی تھی۔ نوٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے 2000 روپئے کے نوٹ جاری کرنے کا فیصلہ 18 مئی 2016 ء کو کیا تھا۔ آر بی آئی نے 27 مئی 2016 ء کو حکومت سے سفارش کی تھی کہ 2000 روپئے کے نئے نوٹ نئے ڈیزائن، نئے حجم، نئے رنگ اور عنوانات کے ساتھ جاری کئے جائیں۔ حکومت نے 7 جون 2016 ء کو حتمی منظوری دی جس کے ساتھ ہی طباعت گھروں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ نوٹوں کی نئی سیریز کی تیاری کے لئے کام شروع کریں۔

TOPPOPULARRECENT