Tuesday , October 24 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد آئی ٹی مرکز ، عوام بنیادی سہولتوں سے بھی محروم

حیدرآباد آئی ٹی مرکز ، عوام بنیادی سہولتوں سے بھی محروم

عوام کیا چاہتے ہیں
حیدرآباد آئی ٹی مرکز ، عوام بنیادی سہولتوں سے بھی محروم
وٹے پلی اور جہاں نما علاقوں کی حالت ابتر ، عہدیداروں کی بھی مسلسل لاپرواہی
حیدرآباد 15 ستمبر (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کی عالمی افق پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکز کی حیثیت سے شناخت کے باوجود آج بھی شہریان حیدرآباد بنیادی سہولتوں کی عدم موجودگی کی شکایات کررہے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حیدرآباد میں کہی جانے والی یہ مثل واقعی صحیح ہے کہ ’’حیدرآباد میں جینا اندر مٹی اوپر چونا‘‘ عموماً یہ مثال ظاہری رنگینیوں کو دیکھتے ہوئے کہی جاتی ہے لیکن پرانے شہر کے علاقہ وٹے پلی اور جہاں نما کا جائزہ لینے کے بعد یہ ایک حقیقت تصور ہونے لگتی ہے چونکہ شہر کے اِن علاقوں کی حالت انتہائی ابتر ہوچکی ہے اور شہر کے اِس علاقہ میں بسنے والے عوام بنیادی سہولتوں کی عدم موجودگی بالخصوص آبرسانی اور ڈرینج کے اُبلنے کے مسائل کا شکار ہیں جس کی متعدد شکایات کے باوجود متعلقہ محکمہ جات کی جانب سے اختیار کردہ مجرمانہ خاموشی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اِس علاقہ کے عوام کی شکایات حل کرنا عہدیداروں کی ذمہ داری نہیں ہے۔ جہاں نما سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ’’عوام کیا چاہتے ہیں‘‘ کے عنوان سے شروع کردہ  کالم کے لئے روانہ کردہ ایک تحریر میں بتایا کہ انھوں نے ڈرینج کے ابلنے کی شکایت متعلقہ محکمہ کو روانہ کی تھی اور آن لائن روانہ کردہ اِس شکایت کے جواب میں دو دن بعد بذریعہ ایس ایم ایس یہ کہا گیا کہ شکایت کو دور کردیا گیا ہے اور مسئلہ کو حل کرلیا گیا ہے جبکہ مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے۔ اِسی طرح کی صورتحال جہاں نما کے قریب واقع علاقہ وٹے پلی کی ہے جہاں عوام آبرسانی کے مسائل سے دوچار ہیں اور کئی مرتبہ منتخبہ عوامی نمائندوں کو متوجہ کروایا جاچکا ہے کہ اِس علاقہ میں آلودہ پانی سربراہ کیا جارہا ہے لیکن اس مسئلہ کے حل کے لئے نہ منتخبہ عوامی نمائندوں کی جانب سے توجہ دی گئی اور نہ ہی عہدیدار اِس مسئلہ کے حل کے لئے سنجیدہ نظر آرہے ہیں۔ عوام کی برہمی کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ عوام اس علاقہ کے قائدین کو واضح طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ آئندہ کسی بھی انتخابات میں جب تک یہ مسائل حل نہیں ہوتے اُس وقت تک ووٹ ڈالنے کے لئے وہ تیار نہیں ہوں گے۔ پرانے شہر کے علاقوں میں موجود مسائل کو حل کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ نہ صرف منتخبہ عوامی نمائندوں کو دلچسپی لینی ہوگی بلکہ عہدیداروں کو بھی سنجیدگی سے خدمات انجام دینی ہوگی چونکہ عہدیداروں میں موجود یہ غلط فہمی بڑی حد تک دور ہوتی جارہی ہے کہ پرانے شہر کے مکین رہائشی ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ بلدیہ کے متعلقہ محکمہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اِن علاقوں سے بھی بڑی حد تک ٹیکس وصول ہونے لگا ہے اِسی لئے اب مزید اِن علاقوں کو بنیادی سہولتوں سے محروم رکھتے ہوئے نظرانداز کیا جانا ناممکن ہوجائے گا۔ عوام اب عہدیداروں اور قائدین سے سوال کرنے لگے ہیں جس کا جواب اُنھیں کارکردگی سے دینا پڑے گا۔

TOPPOPULARRECENT