Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / حیدرآباد اور اضلاع میں طوفانی ہواؤں کے ساتھ موسلادھاربارش

حیدرآباد اور اضلاع میں طوفانی ہواؤں کے ساتھ موسلادھاربارش

دیڑھ گھنٹے میں75 ملی میٹربارش ، مسجد عثمانیہ کا زیرتعمیر مینار منہدم،شارٹ سرکٹ سے دوکان شعلہ پوش ،گلی کوچے جھیل میں تبدیل
محمدمبشرالدین خرم
حیدرآباد۔ 6مئی ۔ریاست تلنگانہ کے مختلف اضلاع و شہر حیدرآباد میں درمیانی شب شروع ہوئی موسلا دھار بارش نے شہریوں میں خوف وہراس پیدا کردیا۔شہر حیدرآباد و سکندرآباد میں جمعرات کی شب کے آخری پہر میں خوفناک گھن گرج اور بجلی کی چمک کے ساتھ آسمان پھٹ پڑا۔ طوفانی آندھی و ہواؤں کے باعث شہر کے مختلف مقامات پر درخت اکھڑ کر گرنے لگے اور جابجا بجلی کے تار بکھر گئے۔ تیز رفتار ہواؤں کے سبب شاہین نگر میں واقع ایک مکان کی اسبسطاس کی چھت گر پڑی۔ اسی طرح کئی نشیبی علاقوں میں گھنٹوں بارش کا پانی جمع رہا۔ پرانے شہر کے علاوہ نئے شہر کے کئی علاقوں میں درخت اور ہورڈنگ گر پڑے ۔ بارش کے آغاز کے ساتھ ہی شہر کے بیشتر حصوں میں برقی سربراہی منقطع ہوگئی جو جمعہ کے دن دوپہر تک بھی بحال نہیں کی جاسکی۔محکمہ موسمیات کے بموجب دیڑھ گھنٹے کے دوران 75ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے جس کی گزشتہ دس برسوں میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ رات کے آخری حصہ میں 3بجکر 40منٹ پر شروع ہوئی بارش کا سلسلہ صبح 6 بجے تک بھی جاری رہا۔ضلع نلگنڈہ کے موضع ویلی گنڈہ میں بارش کے سبب ریل کی پٹریوں کو نقصان پہنچا اور ضلع میں آم کی فصل تباہ ہو چکی ہے۔ اسی طرح ریاست آندھرا پردیش کے علاقوں وجئے واڑہ ‘ مشرقی گوداوری ‘ پرکاشم‘ گنٹور اور اننت پور میں بھی موسلا دھار بارش ریکارڈ کی گئی۔ تیز ہواؤں کے سبب گنٹور میں ہورڈنگ گرنے کے سبب ایک شخص کی موت واقع ہو گئی۔ اننت پور میں بجلی گرنے سے 20بکرے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ اس موسلادھار بارش میں ہوئے مالی نقصانات کا اندازہ لگانا دشوار ہے چونکہ شہر کے کئی نشیبی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوجانے کے سبب الکٹرانک اشیاء کے علاوہ دیگر ساز و سامان ناکارہ ہو گیا۔رات دیر گئے گھن گرج کے ساتھ ہی شہر کے کئی علاقے تاریکی میں ڈوب گئے تھے۔شدید بارش کے دوران مغل پورہ کمان کے روبرو واقع پٹرول پمپ سے متصل پنکچر کی دکان میں شارٹ سرکٹ کے سبب آگ لگ گئی جس کے سبب دکان شعلہ پوش ہو گئی۔ شہر کے نواحی علاقوں کے علاوہ شہر کے کئی مقامات خیریت آباد‘ سوماجی گوڑہ ‘ مادھاپور‘ نامپلی ‘ لکڑی کا پل‘ جوبلی ہلز ‘ بنجارہ ہلز‘ سکریٹریٹ‘ امیر پیٹ ‘ شاہ علی بنڈہ ‘ مغلپورہ ‘ چارمینار ‘ علی آباد ‘ تاڑبن‘ جہانما ‘ کے علاقوں میں درخت گر گئے ۔ نشیبی علاقوں تالاب کٹہ‘ مشیرآباد‘ اشوک نگر ‘ یاقوت پورہ ‘ بھوانی نگر ‘ محمد نگر ‘ ورم گڈہ‘ راجندر نگر ‘ کے کئی مکانات میں پانی داخل ہونے کی شکایات موصول ہوئی ۔ کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد ڈاکٹر جناردھن ریڈی کی راست نگرانی میں بلدیہ کی جانب سے سڑکوں کی صفائی اور بارش کے پانی کی نکاسی کے تیز رفتار اقدامات کرتے دیکھا گیا۔ یوسف گوڑہ اور رحمت نگر کے علاقوں میں بارش کا پانی کئی گھنٹوں تک سڑکوں پر جمع رہا۔ تاریخی مکہ مسجد کے مرکزی باب الداخلہ سے متصل درخت کی شاخیں گر پڑیں جبکہ مغلپورہ پانی کی ٹانکی کے قریب واقع قدیم درخت کے برقی تاروں پر گرنے سے کئی گھنٹوں تک برقی سربراہی متاثر رہی۔ موسلا دھار بارش کے نتیجہ میں شہر کی مر کزی سڑکیں اور محلہ جات میں گلی کوچے جھیل میں تبدیل ہو گئے تھے۔تیز ہواؤں کے سبب کئی علاقوں میں چھتوں پر لگائے گئے ڈش ٹی وی انٹینا سڑکوں پر آگرے۔ مختلف علاقوں میں دکانات پر آویزاں سائن بورڈ اور ہورڈنگس سڑکوں پر بکھرے پڑے تھے۔ عثمان گنج میں واقع مسجد عثمانیہ سدی عنبربازار کا زیر تعمیر مینار تیز ہواؤں اور موسلا دھار بارش کے سبب منہدم ہو گیا۔اسی طرح شہر کے مضافاتی علاقہ راجندر نگر اپر پلی میں واقع مدینہ مسجد میں بھی بارش کا پانی داخل ہوگیا جس کی وجہ سے مسجد میں موجود جائے نمازوں کے علاوہ ساؤنڈ سسٹم کو بھی نقصان پہنچا۔ بعض علاقوں میں قدیم دیواریں گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں لیکن ان میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ شہر حیدرآباد میں بارش کے پانی کی نکاسی کیلئے عملہ کو فوری متحرک کردیا گیا تاکہ نشیبی علاقوں کو نقصان سے بچایا جا سکے لیکن اس کے باوجود بھی کئی علاقوں میں زائد از 4گھنٹے بارش کا پانی جمع رہا۔ محکمہ موسمیات کے بموجب آئند ہ دو تا تین یوم کے دوران مزید بارش کی پیش قیاسی کی گئی ہے۔ کمشنر بلدیہ نے شہر میں گرنے والے درختوں کی صفائی اور برقی سربراہی کو بحال کرنے کے تیز رفتار اقدامات کی ہدایت دی اور کہا کہ برسات کے پانی کی نکاسی کیلئے نالوں کی عاجلانہ صفائی کو ممکن بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے بارش کے پانی کی نکاسی و صفائی کے عمل کا جائزہ لیا۔

TOPPOPULARRECENT