Tuesday , August 22 2017
Home / Mera Column / حیدرآباد اور حیدرآبادی

حیدرآباد اور حیدرآبادی

میرا کالم              سید امتیاز الدین
ہم کو حکم ملا تھا کہ زندہ دلان حیدرآباد کے سالانہ جلسے میں حیدرآباد اور حیدرآبادی کے تعلق سے ایک انشائیہ سنائیں ۔ ہم نے جواباً عرض کیا کہ قبلہ ! اس موضوع کے لئے ہم سے زیادہ ناموزوں شخص پورے حیدرآباد میں ڈھونڈے سے نہیں ملے گا ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم جب پیدا ہوئے تو حیدرآباد اپنی عظمت رفتہ کھونے کی تیاریوں میں تھا ۔ بہت سے حیدرآبادی اپنے آپ کو بدلنے میں عافیت سمجھ رہے تھے ۔ اگر زندہ دلان کی مناسبت سے آپ ہم سے کسی مزاحیہ مضمون کی توقع کررہے ہیں،  تو یہ توقع فضول ہے ، کیونکہ ہم مزاحیہ موضوع کو بھی اپنے طرز تحریر سے دردناک حد تک سنجیدہ بنادیتے ہیں ۔ جواب میں ہم کو بتایا گیا کہ مزاحیہ مضامین تو یوں بھی پڑھے جائیں گے ۔ سامعین کے قہقہوں کو بریک لگانے کے لئے ایک تکلیف دہ حد تک سنجیدہ مضمون کی بھی ضرورت ہے اس لئے نظر انتخاب تم پر پڑی ہے ۔ امید ہے کہ تمہارا انشائیہ درسِ عبرت ثابت ہوگا ۔

تعمیل ارشاد میں حیدرآباد اور حیدرآبادی کے بارے میں جو باتیں ذہن میں آئیں پیش خدمت ہیں ۔ قلی قطب شاہ نے دعا کی تھی کہ مرا شہر لوگاں سوں معمور کر ۔ یہ دعا کتنی مقبول ہوئی کہ اب شہر میں نہ صرف مکانات کی قلت ہے بلکہ ٹریفک جام اس قدر ہونے لگے ہیں کہ ہم کو اپنے گھر کے سامنے والی سڑک پار کرنے میں پانچ منٹ لگ جاتے ہیں اور ہم دوسرے کنارے پر پہنچنے کے بعد ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں ۔ میر انیس نے دعا کی تھی یہ شہر بنام حیدر ، آباد رہے ۔ یہ دعا بھی ایسی مقبول ہوئی کہ اس کا نام بعض لوگوں کی کوششوں کے باوجود قائم و دائم ہے ۔
حیدرآباد کے بارے میں ایک بات یہ بھی مشہور تھی کہ جو بھی ایک بار یہاں آیا اور اس نے گنڈی پیٹ کا پانی پیا پھر اس شہر کو چھوڑ کر نہیں گیا ۔ یہیں کا ہورہا ۔ جب اصلی حیدرآبادیوں نے محسوس کیا کہ اس طرح گنڈی پیٹ کا پانی ان کے حق میں مضر ثابت ہورہا ہے تو خدا کی قدرت سے گنڈی پیٹ کا پانی سال بہ سال کم ہونے لگا اور آبرسانی کے لئے دوسری ندیوں کے پانی کی آمیزش کی جانے لگی ۔ اس طرح مہمانوں کے مستقل قیام میں کمی ہوئی ۔
حیدرآباد کا موسم بھی دوسرے شہروں کے مقابلے میں بڑی حد تک معتدل رہتا ہے ۔ نہ یہاں شدت کی گرمی پڑتی ہے نہ شدت کی سردی ۔ شمالی ہند میں چپراسیوں کے پاس بھی سوٹ ہوتے ہیں کیونکہ سوٹ کے بغیر سردیاں نہیں گزرتیں ۔ حیدرآبادی بالعموم اپنی شادی کے موقع پر سوٹ سلواتے ہیں جو تاحیات کام دیتا ہے ۔ انٹرویو ہو یا کسی اور کی شادی ہو حتی کہ عقد ثانی میں بھی اسی سوٹ سے کام چل جاتا ہے ۔ ملازمت کے ایک انٹرویو میں انٹرویو بورڈ کے ایک ممبر نے کسی امیدوار سے کہا تھا کہ آپ کو میں نے آپ کے غلط سلط جوابات کے علاوہ آپ کے سوٹ سے پہچانا ۔
حیدرآبادی اپنے شہر سے محبت کا دم تو بہت بھرتے ہیں لیکن اس کا عملی ثبوت کم دیتے ہیں ۔ حضرت جگر مرادآبادی اور حضرت جوش ملیح آبادی سے لے کر مجروح سلطانپوری اور شکیل بدایونی تک بے شمار شعراء نے اپنے اپنے شہروں کا نام اونچا کیا ہے ۔ حیدرآباد میں ہم صرف حضرت امجد حیدرآبادی کا نام سنتے ہیں ۔ مخدوم محی الدین حیدرآبادی ، سلیمان اریب حیدرآبادی ، شاذ تمکنت حیدرآبادی کسی نے نہیں کہا ۔
حیدرآبادی شاہ خرچ بھی بہت ہوتے ہیں ۔ ہم نے کئی لوگوں کو دیکھا کہ زندگی بھر کرائے کے مکانوں میں رہے کبھی ذاتی مکان نہیں بنواسکے ۔ ایک صاحب کہہ رہے تھے ۔ ’میاں کرائے کے مکان کا لطف ہی کچھ اور ہوتا ہے جب چاہو محلہ بدل دو ۔ مالک مکان کی تبدیلی سے صحت پر خوشگوار اثر پڑتا ہے ۔ مہینوں کا کرایہ باقی رہ جائے تو کبھی مالک مکان ہاتھ جوڑ کر عرض کرتا ہے ’قبلہ آپ کا دولت خانہ بدقسمتی سے میرا غریب خانہ بھی ہے اگر آپ تخلیے کا ارادہ فرمائیں تو آپ کی طرف سے واجب الادا کرایہ دل و جان سے بھلادینے کو تیار ہوں‘ ۔ اسی طرح ایک صاحب قرض بہت لیتے تھے اور ایک دن چپکے سے اپنا پتہ بتائے بغیر کہیں اور چلے جاتے تھے ۔ ان کا کہنا تھا ’میرے پتے سے خلق کو کیوں میرا گھر ملے‘ ۔

حیدرآباد اپنی زبان اور مخصوص لب و لہجہ کی وجہ سے ممتاز حیثیت سے پہچانا جاتا ہے ۔ جی ہو اور نکّو جو ہماری گفتگو کے اہم اجزا ہیں ،حیدرآباد سے باہر نہیں بولے جاتے ۔ حیدرآباد کا پرسوں عرصہ ہوا زمانی حدوں کو پار کرچکا ہے ۔ ایک صاحب سے ان کے کوئی دوست بہت دنوں کے بعد ملے  اور ان کے لڑکے کی خیر خیریت دریافت کرنے لگے ۔ ان صاحب نے جواب دیا ’میرا لڑکا بالکل خیریت سے ہے ۔ ماشاء اللہ خود بھی دو بچوں کا باپ ہے‘ ۔ ان صاحب نے تعجب سے کہا ۔ ’ارے ابھی پرسوں ہی تو اس کی شادی ہوئی تھی‘ ۔ ان صاحب نے جواب دیا ’جناب اس کی شادی کو چار سال ہوگئے ۔ آپ پرسوں فرمارہے ہیں ۔ حیدرآباد میں ’نے‘ کا استعمال مطلق نہیں ہوتا ۔ ایک حیدرآبادی صاحب لکھنؤ گئے  ۔ وہاں کی گفتگو سن کر دنگ رہ گئے  ۔ ان کی جان پہچان کے لوگ پوچھتے ’’آپ نے روٹی کھالی‘‘ ۔ آپ نے فلاں کتاب پڑھی یا فلاں فلم دیکھی  ۔ ان صاحب کو افسوس ہوا یہ کیسا شہر ہے جہاں لوگ زنانہ طرز میں گفتگو کرتے ہیں ۔ اتفاق سے وہ ایک بار مسجد گئے ۔ نماز ہوچکی تھی ۔ سوچا تنہا نماز پڑھ لوں گا ۔ حوض پر وضو کررہے تھے کہ ایک صاحب نے ان سے پوچھا ’آپ نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی‘ ۔ انھوں نے جواب دیا ’جی ابھی وضو کررہی ہوں‘ ۔ حیدرآباد میں بعض الفاظ بولے جاتے ہیں جو شمالی ہند میں نہیں بولے جاتے ۔ موز کو باہر کیلا بولتے ہیں ۔ ہم ایک عرصہ تک اس غلط فہمی میں رہے کہ شاید موز غیر فصیح لفظ ہے ۔ بعد میں ہم کو معلوم ہوا کہ عرب ممالک میں بھی موز کہا جاتا ہے کیلا کوئی نہیں کہتا ۔ سپوٹہ اور جام کوئی نہیں کہتا ۔ باہر چیکو اور امرود بولتے ہیں ۔ لیکن معاف کیجئے ہم کو اپنے پھلوں کے یہی نام پسند ہیں ۔ ہمارے ایک دوست چھوٹے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتے تھے ۔ ایک دن کتاب میں ایک جملہ آیا ’تیز بارش ہورہی تھی ۔ پتاجی نے چھاتہ تانا اور دفتر چلے گئے‘ ۔ بچوں نے پوچھا ماسٹر صاحب اس جملہ کا کیا مطلب ہے‘ ۔ ہمارے دوست بھی کچھ کنفیوز تھے ۔ پھر بھی انھوں نے ہمت سے کام لیا ۔ کہنے لگے ’بچو بارش تیز ہورہی تھی لیکن پتاجی کافی تگڑے تھے ۔ انھوں نے سینا تانا اور تیز بارش میں بھیگتے ہوئے دفتر چلے گئے ۔ دیکھو یہ ہے فرض شناسی‘۔ اندر سے بچوںکے والد کی آواز آئی ۔ ماسٹر صاحب چھاتہ چھتری کو کہتے ہیں ۔ الفاظ کی ہیرا پھیری کا شکار ہم بھی ہوچکے ہیں ۔ ایک بار بسلسلہ ملازمت ہم دہلی میں مقیم تھے ۔ ہم ہر روز ایک دودھ والے سے ایک شیشہ دودھ لیتے تھے ۔ دودھ  والا ہر روز بھرا ہوا شیشہ دیتا اور خالی شیشہ لے کر چلا جاتا تھا ۔ ایک دن ہمارے ہاتھ سے دودھ کا شیشہ گرا اور ٹوٹ گیا ۔ اگلے دن دودھ والا آیا تو ہم نے کہا ’بھائی شیشہ ہم سے ٹوٹ گیا‘ ۔ دودھ والے نے خوش ہو کر کہا ’صاحب یہ تو بڑی اچھی بات ہے ۔ آپ کے ساتھ کچھ اچھا ہونے والا ہے‘ ۔ ہم بھی خوش ہوئے اور اس دن کا دودھ لے لیا ۔ دودھ والا ویسے ہی کھڑا رہا ۔ ہم نے اس سے ٹھہرے رہنے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا ’بابوجی کل کی خالی بوتل‘ ۔ تب ہم نے ٹوٹے ہوئے شیشے کی قیمت ادا کی اور ہم کو سبق ملا کہ ہم جس کو شیشہ کہتے ہیں تو شمالی ہند کی بوتل ہے اور ہم جسے آئینہ کہتے ہیں وہ وہاں شیشہ کہلاتا ہے ۔ ہم آپ کو بتادیں کہ حیدرآبادی صرف نہاتا نہیں ہے ہمیشہ پانی نہاتا ہے ۔ کسی حیدرآبادی سے پوچھا گیا کہ حضرت یہ پانی نہانا کیا ہے ۔ ساری دنیا پانی سے نہاتی ہے ۔ پانی کا علحدہ ذکر غیر ضروری ہے ۔ حیدرآبادی صاحب نے آہ سرد بھری اور کہا ’قبلہ ! ایک زمانہ تھا ہم دودھ سے نہاتے تھے ۔ اب حالات بدل گئے ہیں اور پانی سے نہانا پڑرہا ہے ۔ اس فرق کو واضح کرنے کے لئے پانی نہانا کہا جاتا ہے‘  ۔ حیدرآباد میں جسے ہم دستی کہتے ہیں اسے اہل زبان رومال کہتے ہیں ۔ رومال ہمارے پاس بڑے بوڑھے کندھے پر ڈالے پھرتے ہیں جو کافی ملٹی پرپز ہوتا ہے ۔ استری کرنے کو پریس کرنا یہاں کوئی نہیں بولتا ۔ وہاں پریس کرنے کو استری کرنا کہیں تو پتہ نہیں کیا مطلب نکالا جائے ۔ کوتھمیر وہاں ہرا دھنیہ کہلاتی ہے ۔ نیلام کو ہم ہراج کہتے ہیں ۔ یہاں نائی حجام کہلاتا ہے اور اسی میں خوش ہے ۔ رخصت ہونے کو ہم حاضر ہوتا ہوں کہتے ہیں جس سے بعض لوگ پریشان ہوجاتے ہیں کہ کہیں تھوڑی ہی دیر میں پھر نہ آجائیں ۔ حیدرآبادی چمگادڑ بڑباغل کہلاتی ہے ۔ بلی کے شوہر یعنی بلّے کو ہم اس کی جسامت اور عادات و اطوار کا خیال کرکے بلاوڑ کہتے ہیں ۔ خود مخدوم نے اپنی پہلی نظم پیلا دوشالہ میں بلاوڑ کو یاد کیا ہے ۔ ہند چین تعلقات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم نے چینی کو ہمیشہ شکر کہا ہے ۔ سر کے درمیانی حصہ کو ہم تالو کہتے ہیں جبکہ شمالی ہند میں تالو منہ کے اندر ہوتی ہے۔ ہم اس تالو کو طَارق کہتے ہیں ۔ ہم عام بول چال میں بھی مساوات کا خیال رکھتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم خ اور ق میں فرق نہیں کرتے ۔ اسرار الحق مجاز لکھنوی سے ان کے کسی حیدرآبادی شناسا نے کہا کہ آج رات کا کھانا میرے گھر کھایئے ۔ میرے بچے کی تقریب ہے ۔ تقریب کا تلفظ ان کی زبان سے تخریب ادا ہوا جس کا مطلب ہے ، بربادی ۔ مجاز نے کہا کہ یہ منظر مجھ سے دیکھا نہ جائے گا ۔ لیکن یاد رہے کہ حیدرآبادی زبان صرف بول چال کی حد تک ہے ۔ حیدرآباد کے ادیبوں  اور شاعروں کی تخلیقات کسی سے کم نہیں ہیں اور اس ریاست نے اردو کی جو خدمت کی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو بابائے اردو مولوی عبدالحق اپنی زندگی کا بہترین حصہ یہاں نہ گزارتے ۔

حیدرآباد کی شادیوں کا شہرہ بھی بہت ہے ۔ لیکن سب جانتے ہیں کہ وقت کی پابندی ہمارا شیوہ نہیں ۔ شاید اسی لئے پہلے رقعوں پر بعد عصر لکھا جاتا تھا پھر بعد مغرب لکھنے لگے ۔ اب بعد عشاء لکھنے لگے ہیں تاکہ تہجد تک بھی شادی کا وقت باقی رہے ۔
حیدرآبادیوں کو ایک زمانہ میں صرف سرکاری ملازمت کا شوق تھا ۔ شادی کے رشتوں میں بھی ملازم سرکار کو فوقیت دی جاتی تھی کیونکہ ان کو ملازمت کے خاتمہ پر وظیفہ حسن خدمت ملتا ہے ۔ وظیفہ حسن خدمت کی ترکیب سننے میں اچھی لگتی ہے لیکن وظیفہ پر سبکدوش ہونے والے نہایت غمگین ہوجاتے تھے  ۔ وظیفہ سے چھ ماہ پہلے رخصت ماقبل وظیفہ دی جاتی تھی تاکہ ملازم سرکار کو بے کاری کی عادت پڑجائے لیکن ملازم سرکار وظیفہ کے تصور سے ہی اتنا خوف زدہ رہتا تھا کہ بعض لوگ رخصت ماقبل وظیفہ کے دوران ہی رخصت ہوجاتے تھے ۔
ایک زمانہ تھا کہ ریاست حیدرآباد کا اپنا سکہ تھا ، اپنا ڈاک کا نظام تھا  ، اپنی ریلویز تھی ۔ اس کے ساتھ ساتھ حیدرآبادی گالیاں بھی بہت مشہور تھیں ۔ اب نہ حیدرآباد کا سکہ ہے نہ ڈاک کا نظام اور نہ اپنی ریل لیکن گالیوں کی عملداری آج بھی قائم ہے ۔ ہم نے ایسے قادر الکلام اصحاب بھی دیکھے ہیں جو ایک برجستہ گالی سے گفتگو میں وہ رنگ پیدا کردیتے ہیں ، جو کبھی بڑے سے بڑا مقرر ایک گھنٹے کی تقریر سے نہیں پیدا کرسکتا ۔
حیدرآباد کی ایک خاص چیز ہمیں اس وقت یاد آرہی ہے ۔ صاحبو! آپ ہوں یا ہم ایک چیز ہم سب میں مشترک ہے ۔ ہم کو رمضان ، بقرعید  ،محرم اور ربیع الاول کے سوا کوئی اور مہینہ یا اس کی تاریخ یاد نہیں رہتی ، لیکن فقیروں کا ایک خاص گروپ ہے ،جسے صفر کی تیرہ تاریخ ازبر ہے ۔ اس دن کو تیرہ تیزی کہا جاتا ہے اور علی الصبح لوگ ان فقیروں کو انڈے ، تیل ، بھلاویں اور کچھ پیسے بطور صدقہ دیتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا ۔ ایک صاحب کسی دوسرے شہر سے تلاش روزگار کے سلسلے میں حیدرآباد آئے اور اپنی جان پہچان کے ایک صاحب کے پاس مہمان ہوگئے ۔ مہمان ایسے ہوئے کہ جانے کا نام ہی نہیں لیتے تھے ۔ ان کے قیام کے دوران تیرہ تیزی آگئی ۔ صبح صبح فقیروں نے آواز لگائی ’’آج تیرہ تیزی کا روز‘‘ ۔ ان صاحب نے نیند کے غلبے میں سنا ’’شہر خالی کرو‘‘ ۔ ان کی آنکھ کھل گئی اور فوراً خیال آیا کہ شاید ان کے طویل قیام کی خبر شہر میں پھیل گئی ہے اور احتجاجی مظاہرہ ہورہا ہے ۔ بھاگے بھاگے گئے اور اپنے میزبان کو کچی نیند سے جگایا اور صورت حال بیان کی ۔ میزبان صاحب بھی کائیاں تھے ۔ انھوں نے سوچا کہ خداداد موقع ہے کہ مہمان کی غلط فہمی کو تقویت دی جائے ۔ نہایت گمبھیر آواز میں بولے ’’میں آپ کی جان بچانے کے لئے اپنی جان کی بازی لگادوں گا ، لیکن ایک بپھرے ہوئے مجمع کے سامنے میں کیا کرسکتا ہوں ۔ بہتر ہوگا آپ آج شام کی گاڑی سے واپس ہوجائیں‘‘ ۔ مہمان نے گھبرائے ہوئے لہجے میں پوچھا ’’شام کب ہوگی؟‘‘ ۔ میزبان نے جواب دیا ’’شام کا انتظار تو مجھے بھی ہے  ۔خیر جب ہوگی تب ہوگی  ۔ اس عرصے میں میں آپ کے ٹکٹ کا بندوبست کرتا ہوں آپ بھی رخت سفر باندھیے‘‘ ۔ شام کی گاڑی سے مہمان رخصت ہوا اور میزبان نے دل ہی دل میں کہا چلو بلا ٹلی اور تیرہ تیزی کام آئی ۔ تیرہ تیزی کے تعلق سے ایک چھوٹی سی بات اور یہ بھی ہے کہ بعض احتیاط پسند لوگ تیرہ تیزی کے بعد تین چار دن تک انڈے اس خوف سے نہیں خریدتے کہ کہیں فقراء صدقے کے انڈے اونے پونے دکانداروں کو بیچ کر نہ نکل گئے ہوں اور دوسروں کی بلائیں ہمارے گلے نہ لگ جائیں۔

آخر میں ہم آپ کو بتادیں کہ حیدرآباد کی ایک خصوصیت اس کی زندہ دلی ہے ۔ حیدرآبادی اپنے اوپر ہنسنے کا ہنر جانتا ہے ۔ 1948 کے بعد حیدرآباد پر کچھ دنوں تک سکتے کا عالم تھا ، لیکن بہت جلد حیدرآبادیوں کی زندہ دلی اور ان کی ہنسی واپس آگئی ، جس کا ایک ثبوت زندہ دلان حیدرآباد کی یہ انجمن ہے ، جس کے ادبی اجلاسوں ، لطیفہ گوئی کی محفلوں اور مزاحیہ مشاعروں کی دھوم ہے ۔ زندہ دلان کا ترجمان ماہ نامہ شگوفہ اردو کا ایسا نادر رسالہ ہے ، جو آج تقریباً پچاس سال سے بہ پابندی شائع ہوتا ہے ۔ اس میں تازہ تازہ مزاحیہ تحریریں پڑھنے کو ملتی ہیں ۔ اس کے مدیر ایک صوفی صافی بزرگ ہیں جو علی الاعلان مال مسروقہ بھی شائع فرماتے ہیں ، جس کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ چوری بھی کارِ ثواب ہے ۔

TOPPOPULARRECENT