Wednesday , August 23 2017
Home / مضامین / حیدرآباد جو کل تھا باغبانی ، پھول اور پھل ۔ کل اور آج (نواب شاہ عالم خاں اور ان کے فرزند احمد عالم خاں سے بات چیت)

حیدرآباد جو کل تھا باغبانی ، پھول اور پھل ۔ کل اور آج (نواب شاہ عالم خاں اور ان کے فرزند احمد عالم خاں سے بات چیت)

سید امتیاز الدین
ہمارے قارئین کو یاد ہوگا کہ ’حیدرآباد جو کل تھا‘ کا سلسلہ جب شروع ہوا تو اس کی ابتداء شہر کی نہایت ممتاز اور بزرگ شخصیت نواب شاہ عالم خاں سے ہوئی تھی ۔ نواب صاحب کی پیدائش 1923ء کی ہے ۔ اس طرح آپ زندگی کی 92 بہاریں دیکھ چکے ہیں ۔آپ کا تعلق ننھیال اور ددھیال دونوں طرف سے ممتاز اور معزز جاگیردار گھرانوں سے ہے ۔ لیکن آپ کا طرّہ امتیاز یہ ہے کہ آپ نے انتھک محنت سے ایک صنعت کار کی حیثیت سے اعلی مقام حاصل کیا ۔ آپ کی تعلیم ہائی اسکول تک انگریزی میڈیم سے ہوئی ۔ آپ نے سینٹ جارج گرامر اسکول اور جاگیردار کالج سے ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے ماموں پروفیسر ولی الدین صاحب کے مشورے پر جامعہ عثمانیہ سے انٹرمیڈیٹ اور گریجویشن کی تکمیل کی جہاں ذریعہ تعلیم اردو تھا ۔ نواب صاحب کو فخر ہے کہ انھوںنے جامعہ عثمانیہ کے سنہرے دور میں تعلیم حاصل کی ۔ یہ وہ زمانہ تھا جبکہ ہر شعبہ میں ملک کے اعلی پائے کے اساتذہ موجود تھے ۔ اپنی عملی زندگی میں نواب شاہ عالم خاں نے حیدرآباد دکن سگریٹ فیکٹری کے منیجنگ ڈائرکٹر کی حیثیت سے اس فیکٹری کو بام عروج پر پہنچادیا ۔ تعلیمی میدان میں انوارالعلوم کے کالجس کے صدر نشین کی حیثیت سے غیر معمولی خدمات انجام دیں ، جہاں آرٹس ، سائنس ،انجینئرنگ ، کمپیوٹر ، ہوٹل مینجمنٹ ، ایم بی اے  کے شعبوں میں پوسٹ گریجویشن تک تعلیم کے مواقع حاصل ہیں۔ آپ عثمانیہ یونیورسٹی کی سینیٹ کے ممبر رہ چکے ہیں ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے علاوہ ملک کے کئی تعلیمی اداروں سے آپ کا تعلق رہا ہے ۔ آپ کو کئی اعزازات سے نوازا گیا ہے جن کی فہرست بہت طویل ہے ۔ نواب شاہ عالم کالج آف انجینئرنگ بھی آپ کے نام سے موسوم ہے ۔ اس وقت آپ کی شخصیت کا وہ پہلو جس سے ہماری خصوصی دلچسپی ہے اور جو ہماری گفتگوکا اہم موضوع ہے ،وہ نواب صاحب کا باغ بانی کا شوق ہے ۔ شاہ عالم صاحب کو کم و بیش 70 سال سے باغ بانی کا شوق ہے ۔ آپ کو گلابوں سے بے حد دلچسپی ہے اور آپ یوروپ ، امریکہ ، پاکستان ، جنوبی افریقہ ، ہالینڈ ، جاپان اور دنیا کے کئی ممالک کے روز شو دیکھ چکے ہیں اور جج کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں۔ 2001 سے 2004 تک آپ انڈین روز فیڈریشن کے صدر رہ چکے ہیں ۔

شاہ عالم خاں صاحب کے فرزند احمد عالم 1959 ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کی تعلیم سینٹ جارج گرامر اسکول اور نظام کالج میں ہوئی جہاں سے آپ نے بی کام کیا ۔ آپ بھی  نامور صنعت کار ہیں ۔ حیدرآباد دکن سگریٹ فیکٹری کے ڈائرکٹر ہونے کے علاوہ آپ کا خصوصی شوق ڈیری فارمنگ ہے ۔ جہاں جدید اور سائنٹفک طریقہ سے ڈیری فارمنگ کی جاتی ہے ۔ اس کے علاہ آپ کی کئی فیکٹریاں ہیں ۔ احمد عالم خاں صاحب پکوان کے ماہرین میں شمار کئے جاتے ہیں ۔ آپ کی ترتیب دی ہوئی دعوتوں کا شہرہ دور دور تک ہے اور آپ دنیا کے کئی اہم شخصیات کی میزبانی کرچکے ہیں ، جن میں برطانیہ کے وزیر زراعت مسٹر مائیکل جیک اور بہت سی بین الاقوامی شخصیتیں شامل ہیں ۔ آپ کو پرندوں اور کتوں کا بھی بے حد شوق ہے ۔ باغبانی سے آپ کی دلچسپی اتنی زیادہ ہے کہ خود آپ کے والد نواب شاہ عالم خاں دل سے معترف ہیں ۔ سچ پوچھئے تو اگر شاہ عالم صاحب باغبانی کے میدان میں حیدرآباد کا کل ہیں تو احمد عالم صاحب حیدرآباد کا آج ہیں ۔
آیئے اب ہم ان دونوں حضرات سے باغبانی کے تعلق سے عام دلچسپی کے کچھ سوالات کرتے ہیں ۔

امتیاز : نواب صاحب آپ کو باغبانی کا شوق کب شروع ہوا ؟
نواب شاہ عالم خاں : مجھے بچپن ہی سے پھولوں کا شوق رہا ہے ۔ جب میں سینٹ جارج گرامر اسکول کا طالب علم تھا تو مہتمم باغات جمال الدین صاحب کے فرزند ظہیر الدین سے میری دوستی تھی ۔ ان کے توسط سے پھولوں اور بالخصوص گلابوں سے میری واقفیت اور دلچسپی بڑھی ۔ ہمارا گھر باغ عامہ کے سامنے واقع تھا ۔ 1950-51 ء میں میرا یہ شوق اور بڑھتا گیا ۔ میں نے بعد میں اپنے مکان راحت کدہ برکت پورہ میں نہایت دلچسپی سے چمن بندی کی ۔ 1953 ء میں بنگلور میں میری ملاقات گوپال سوامی آینگار صاحب سے ہوئی ۔ آینگار صاحب پیشے سے وکیل تھے لیکن بعد ازاں وکالت چھوڑ کر انھوں نے Horticulture یا باغبانی کی طرف اپنی ساری صلاحیتیں وقف کردیں ۔ ان کی ایک معرکتہ الآرا کتاب Complete Gardening in India اس موضوع پر ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اس کتاب میں انھوں نے میرا بھی ذکر کیا ہے ۔ میں نے نہ صرف  پھولوں کے اور گلابوں کے نادر پودے اکٹھے کئے بلکہ کروٹن کے بھی بے شمار پودے لگائے ۔ نمائش سوسائٹی کی جانب سے منعقد ہونے والے فلاور شو اور روز شو میں حصہ لینے لگا اور مجھے کئی انعامِ اول ملے ۔ رامو نامی ایک شخص تھا جس کی نرسری سے میں نے ہزاروں روپے کے کروٹن لئے ۔ فیکٹری میں بھی میں نے مختلف اقسام کے کروٹن لگائے ۔ پام کے پودے بھی نادر تھے ۔ نواب صاحب نے مختلف پودوں کی تفصیل سے ہمیں واقف کرایا جن میں سے بعض بارش کے موسم میں بعض سردیوں میں اور بعض گرمیوں میں بہار پر آتے ہیں ۔ لیکن یہ سب نام زیادہ تر انگریزی میں ہیں جیسے سیلوسیا ، بلسم وغیرہ ۔ کئی ناموں کا ذکر ہم اس لئے بھی نہیں کررہے ہیں کیونکہ وہ زیادہ تر انگریزی نام ہیں ۔

ہم نے تھوڑی دیر کے لئے احمد عالم صاحب کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ ان کو باغبانی کا شوق کب سے ہے ؟
احمد عالم : مجھے بھی باغبانی کا شوق بچپن سے ہے ۔ میں نے وقارآباد سے قریب منّے گوڑہ کے مقام پر ایک وسیع و عریض فارم تیار کیا ہے ۔ کسی زمانے میں یہ ایک ویران جگہ تھی ۔ اب یہ کئی ایکڑ پر پھیلا ہوا فارم ہاوس ہے ۔ اس کا نام گرین ویلی ہے ۔ اسے میں نے بالکل جدید طریقے سے تیار کیا ہے ۔ ہزاروں جھاڑوں کی آبیاری کے لئے بالکل جدید طریقے اختیار کئے گئے ہیں ۔ مجھے بھی گلابوں سے بے پناہ محبت ہے ۔ میرے گرین ویلی فارم پر گلابوں کی 25 ہزار نایاب اور بے انتہا خوبصورت قسمیں موجود ہیں ۔ میں نے جنوبی افریقہ میں ورلڈ روز کنونشن میں شرکت کی ، جہاں مجھے ورلڈ فیڈریشن آف روز سوسائٹی کا ساوتھ ایسٹ ایشیا کا وائس پریسیڈنٹ منتخب کیا گیا ۔ میں نیوزی لینڈ اور بارسلونا کے کنونشن میں بھی شرکت کرچکا ہوں ۔ میرے گرین ویلی روز گارڈن کو گارڈن آف اکسیلنس Garden of Excellence کا خطاب دیا گیا ہے ۔ مجھے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ میں نے نومبر دسمبر 2014 میں ورلڈ روز کنونشن کی میزبانی کی جس میں ساری دنیا کے نمائندے شریک ہوئے ۔ سمینار میں مختلف ماہرین نے گلاب کی باغبانی کے موضوع پر تقریریں کیں۔ باہر کے وفود اس روز گارڈن کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے ، کیونکہ ان کو ہندوستان میں اتنے اقسام کے پائے جانے کی توقع نہیں تھی ۔
امتیاز : ہندوستان میں پائے جانے والے کچھ گلابوں کے بارے میں بتایئے ؟

احمد عالم : ہندوستان میں کئی گلاب تیار کئے گئے ہیں جیسے ابھی شیک (زرد اور سفید کی آمیزش) اہمسا (زرد ، کانٹوں کے بغیر) ، آکاش (گلابی) ، امرِتہ (آرنج کلر) انارکلی (سفید ، خوشبودار) ، ارجن ، بلیک ڈیلائٹ (گہرا سیاہی مائل سرخ) انھوں نے اور بھی کئی نام گنائے جنھیں ہم طوالت کے خیال سے نہیں لکھ رہے ہیں ۔

امتیاز : احمد عالم صاحب ! یہ بتایئے کہ کیا کالا گلاب ہوتا ہے ؟
احمد عالم : کالا گلاب نہیں ہوتا ۔ گلاب کی باغبانی کرنے والا کبھی پودے کی جڑ میں سیاہی ڈال دیتا ہے ۔ گلاب گہرا سرخ سیاہی مائل ہوجاتا ہے ۔
امتیاز : کیا گلاب کی کاشت میں مالی منفعت یا تجارتی ، کاروباری پہلو بھی ہوتا ہے ؟
احمد عالم : بالکل نہیں ۔ یہ محض ایک عمدہ شوق ہے۔ اس میں پیسہ بھی بہت خرچ ہوتا ہے اور محنت بھی بہت لگتی ہے ۔ ابتداء میں کھاد کی ضرورت پڑتی ہے ۔ گرمی کے دنوں میں اور زیادہ نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ پانی زیادہ دینا پڑتاہے ۔ پتّوں پر بھی پانی کا چھڑکاؤ کرنا پڑتا ہے ورنہ پتّے جھلس جاتے ہیں ۔ بارش میں Pruning یعنی پتّوں کو کترنا پڑتا ہے ۔ بیماریوں سے بچاؤ کے لئے جراثیم کُش ادویہ کا چھڑکاؤ ضروری ہے ۔
امتیاز : بسا اوقات گلاب تیار کرنے والوں کے ناموں سے بھی گلاب رجسٹر کئے جاتے ہیں ؟
احمد عالم : جی ہاں ! بریڈر (Breeder) چار پانچ سال کی محنت کے بعد ایک گلاب کراس پالی نیشن cross pollination کے ذریعے تیار کرتا ہے ۔ اس کے نام سے رجسٹر  کرنے کے لئے باقاعدہ ایک پینل panel آتا ہے اور مطمئن ہونے کے بعداس کا نام منظور کرتا ہے ۔ شاہ عالم گلاب (کِریم پنک) اور احمد عالم (زرد ، گلابی آمیزش) گلاب موجود ہے ۔
نواب شاہ عالم : بعض گلاب شخصیتوں کے نام پر رکھے گئے ہیں ۔ دوسری جنگ کے بعد ایک گلاب تیار کیا گیا جس کا نام peace (امن) ہے ۔ کوئین ایلزبتھ ، جان کینڈی ، سوفیا لارن ، ماریا کلاس کے نام سے بھی گلاب موجود ہیں ۔

امتیاز : احمد عالم صاحب کچھ اپنے فارم کے پھلوں کے بارے میں بتایئے؟
احمد عالم : میرے فارم میں آم کے 30 تا 35 ہزار درخت ہیں ۔ کوئی تیس قسم کے آم موجود ہیں جیسے بے نشان ، حمایت ، جہانگیر ، چوسہ ، لنگڑا ، دسہری ، سورن ریکھا ، پدّا رسال ، چنا رسال ، چرکو رسال ، ملکہ  ، مالدہ ، الفانسو ، موہن وغیرہ ۔ ان کے علاوہ سپوٹا ، امرود (جام) گریپ فروٹ ، سیتاپھل ، فالسہ ، پھنس (جیک فروٹ) لیمو ، کاجو ، شہتوت ، جامن ، ناریل ، کینو ، موسمبی وغیرہ کے سیکڑوں درخت ہیں ۔
امتیاز : کچھ قدیم خوشبودار پھولوں کے بارے میں بتایئے جن کو لوگ خوشبو کے لئے استعمال کرتے تھے ۔
نواب شاہ عالم خاں : چنبیلی اور موتیا ہر گھر میں ہوا کرتا تھا ۔ اب یہ پھول ذرا کم ہوتے جارہے ہیں ۔ میرے مکان میں مدن مست بھی ہے ۔
امتیاز : کیایہ صحیح ہے کہ مدن مست کی خوشبو سے سانپ بھی آجاتا ہے
نواب شاہ عالم خاں : یہ صحیح نہیں ۔ محض وہم ہے ۔ اس موقع پر احمد عالم صاحب کے ایک رفیق کار مسٹر وجئے نے کہا کہ سانپ سونگھ نہیں سکتا ۔ ہاں سُن سکتا ہے ۔ آخر میں ہم نے نواب شاہ عالم خاں اور ان کے فرزند احمد عالم خاں صاحب کا شکریہ ادا کیا ، جنھوں نے ایک نفیس شوق کے ذریعے بے شمار قدردان پیدا کئے اور احمد عالم خاں نے ورلڈ روز فیڈریشن کے شاندار کنونشن کے ذریعے حیدرآباد کو دنیا کے نقشے پر ’’گلاب آباد‘‘ کی حیثیت سے متعارف کرایا ۔

TOPPOPULARRECENT