Sunday , August 20 2017
Home / مضامین / حیدرآباد جو کل تھا جسٹس انصاری و متین انصاری

حیدرآباد جو کل تھا جسٹس انصاری و متین انصاری

محبوب خان اصغر
حیدرآباد کے ماضی سے متعلق اگرچہ بہت کچھ کہا جاچکا ہے لیکن ہر بات اور ہر تحریر سے نئے نکات اورنئے پہلو سامنے آتے ہیں جو یہاں کی اقدار اور روایات کی تفہیم اور تفہم میں معاونت کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار محمد حبیب شمس انصاری المعروف جسٹس انصاری نے کیا جو ہم سے مندرجہ بالا موضوع پر ہمکلام تھے۔ انہوں نے اس عنوان پر بزرگ خواتین و حضرات سے کی جانے والی گفتگو کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد جیسے وسیع و عریض شہر میں اعلیٰ حضرت نے اپنی خدمات کے ایسے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں جو آج بھی تابندہ ہیں۔ ملازمتوں کے حصول کیلئے درکار اہلیت کے قابل بنانے کیلئے ان کو مالی امداد دینا ہی ان کا ایک اہم کارنامہ ہے اور وہ اس اعتبار سے ہے کہ روزگار حاصل ہونے کے بعد ہی کوئی فرد خود کفیل بن سکتا ہے اور اسی سبب کسی کی سماجی اور  اقتصادی صورتحال بدل سکتی ہے ۔ شعور بیدار ہوتا ہے اور کسی فرد میں ان خوبیوں کو اجاگر کرنا درحقیقت کارنامہ ہی ہے جو اعلیٰ حضرت انجام دیتے رہے۔ سردست انہوں نے پورے ملک کے حالات پر اظہار خیال بھی کیا اور کہاکہ آزادی کے بعد ملک میں جمہوریت کی بحالی سے ہر فرقے اور طبقے کے لوگوںکو مذہبی آزادی  دی گئی ہے۔ اپنی اپنی مذہبی کتابیں پڑھنے کی اور مندر ، مسجد اور گرجا گھروں کو جانے اور عبادت کرنے کی آزادی کے ساتھ معاشی خوشحالی کے وسائل فراہم کئے گئے۔

ہمارے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی کے بھی مذہبی معاملات میں دخیل ہونا کار عبث ہی ہے اور اس کی پشت پناہی کرنے والوں کی گوش مالی نہ کی جائے تو تنا تنی کم نہیں ہوگی بلکہ اور بڑھے گی۔
ہم نے جسٹس انصاری اور ان کی اہلیہ محترمہ متین انصاری سے مشترکہ طور پر بات چیت کی تھی ۔ دونوں ہی عمر کی اس منزل میں بھی ہشاش بشاش نظر آئے اور ہمیں اس کا سبب آپسی مفاہمت ، ہم آہنگی اور Under Standing ہی لگی اور یہی محسوس ہوا کہ دونوں ہی ایک دوسرے کیلئے لازم یا ملزوم ہیں ۔ دونوں ہی نے اپنے آپ کو انتہائی مصروف رکھا ہے۔
اترپردیش کے رہنے والے شمس الاسلام انصاری کے گھر تولد ہوئے جسٹس حبیب انصاری نے بتایا کہ یو پی ہندوستان کا ایک ایسا صوبہ ہے جہاں علم وادب کے بڑے نام ملتے ہیں۔ گو کہ ان کے والد سرکاری ملازم تھے اور سنگارینی کالریز میںاعلیٰ عہدے پر فائز رہے مگر گھر کا ماحول مذہبی قسم کا تھا اور تمام پابند ڈسپلن تھے ۔ گھر میں ہندی الفاظ کی چاشنی اور اردو زبان کی شیرینیی کا سب ہی لطف لیتے تھے ۔انہوں نے بتایا کہ ان کے والد اعتدال پسند انسان تھے ۔ میانہ روی ان کا شعار تھا ۔ چاہے یوپی ہو یا حیدرآباد ماضی میںایسے افراد کی بہتات تھی جو میانہ روی کو اختیار کئے ہوئے تھے اور اپنی زندگی سے مطمئن رہا کرتے تھے ۔اعلیٰ حضرت نواب میر عثمان علی خاں آصف سابع نے بھی یہی طرز اختیار کیا تھا ۔ وہ ایک خاص وضع کے انسان تھے ، ریاکاری سے مبرا۔ ان کے ظاہر و باطن میں کوئی امتیاز نہیں تھا جو تھے بس وہی تھے اور وہی نظر آتے تھے ۔ اب ایسے وضع دار لوگ کہاں رہے ؟
انصاری صاحب نے بتایا کہ ان کے والد اکثر کہا کرتے تھے کہ آثار قدیمہ صرف کھنڈرات، نشانات یا پرانی تاریخی عمارتیں ہی نہیں ہوتیں ہیں بلکہ معمرین کا شمار بھی آثار صنادیہ میں ہوتا ہے اور وہ گھر برکتوں سے معمور ہوتا ہے جس میں بزرگ اور بوڑھے لوگ ہوتے ہیں۔ نئی نسل کو قطعاً ان سے نالاں نہیں ہونا چاہئے ۔
اپنی ابتدائی تعلیم سے متعلق انہوں نے بتایا کہ ہائی اسکول تک وہ سینٹ پیٹرکس کے طالب علم رہے جس میں تمام اسٹاف کرسچین تھا جن میں اکثر اساتذہ سائیکل پر اسکول آیا کرتے تھے ۔ دوسری سواریاں بھی اگرچیکہ تھیں مگر سائیکل ہی ان کی اولین ترجیح تھی جو صحت کی برقراری اور جیب کی رکھوالی کا بہترین ذریعہ تھی ۔  البتہ طلباء میں ہندو مسلم سکھ عیسائی شامل تھے ۔ ذات پات کی تفریق نہیں تھی ۔ تہذیبی قدروں اور انسانی رشتوں کو مقدم سمجھا جاتا تھا ۔ ایسے شفاف ماحول کے اول دستے کے ذہین طلباء میں انصاری صاحب کا شمار ہوتا ہے۔
1960 ء تا 63 وہ نظام کالج میں تعلیم پاتے رہے ۔ انہوں نے کہا کہ نظام کالج ماڈرن (Modern) یعنی نئی روشنی کا کالج تھا اور اس میں داخلے کے لئے ہائی اسکول میں امتیازی نمبرات سے کامیاب ہونا ضروری تھا ۔ اس کالج کے اکثر طلباء متمول گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے ۔ انصاری صاحب کے بموجب ان کا تعلق متوسط گھرانے سے تھا ۔ والدہ فوت ہوئیں تو وہ غالباً سات برس کے تھے ۔ جہاں جہاں انہوں نے تعلیم پائی وہاں وہاں ہاسٹل ہی ان کی اقامت گاہ تھا۔ نظام کالج میں احسن صاحب ان کے وارڈن تھے ۔ جئے پال ریڈی ایم پی (کانگریس) اُن کے روم میٹ بھی تھے اور محسن بھی ۔ اُن کے حوصلوں نے ان کیلئے پیشرفت کی راہیں ہموار کیں۔ مظہر علی بیگ بھی ان کے ہم جماعت تھے اور بھائیوں جیسا سلوک کیا کرتے تھے ۔

نظام کالج سے بی ایس سی کرنے کے بعد انہوں نے جامعہ عثمانیہ کے شعبہ قانون میں داخلہ لیا ۔ 1965 ء میں صدر لاء کالج مقرر ہوئے ۔ اس وقت کے پرنسپل سبا راؤ تھے ۔ جن کی ذات میں سیکولر اور قومی جذبات کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے تھے جس کی وجہ سے بھائی چارگی اور اخوت کی وہ ایک اعلیٰ مثال بن گئے تھے ۔ اب ایسی گوناگوں اوصاف کی حامل شخصیتیں حیدرآباد میں نایاب ہوگئی ہیں۔
جسٹس انصاری نے پرانی یادوں کے حوالے سے بتایا کہ حیدرآباد میں شدید سردیوں والا موسم ہوا کرتا تھا ۔ گرمیاں بھی شدت کی ہوا کرتی تھیں اور بارشیں ہفتہ ہفتہ بھر رکنے کا نام نہیں لیتی تھیں۔ ہر موسم کا یہاں استقبال کیا جاتا تھا ۔ سردیوں میں لحاف کثرت سے استعمال ہوتے تھے ۔ مچھلی اور پایے مرغوب غذا ہوتی تھی کہ لکڑیوں کے چولہوں پر دھیمی آنچ پر پایوں کو بڑے برتن میں پکنے اور گلنے کیلئے چھوڑدیا جاتا تھا اور صبح کی ابتدائی ساعتوں میں دھوپ نکل آتی تھی تو اسی دھوپ میں دسترخوان بچھائے جاتے تھے اور گھر کے تمام افراد مل بیٹھ کرناشتہ کرتے تھے ۔ گرمیوں میں رات آٹھ بجے ٹھنڈی ہواؤں میں چبوتروں پر بوڑھے لوگ لطف لیتے تھے۔ اب یہ ساری باتیں قصہ پارینہ بن کر رہ گئیں ہیں۔ تیز رفتار ترقی نے ایسے تمام مناظر کو نگل لیا ہے اور اب صرف یادیں ہی باقی رہ گئی ہیں۔
انصاری صاحب کے مطابق 1969 ء میں محترمہ متین صاحبہ کے ہمراہ وہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔ قبل ازیں انہوں نے پاشاہ اینڈ کمپنی میں عارضی طور پر ملازمت بھی کی تھی ۔ جس کے مالک انوراللہ پاشاہ مرحوم تھے ۔ روزنامہ سیاست کے روبرو واقع اس کمپنی کے مالک بذاتِ خود ایک نامور وکیل تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ جسٹس سردار علی خاں مرحوم نے انہیں جاب آفر دیا تھا ۔ ان کے انکشاف کرنے پر انہوں نے وہیں پر سلسلہ ملازمت جاری رکھنے کو کہا، اس تاکید کے ساتھ کہ انورا للہ پاشاہ صاحب پر اس بات کو آشکار نہ کیا جائے۔ اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ قدیم حیدرآباد میں ذہنی تحفظات اور نظریاتی اختلافات نہیںتھے یا کم تھے۔ مگر ہم منصبوں کی قدر و منزلت جی جان سے کی جاتی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ انسان اپنی پوری حیات میں ضرور کسی نہ کسی سے متاثر ہوتا ہے اور ذہن اثر پذیر ہو تو نقوش گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے ماضی کے حوالے سے ایک واقعہ بیان کیا اور کہا کہ ممتاز عثمانین جناب عابد علی خاں صاحب بانی روزنامہ سیاست روٹری کلب میں ان کی دعوت پر تشریف لائے تھے اور ’’تحریک آزادی میں اردو زبان کا رول‘‘ کے عنوان پر تقریر کی تھی جو کہ بہت ہی دلنشیں تھی ۔ جب انہوں نے اپنی تقریر مکمل کرلی تو روٹری کلب کے تمام ممبر اور شرکائے محفل نے ایستادہ ہوکر ان سے مصافحہ کیا اور عمدہ خطاب پر خوشی کا ا ظہار کیا ۔ پلا ریڈی نے ان کی خدمت میں ایک کیلو مٹھائی پیش کی تھی  اور کہا تھا کہ ایسی تقریر کبھی نہیں سنی۔ انہوں نے بتایا کہ عابد علی خاں صاحب Knowledgable انسان تھے۔ اب ایسی عبقری شخصیتیں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتیں۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیاکہ امجد علی صاحب ریٹائرڈ آئی اے ایس تھے جنہیں عابد صاحب کا قرب حاصل تھا۔ان ہی کی معرفت ان کی ملاقات عابد صاحب سے ہوسکی۔
قدیم حیدرآباد کے ادبی منظر نامے سے متعلق ہمارے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ماضی کے تمام ہی شعراء اور ادیب چاہے وہ حیدرآباد کے ہوں یا ہندوستان کے ان کے فکر و فن کی بنیاد اپنی تہذیبی ، فکری اور یہاں کی شاندار روایات کے علاوہ عصری تقاضوں پر ہوا کرتی تھی ۔ انہوں نے نام لئے بغیر ہی کہا کہ آج بھی ان کے قاری ہیں لیکن آج قاری اپنے ہی عہد کے شاعر و ادیب کو پڑھنا نہیں چاہتا ۔ یہی کہا جاسکتا ہے ان کے فکر و فن میں کہیں کچھ کمی ہے جس کی وجہ سے قاری کو آج اس کے ذوق کی تسکین نہیں مل پارہی ہے۔ جسٹس انصاری نے ماضی بعید کی باتیں کیں۔ ہم نے مناسب یہی جانا کہ ان کی اہلیہ متین انصاری صاحبہ سے ماضی قریب کی باتیں کی جائیں۔ ہمارے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انصاری صاحب نے دوران ملازمت اپنی ایمانداری ، خوش اخلاقی ، طرز ، چلن اور خصلت کے کچھ ایسے نقش چھوڑے کہ ان کے والد انوراللہ پاشاہ نے انہیں اپنا داماد بنایا ۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ متذکرہ اوصاف ماضی میں چلنے والے سکے تھے اور ان خوبیوں کی بنیاد پرہی رشتے طئے ہوا کرتے تھے ۔ جبکہ آج لوگوں کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔

ریاست حیدرآباد کے مختلف تعلیمی اداروں میں تعلیم پاکر متین انصاری نے نظام کالج سے آئی ایس سی (Indian School Certificate) کی تکمیل کی ۔ بعد ازاں انہوں نے جواہر لال نہرو ٹکنالوجیکل یونیورسٹی سے MBA کیا ۔ ا پنا تعلیمی سفر جاری رکھتے ہوئے کیلیفورنیا (امریکہ) کی یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا (University of Southern California America) سے Gerontology میں ماسٹرس کیا ۔ ان دنوں اپنی مصروفیات سے متعلق انہوں نے بتایا کہ انسان کا کچھ نہ کچھ مقصد حیات ہونا چاہئے ۔ اور معمرین کی تیمارداری کو انہوں نے اپنا مقصد حیات بنالیا ہے ۔ متین انصاری کے مطابق ہندوستان بالخصوص ریاست حیدرآباد میں بڑھاپا بڑی تیزی سے آرہا ہے ۔ اتنی ہی سرعت کے ساتھ افرادِ خاندان کا رویہ ان کے ساتھ معاندانہ ہوتا جارہا ہے ۔ اول تو ان میں قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے ۔ ان کو کسی ہم زباں ، ہم خیال ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے ساتھ باتیںکرے ۔ ان کی باتیں سنیں ، سنائیں، ٹی وی اور کتب بینی سے بھی طویل عمر کے باعث وہ اُکتا جاتے ہیں۔ انہیں کسی پہلو قرار نہیں آتا۔ وہ صرف بولنا چاہتے ہیں۔ بشرطیکہ کوئی ان کی سماعت کرنے والا ہو۔ انہوں نے اُسی جذبہ کے تحت (Senior Recreation Services) کا آغاز کیا ہے اور اسی مقصد کے پیش نظر انہوں نے Gerontology میں داخلہ لیا تھا ۔ جوبلی ہلز روڈ نمبر 63 پر واقع (Senior Wellness Consultant) میں لوگ اپنے بوڑھے والدین کو صبح چھوڑ جاتے ہیں اور رات واپس لے جاتے ہیں۔ تمام دن میڈیکل ٹیم کی ان پر نہ صرف یہ کہ نظر رہتی ہے بلکہ ان کے مختلف معائنے کئے جاتے ہیں اور بہ اعتبار صحت ان کو کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ کونسلنگ کر کے ان کے مسائل سے آگہی حاصل کی جاتی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ کبرسنی میں انسان بالکل بچہ جیسا ہوجاتا ہے ۔ ان کے ساتھ وہی طرز اختیار کیا جانا چاہئے جیسا کہ بچوں کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ ان سے بیزارگی اور صرف نظر ان کو اور دکھی کرتا ہے ۔ یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ بڑھاپا اور ضعیفی سے کسی کا بھی بچنا محال ہے۔

انہوںنے اپنی قیامگاہ سے متعلق واضح کیا کہ ’’مصطفی کاٹیج‘‘ ایک ایکڑ سے بھی زائد رقبے پر محیط ہے۔ اراضی کے وسط میں حویلی نما گھر فیاض الد ین آرکیٹکٹ کا کمال ہے۔ ماضی میں یہاں نصر اسکول تھا ۔ اُس وقت جسٹس انصاری اور ان کی بیگم امریکہ میں مقیم تھے ۔ ان کی خالہ زاد بہن عرصہ دراز تک نصر اسکول کی کرتا دھرتا رہیں ۔ اب وہ اسکول گچی باؤلی میں منتقل ہوگیا ہے اور وہ اپنی قیامگاہ میں کوئی فلاحی کام انجام دینے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ انسان کو ہمہ وقت متحرک اور سرگرم رہنا چاہئے۔ نیز مثبت اندازِ فکر بھی صحت کی برقراری کیلئے لازم ہے۔

TOPPOPULARRECENT