Friday , September 22 2017
Home / ہندوستان / حیدرآباد جو کل تھا حکیم محمد عبدالصمد

حیدرآباد جو کل تھا حکیم محمد عبدالصمد

محبوب خان اصغر
حکیم محمد عبدالصمد صاحب سے ملاقات کی سبیل یوں نکلی کہ ہم نے ’’حیدرآباد جو کل تھا‘‘ کے موضوع پر گفتگو  کرنے کیلئے انہیں آمادہ کرلیا ۔ موسم برسات کی ابتدائی تیز بارش ، بادلوں کی گرج اور بجلیوں کی کڑک کی پرواہ کئے بغیر ہم مشیرآباد ان کے دولت خانے پر پہونچے ۔ ان پر نظر پڑی تو غالب کا شعر یاد آگیا۔
مضمحل ہوگئے قویٰ غالب
اب عناصر میں اعتدال کہاں
منحنی سے حکیم صاحب ضعف اور پیرانہ سالی کے باوجود دروازے تک آئے اور ہمارا خیر مقدم کیا اور اپنے ساتھ ایک سجے سجائے کمرے میں لے گئے ۔ کچھ نمکین اور کچھ شیرینی کے بعد گرم چائے سے انہوں نے ہماری ضیافت کی اور ہم دم بخود کل کے حیدرآباد کی ایک حقیقی تصویر دیکھ رہے تھے ۔
انہوں نے ہمارے موضوع پر لب کشائی کرتے ہوئے شیریں زبان و بیان کو اپنے اظہار کا وسیلہ بنا کر قدیم حیدرآباد سے متعلق کہا کہ ماضی میں اس ریاست کے لوگوں میں جو سادگی دکھائی دیتی تھی وہ تقریباً ختم ہوگئی ہے ۔ سلام اور کلام کیلئے ہر ایک کے ساتھ کچھ ایسا سلوک روا رکھا جاتا تھا کہ اجنبیت کا شائبہ تک نہ ہوتا تھا ۔ بلا تخصیص عمر و مذہب گفتگو اور مصافحہ و معانقہ کیلئے پہل کی جاتی تھی اور یہ کل کے حیدرآباد کا ایک ایسا اہم اور منور پہلو ہے جیسے فراموش کرنا ممکن ہی نہیں ۔ سرزمین دکن پر کیسے کیسے مفکر ، مدبر اور معزز لوگوں نے زندگی بسر کی ہے ، مغلیہ دور اور آصف جاہی عہد کے سلاطین نے جو نقوش چھوڑے ہیں وہ ہنوز تابندہ ہیں ۔ میں ان سے چشم پوشی کئے بغیر اپنی بساط کے مطابق موضوع پر بات کروں گا ۔

انہوں نے اپنا خاندانی پس منظر بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد کا نام نور محی الدین تھا جو جالنہ کے سرکاری مدرسے میں مدرس تھے ۔ ددھیال کے اکثر لوگ جالنہ ہی میں مقیم تھے ۔ اپنی جائے پیدائش سے متعلق انہوں نے بتایا کہ جالنہ اگرچیکہ اپنا کوئی ادبی پس منظر نہیں رکھتا ہے مگر اجناس کی بہت بڑی منڈی جالنہ ہی میں ہے جس کو گنج کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے اور جہاں اس گنج رواں سے تجارت پیشہ لوگوں نے بہت منفعت حاصل کی اور اپنے کاروبار کو وسعت دے کر کئی دکانوں کے مالک بن بیٹھے ۔
حکیم صاحب نے اپنی ابتدائی تعلیم کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ تحتانیہ اور وسطانیہ کی تعلیم انہوں نے جالنہ ہی میں حاصل کی ۔ اکاسی برس کی بزرگ شخصیت نے بتایا کہ پولیس ایکشن کے وقت ان کی عمر صرف تیرہ برس کی تھی مگر اس وقت کی تباہ کاریاں آج بھی انکے لاشعور میں تازہ ہیں ۔ سرحد پر متعین لوگ مارے گئے تھے اور ان کی اموات سے ان کے خاندان پر خراب دن آگئے تھے ۔ بیجاپور ، رائچور ، کرناٹک ، مرہٹواڑہ اور عثمان آباد میں ہر جگہ لہو تھا ۔ گلی کوچوں میں اور سڑکوں پر خون کے ہولناک مناظر تھے ۔ جان کے لالے پڑے ہوئے تھے ۔ جالنہ بھی غیر محفوظ تھا ۔ لوگ گھروں سے نکل کر حضرت جان اللہ شاہ رحمتہ اللہ علیہ کی درگاہ میں آگئے تھے ۔ جہاں وقتی پر انہیں امان اور تحفظ نصیب ہوا تھا ۔ مگر خطرہ ٹلا نہیں تھا ۔ حفظ و امان کی تلاش میں بے شمار لوگوں نے مذکورہ درگاہ کو ہی فوقیت دی ۔ اورنگ زیب حضرت جان اللہ شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے معتقد تھے ۔ انہوں نے اپنی حیات میں درگاہ کی حفاظت کیلئے حصار بندی کا منصوبہ تو بنایا تھا مگر عمر نے وفا نہیں کی چنانچہ اورنگ زیب کے انتقال کے بعد ان کی اہلیہ اور فرزند ارجمند نے اس کی حفاظت کا انتظام کیا ۔ اس امر سے اورنگ زیب کی مذہبی عصبیت اور تنگ نظری کا اظہار نہیں ہوتا بلکہ ان کی مذہبی رواداری کی جھلک ملتی ہے۔

حکیم محمد عبدالصمد صاحب نے ایک واقعہ اور بھی سنایا جس سے اورنگ زیب کی شخصیت کا ایک اور روشن پہلو واضح ہوتا ہے کہ جالنہ میں ایک برہمن نے گنیش تہوار کے موقع پر گنیش جی کی مورتی بٹھانے میں درپیش رکاوٹوں کو اورنگ زیب پر آشکارا کیا تو انہوں نے فی الفور فرمان جاری کرتے ہوئے ان رکاوٹوں کو دور کرنے کی حتی الامکان کوشش کی ۔ اورنگ زیب کو اپنی رعایا کے امن و سکون کا خیال ہمیشہ ہی رہا ۔ ان کے کامیاب نظم و نسق ہی کا نتیجہ تھا کہ وہ نصف صدی تک حکمرانی کرتے رہے ۔ جس میں سے ربع صدی انہوں نے دکن میں گذاری اور بے شمار اصلاحات کو روبعمل لایا ۔ سلسلۂ گفتگو  جاری رکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جالنہ سے حیدرآباد کا رخ کیا تو وہ سترہ برس کے تھے ۔ حیدرآباد میں چونسٹھ سال سے مقیم ہیں ۔ اس طویل عرصہ میں انہوں نے اس ریاست میں نور کے ساتھ ظلمت دیکھی ، اخلاق کا سرمایہ گم ہوتے دیکھا ۔
انہوں نے اس ریاست میں اپنے ابتدائی ایام سے متعلق کہا کہ وقت کو صرف نظر کرنا نہ انہیں پسند تھا نہ ان کے سرپرستوں کو ، بلکہ ان کے جداعلی کی ناصحانہ گفتگو کو انہوں نے اپنے اندر جذب کرلیا ہے اور یہی انجذاب ان کی کامیابی کا ضامن بن گیا ہے ۔ آج کی نسل میں ایسے جذبات کا انحطاط ہے بلکہ بزرگوں کی اعلی و ارفع روایات سے انحراف اب ایک عام بات ہوگئی ہے ۔
حکیم صاحب نے بتایا کہ بارہویں جماعت کے بعد انہوں نے نظامیہ طبی کالج میں داخلہ لیا ۔ اعظم صدیقی ، عبدالوہاب ظہوری ، حکیم محمد شبلی صاحب اور دیگر اساتذہ طلباء کو دل و جان سے پڑھاتے تھے اور انکی طبع آزمائی کو ہر دم ملحوظ خاطر رکھتے تھے ۔ اپنے شاگردوں کے ساتھ اساتذہ کا رویہ ملائم ہوا کرتا تھا ۔ جس کے بعد شاگردوں میں ملائمت کا در آنا فطری بات تھی اس طرح دونوں کے تال میل سے خوشگوار نتائج برآمد ہوتے تھے ۔ آج کے حالات اسی طرز تقلید کے متقاضی ہیں ۔ غرض کے ایسے جید اساتذہ کے زیر نگرانی حکیم صاحب نے اپنا علمی سفر جاری رکھا  ۔ 1955 تا 1959 ء انہوں نے ڈگری کے حصول کیلئے پوری دیانتداری سے محنت کی اور ’’طبیب مستند‘‘ کی سند حاصل کی جس کے فورا بعد آندھرا گرانٹ میں ان کا تقرر عمل میں آیا ۔ کچھ عرصہ بعد طبی کانفرنس میں انہوں نے ’امراض اور علاج کا تعین‘ کے موضوع پر مقالہ پڑھا ۔ کانفرنس میں ممبئی کے مہمان حکیم مختار  اصلاحی ایڈیٹر ’’مسیحا‘‘ بھی موجود تھے ۔ مقالہ کو پسند کیا اور ممبئی بلایا اور وہاں پر میونسپل کارپوریشن کی ڈسپنسری میں ایک حاذق حکیم کے طور پر ملازمت اختیار کرلی ۔ کارکردگی کی بنیاد پر منسٹری آف ہیلتھ گورنمنٹ آف انڈیا میں یونانی فارما کوپیا کمیٹی میں بھی انہیں کام کرنے کا موقع ملا ۔ ملکی سطح پر یونانی نصاب کی تیاری کیلئے منعقدہ کمیٹی میں بھی وہ شامل رہے ۔ دیگر مشاورتی جلسوں میں ان کی موجودگی کو ضروری سمجھا گیا ۔ اور ان کی زرین آراء سے طب کے لائحہ عمل طے پاتے تھے ۔ سنٹرل گورنمنٹ ہیلتھ اسکیم (CGHS) میں بحیثیت ڈسپنسری انچارج کارگزار رہے اور وہیں سے وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہوئے ۔

عہد عثمانی میں طبابت کی ترقی سے متعلق ہمارے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اعلی حضرت نواب میر عثمان علی خان آصف سابع کے دور حکومت میں معاشی خوشحالی کے ساتھ امن و سکون تھا ۔ عثمانیہ دواخانہ ، جامعہ عثمانیہ ، عدالت العالیہ ، شفاخانہ ، نظامیہ طبی کالج ، درس گاہیں ، عدالتیں یہ سب اعلی حضرت کے نہ بھلائے جانے والے کام ہیں جن کا فیض عام جاری ہے اور جاری رہے گا ۔ اعلی حضرت روشن خیال حکمران تھے ۔ انہوں نے 1939 میں نظامیہ طبی کالج کا بہ نفس نفیس افتتاح انجام دیا اور چار معروف اور آزمودہ کار اطباء کا تقرر عمل میں لایا ۔ آغاز ہی سے اس کالج میں مفت قیام و علاج کا بندوبست تھا اور جو مصارف کے متحمل ہوسکتے تھے انہیں کرائے پر کمرے فراہم کئے جاتے تھے ۔ اس زمانہ میں اس کالج میں طلباء کو عملی تشخیص کے تجربے کرنے کیلئے سہولتیں مہیا کی گئی تھیں اور آپریشن تھیٹر بھی اس زمانے میں وجود میں آگیا تھا ۔ دو ہزار  مریضوں کو آؤٹ پیشنٹ کی حیثیت سے دیکھا جاتا تھا جبکہ دواخانہ میں شریک مریضوں کیلئے تین وارڈ تھے جہاں ان کے اقامت اور علاج کی پوری سہولتیں مہیا تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ نظامیہ طبی دواخانہ میں اعصابی مریضوں کا علاج کیا جاتا تھا ۔

نواب میر عثمان علی خان نے اضلاع میں بھی دواخانوں کی ضرورت کو محسوس کیا اور ایک سو کے قریب دواخانے بنائے ۔ انہیں یکتائے عصر کہنے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہئے ۔ حکیم صاحب نے یہ انکشاف بھی کیا کہ سب سے پہلے 1845 ء میں پہلا مدرسہ طبابت قائم کیا گیا تھا  ۔آصف جاہ رابع ناصر الدولہ کا دور حکومت تھا جس میں مدرسہ طبابت میں اردو میں تعلیم دی جاتی تھی ۔ ڈاکٹر ارسطو یار جنگ اور ڈاکٹر لقمان جیسی نابغہ روزگار شخصیتیں اس مدرسے کی دین ہیں ۔
حکیم محمد عبدالصمد نے دوران ملازمت پیش آئے ایسے کئی واقعات کو یاد کرتے ہوئے ماہ رمضان کی مناسبت سے اعلی حضرت کے فرمان کا بھی ذکر کیا جس میں شدید گرمی کے باعث دفاتر و مدارس کو رمضان کے آغاز سے انتہا تک مسدود رکھے جانے کے احکامات تھے ۔ بلاتخصیص مذہب مقامات مقدسہ کی زیارت کے لئے جانے والوں کو بااجرت تعطیلات کی بھی منظوری دی گئی تھی ۔ غیر مسلم حضرات کاشی وغیرہ اور مسلمان حج اور زیارت مقامات مقدسہ کیلئے جاتے تھے تو چار تا چھ ماہ کا مشاہرہ پیشگی ادا کردیا جاتا تھا اور زائرین پرسکون طور پر اپنا سفر کرنے کے موقف میں ہوتے تھے ۔
انہوں نے قدیم حیدرآباد میں قائم مدرسہ غسالاں سے متعلق بتایا کہ اس مدرسہ میں میت کو غسل دینے کے شرعی طریقوں سے واقف کروایا جاتا تھا ۔ شرکاء کو باقاعدہ طور پر کورس کی تکمیل کے بعد امتحان دے کر کامیابی کی سند حاصل کرنی پڑتی تھی اور سند یافتہ حضرات ہی میت کو غسل دینے کے اہل قرار دیئے جاتے تھے جو معمولی سے مشاہرہ پر کام انجام دیتے تھے ۔

1950 سے قبل ریاست حیدرآباد اور قرب و جوار میں کثرت سے ظاہر ہونے والے امراض کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہیضہ ، چیچک ، دق ، پلیگ ، جذام اور ملیریا سے عوام وقفہ وقفہ سے متاثر ہوتے تھے ۔ جن پر قابو پانے کیلئے ویکسین (vaccine) اور دوسری نئی ادویات تیار کی گئی تھیں اور طبابت و صحت عامہ کو ترقی دی گئی ۔ اس ضمن میں حکیم صاحب نے واضح انداز میں بتایا کہ آج ماہرین طب ہر جگہ بآسانی دستیاب ہیں تو اسکا سہرہ آصف جاہ اول کے سر جاتا ہے ۔ انہوں نے ہی اطبا اور قابل ترین اشخاص کی حوصلہ افزائی اور قدردانی کی اور ان کے لئے ارتقائی منازل طے کرنے میں آسانیاں پیدا کیں ۔ یہی وجہ تھی کہ ہندوستان اور دوسرے ممالک سے اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کا گروہ حیدرآباد دکن کا رخ کرنے پر مجبور تھا ۔ یونانی کے علاوہ اس دور میں ایلوپیتھی علاج کی طرف بھی مریض مائل ہونے لگے تھے ۔ اس طرح آصف جاہی دور حکومت میں محکمہ طبابت کو ترقی دی گئی ۔
حکمت سے متعلق ہمارے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ پیشہ انہوں نے اپنے ضمیر کی آواز پر اختیار کیا ہے ۔ غریب عوام کی خدمت کرنے کا یہ ایک بہترین ذریعہ ہے ۔ قدیم حیدرآباد میں اکثر اطباء معاوضہ لئے بغیر ہی خدمات انجام دیتے تھے البتہ اس عہد کے سلاطین اطباء کی قدردانی اور ہمت افزائی کیلئے گرانٹ کے طور پر معاوضہ عطا کرتے تھے ۔ مدارس میں طبی معائنوں سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں مدرسوں اور دفاتر میں طبی معائنہ سال میں دو مرتبہ ہوا کرتا تھا ۔ مختلف معائنے مفت کئے جاتے تھے اور تشخیص کے بعد دوائیں بھی بلامعاوضہ دی جاتی تھیں ۔ عام صفائی کا خاص خیال رکھا جاتا تھا ۔ پینے کے پانی کو گندگی سے پاک رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی تھی  ۔ موجودہ حکومت تو اب بیدار ہوئی ہے۔
حکیم محمد عبدالصمد جو شہر کے مختلف محلوں میں مقیم رہے ان دنوں تاریخی محلہ مشیر آباد میں مقیم ہیں ۔ گھر کے دروازے پر نام کی تختی سے لفظ ڈاکٹر ندارد ہے اور یہی ان کی سادگیش کا اظہار ہے ۔ مشیرآباد سے متعلق انہوں نے بتایا کہ یہاں قطب شاہی مسجد ہے بالخصوص رمضان میں بہت گہماگہمی رہتی ہے ۔ چینائی (مدراس) کے باشندوں نے یہاں کاروبار چرم کو اختیار کرکے مستقل رہائش اختیار کرلی ہے اور مابقی لوگ پرانا سامان لاکر بیچتے ہیں ۔ بہ لحاظ آبادی مشیر آباد بہت ہی گنجان ہے ۔ آس پاس میں چلکل گوڑہ ، بھوئی گوڑہ ، چکڑپلی اور سکندرآباد ریلوے اسٹیشن ہے ۔ مشیرآباد ایک ترقی پذیر محلہ ہے جو حیدرآباد کی شناخت ہے ۔
حکیم صاحب سے ہماری گفتگو آخری مراحل میں داخل ہوچکی تھی انہوں نے ہماری خواہش پر اپنا پیغام یوں دیا کہ حیدرآباد اور سکندرآباد کا علمی ، تعلیمی اور ثقافتی ورثہ یکساں ہے اور اسکی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔

TOPPOPULARRECENT