Wednesday , October 18 2017
Home / مضامین / حیدرآباد جو کل تھا ذکیؔ شاداب

حیدرآباد جو کل تھا ذکیؔ شاداب

محبوب خان اصغر
آسمانِ سیاست ان دنوں جتنا ابر آلود نظر آرہا ہے ، پہلے کبھی ایسا نہیں تھا ۔ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی خاطر شہروں میں جابجا فوجی دستے جو آج دکھائی دے رہے ہیں، قدیم حیدرآباد میں کبھی دکھائی نہیں دیتے تھے۔ زندگی بے ثبات ہونے کے باوجود رنگین تھی ۔ تخریب کاری اور بربریت کی جو بدترین مثالیں آج ملتی ہیں، ماضی میں خال خال ہی ملتی تھیں۔ آج وقفہ وقفہ سے تعلیمی تسلسل تعطل کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ آئے دن کے ہنگاموں سے شہر کے حساس لوگ دل گرفتہ نظر آنے لگے ہیں۔ ابلاغ عامہ مخصوص گروہ کی چاپلوسی کو اپنا شعار بنائے ہوئے ہیں۔ خود غرضی اور موقع پرستی کا رجحان آج کے انسانوں کے رگ و پے میں سرایت کر گیا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار قدامت پسند بزرگ ذکی شاداب نے کیا جو ہم سے مندرجہ بالا موضوع پر بات کر رہے تھے۔ انہوں نے موجودہ صورتحال پر اظہار تاسف کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے جمہوری معاشرے میں ہر انسان محترم تھا اور ہرایک کا مقام و مرتبہ یکساں اور مقدس تھا ۔ انسانی خون کی حرمت سب پر لازم تھی ۔ عبادت گاہیں ، گھر ، مدرسے، دواخانے اور دوسری ہیریٹیج عمارتیں متبرک تصور کی جاتی تھیں۔ آج ان کی وقعت کو گھٹا دیا گیا ہے ۔ انسانی زندگی اور اس کا خون ارزاں ہوگیا ہے اور باہم ارتباط و ارتکاز خواب و خیال کی باتیں ہوکر رہ گئی ہیں۔

سید محمد ذکی المعروف ذکی شاداب نجیب الطرفین یعنی صحیح النسب ہیں۔ فی زمانہ اکثر لوگوں میں تھوڑی بہت عیاری ہوتی ہے مگر ذکی شاداب اسم بامسمیٰ ہیں یعنی زیرک و ذہین بھی ہیں اور سرسبز و ہرے بھرے بھی ہیں۔ نواب خاندان سے اگرچیکہ سرو کار ہے مگر جاہ و حشم نے انہیں چھوا تک نہیں ہے۔ سادہ لوح اور سادہ دل ہیں۔ شریف النفسی ان کی سرشت میں شامل ہے۔ان کے بموجب ان کے جد اعلیٰ سید عشرتی راسخ العقیدہ تھے۔ انہیں بیجا پور کے دربار سے ملک الشعراء کا خطاب ملا تھا ۔ وہ بعد میں گولکنڈہ آئے اور یہاں کے دربار میں بھی اعلیٰ درجہ کے شاعر قرار پائے۔ عشرتی کی شخصیت اور فن پر ڈاکٹر عقیل ہاشمی نے پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا اور ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔
جداعلیٰ کے فرزند سید ہنر میں بھی بے پناہ شعری صلاحیتیں تھیں ۔ انہوں نے غوث اعظم دستگیر رحمتہ اللہ علیہ پر منقبت لکھی تھی جس کو کثرت سے پڑھا جاتا تھا۔ ذکی شاداب کے مطابق جداعلیٰ کی ساتویں پشت میں ان کا شمار ہوتا ہے اور ہر پشت میں باکمال شاعر ہوئے ہیںجن میں اکثر مذہبی شعر کہا کرتے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ بھونگیر اور حسین آباد میں ان کی جاگیریں تھیں۔ جمال بہار کی درگاہ کے احاطہ میں ددھیال کے اکثر لوگ مدفون ہیں اور قرب و جوار کے قبرستان میں ان کا ہڑواڑ ہے۔ کم عمری میں ان کے دادا کا انتقال پلیگ کے عارضہ کی وجہ سے ہوچکا تھا ۔ ددھیال کے اور دو بزرگ شاعر مولوی فیض حسین اور مطہر علی جمال بہار کی درگاہ کے باہری حصے میں بیت بازی کیا کرتے تھے ۔ دادی صاحبہ اقرباء پرور غریب پرور اور مساوات کی قائل تھیں۔ تعلیم سے ان کو حد درجہ لگاؤ تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ والد محترم اور تمام ہی چچا اعلیٰ تعلیم سے گزر کر برطانیہ میں بڑے عہدوں پر فائز رہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی والدے کا ایقان تھا کہ ہر مشکل کا حل اور خرابی کی اصلاح علم حاصل کرنے ہی سے ہوسکتا ہے۔ انہوں نے سردست اس بات کا انکشاف بھی کیا کہ ان کے جداعلیٰ کی مثنوی ’دیپک اور پتنگ‘ سالار جنگ کتب خانے میں اب بھی محفوظ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کا ننھیال نواب میر سرفراز حسین اور سا لار جنگ اول نواب لائق علی خان کے قبیل سے ہے۔ نواب میر سرفراز حسین کو صفدر جنگ ، مشیر الدولہ اور فخرالملک جیسے خطابات ملے تھے ۔ آگے چل کر فخرالملک ہی زبان زد خاص و عام ہوا ۔ خانخاناں ان کے بھائی تھے ، جن کے فرزند کمال یار جنگ کی دیوڑھی بہت مشہور تھی جو کہ منڈی میر عالم میں واقع تھی۔ اگرچیکہ اب وہ ٹوٹ پھوٹ گئی ہے۔ فخرالملک کے فرزند رشید نواب ، غازی جنگ ذکی شاداب کے حقیقی نانا حضرت ہیں۔ نظام کالج کے قیام سے قبل فخرالملک وہیں پر مقیم تھے ۔ انہوں نے ا پنے تمام فرزندان کو Eaton College میں تعلیم دلائی تھی جہاں شاہی خاندان کے علاوہ امراء اور روساء کی اولادیں پڑھا کرتی تھیں۔ فخرالملک مدار المہام (وزیراعظم) تھے جن کے اختیار میں تین چار عہدے تھے ۔ وہ نواب میر محبوب علی پاشاہ اور نواب شہاب جنگ کے ہم جماعت تھے جبکہ نواب سرور الملک کا شمار ان کے اساتذہ میں ہوتا ہے۔
ذکی شاداب نے ارم منزل کی بابت بتایا کہ اس کا شمار تاریخی محلات میں ہوتا ہے ، اس کی تعمیر 1870 ء میں ہوئی ، لگ بھگ دیڑھ سو سالہ قدیم عمارت گوکہ آج خستہ حالت میں ہے، مگر اس کے در و دیوار پر ریاست حیدرآباد کی مکمل تاریخ رقم ہے۔ یہ منزل پہاڑ پر بنی ہوئی تھی ۔ اس کے اندرونی حصوں میں پتھر کا استعمال کم اور لکڑی کا استعمال زیادہ کیا گیا تھا ۔ فرش کھڑکیاں، دروازے اور چھجے لکڑی کے بنے ہوئے تھے جو کہ منقش تھے۔ وسیع و عریض ارم منزل کے اندر خنکی کا احساس ہوتا تھا ۔ انہوں نے مغل حکمرانوں کے علاوہ قطب شاہی اور آصف جاہی سلاطین کی پروقار اور عظیم الشان نشانیوں ، یادوں اور علامتوں کو مٹائے جانے پر اظہار تاسف کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ہماری تہذیب اور معاشرتی زندگی کے مظہر ہیں، ان کو زک پہونچانا درحقیقت اپنی تہدیبی قدروں کو نقصان پہونچانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ آثار صنادید کے خلاف ریشہ دوانیاں دراصل 1956 ء سے شروع ہوئیں۔ 1969 ء اور 1970 ء میں جب کہ تلنگانہ تحریک نے زور پکڑ ا تو آندھرا کے باشندوں نے تلنگانہ کی متعدد ہیریٹیج عمارتوں کو غیر محسوس طور پر نقصان پہو نچانے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا ۔ انہوں نے بتایا کہ تقسیم ہند کے نتیجہ میں سنہ 1948 ء میں سیاسی انقلاب کے پیش نظر حیدرآباد انڈین یونین میں ضم ہوگیا۔ قبل ازیں اس ریاست میں روشن خیال لوگوں کی بہتات تھی ۔ رواداری کو کسی مقدس کتاب کی مانند دل سے قدر کی جاتی تھی ۔ بالخصوص عہد آصفیہ میں تو رعایا کی مذہبی آزادی میں خلل ڈالنے والے مجرم کہلائے جاتے تھے ۔ اذان، ناقوس ، گرجا گھروں میں صلیبوں کے بلند نشان اور گھنٹوں کی آوازوں کا یکساں طور پر احترام کیا جاتا تھا ۔

اس شہر کی امتیازی خصوصیات سے ایک دنیا متاثر تھی اور یہاں کی بے تعصبی کی نظیر کہیں اور نہیں مل سکتی تھی ۔ انہوں نے کل کا آج سے موازنہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ رشتوں پر بے تعلقی کا ملمع جو آج دکھائی دے رہا ہے ، وہ پہلے کبھی نہیں تھا۔ اس دور کے انسان فکر رسا اور ذہنی بلندی کے حامل ہوا کرتے تھے ۔ اپنوں اور پرایوں کے مابین تفاوت کا تصور تک نہیں تھا بلکہ اپنوں سے زیادہ پرایوں کو مقدم سمجھا جاتا تھا ۔ مزید برآں انہوں نے بتایا کہ ارم منزل جس کے نام کو بھی بگاڑا گیا اس میں Tennis Court تھاجس میں فخر الملک کے افراد خاندان کھیلا کرتے تھے۔ گھوڑ سواری نوابوں کا من بھاتا شوق تھا۔ خواتین کیلئے اندرون منزل تعلیم کا نظم تھا ۔ دینی تعلیم کے ساتھ فارسی اور انگریزی بھی پڑھائی جاتی تھی ۔ پردے کی سخت پابندی ہوا کرتی تھی ۔ ارم منزل کے اندر زنانہ پھاٹک تھی جہاں ایک جشن پہرہ دیا کرتی تھی۔
ذکی شاداب نے اس امر پر اظہار تعجب کیا کہ اس زمانے میں کسی کے پاس لڑکا یا لڑکی تولد ہوئے تو افرادِ خاندان سے پہلے ہی خواجہ سراوںیعنی ہیجڑوں کو اس کی بھنک مل جاتی تھی اور وہ ٹولے کی شکل میں آدھمکتے اور نومولود کو اٹھاکر خوب ناچتے یہ عمل اس وقت تک جاری رہتا تھا جب تک انہیں نیگ نہ دی جاتی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نواب میر محبوب علی پاشاہ کی طر ز زندگی پر ایک تصنیف بعنوان The day of the beloved موہنی رانجنی (وینکٹ رام ریڈی کی پوتی) اور امریکی مصنفہ محترمہ لینٹن دونوں نے مل کر لکھا ہے جس میںایک مکمل باب ہیجڑوں کی طرز زندگی اور رہن سہن پرمحیط ہے جس کو The Unworldly ones “Hijaras” کا نام دیا گیا ہے ۔ اعلیٰ حضرت نے اس قوم کو کافی مراعات دیں۔ البتہ ان کے لباس پر پابندی لگائی گئی تھی اور ایسا لباس ان کیلئے مختص کردیا گیا تھا جو ان کی شناخت میں آسانی پیدا کرتا تھا ۔
انہوں نے بتایا کہ عید اور تہوار کے موقع پر ارم منزل کو آراستہ کیا جاتا تھا ۔ شادی بیاہ ہو کہ رمضان ، ہولی ، دسہرہ یا کرسمس اور محرم ۔ نوبت ، تاشہ ، مرفہ لازمی تھے۔بگل Bugle بھی بجائے جاتے تھے۔ مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوتا تو کوئی ایک ان کے استقبال کیلئے جاتا اور آفتاب گیر کے سائے تلے انہیں منزل کے اندر لے آتا ۔ مغزیات یعنی بادام، پستہ ، کاجو اور منقا پیش کئے جاتے۔ انہوں نے بتایا کہ اس زمانے میں موز کے پتوں میں کھانا کھایا کرتے تھے ۔ باوجود اس کے کہ اعلیٰ اقسام کے ظروف دستیاب تھے ۔ بچوں کی دیکھ بھال کیلئے نرسس اور بڑی عمر کے لوگوں کیلئے خادم متعین تھے ۔ منزل کے بیرونی حصے میں اصطبل تھا ۔ میجر مجتبیٰ حسین عسکری اور یہ خود بھی باری باری سے گھوڑوں پر گھوما کرتے تھے ۔ اس دور کا پہاڑی علاقہ من کو بھاتا تھا جہاں سے حسین ساگر کا بآسانی نظارہ کیا جاسکتا تھا ۔ ذکی شاداب نے بتایا کہان کی والدہ محترمہ کو بیگم فخرالملک نے پالا تھا جبکہ وہ خود بیگم میجر مجتبیٰ حسین کے پروردہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دیوڑھیوں کی روایات کو باقی رکھنے والی خواتین میں قابل ذکر بیگم مہدی علی خاں اور بیگم طاہر علی خاں مسلم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نواب طاہر علی خان مسلم نظام کالج میں فرنچ پڑھاتے تھے ۔ انہیں یوروپین زبانوں کے علاوہ فارسی زبان پر بھی عبور حاصل تھا ۔ ان سے بے شمار طلباء مستفید ہوئے۔ بزم سعدی کی محفلیں ہوں کہ درگاہ کی قوالیاں یا محفل سماع وہ ہر جگہ موجود رہتے تھے ۔ اس طرح نواب مہدی علی خاں بہترین گیند باز تھے ۔ انہوں نے سلطان بازار کے مدرسے میں علم موسیقی حاصل کیا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کو شاعری اور راگوں سے دلچسپی ہے تو وہ نواب مہدی علی خاں ہی کی مرہون منت ہے۔

ذکی شاداب نے بتایا کہ وہ 1932 ء میں تولد ہوئے اور ریاست حیدرآباد ہی ان کی جائے پیدائش ہے۔ 1936 ء میں سینٹ جارج گرامر اسکول میں داخلہ لیا ۔ وہاں تمام اساتذہ آسٹریلین تھے ۔ بگی اور ٹانگوں کا استعمال ہوا تھا ۔ کاریں مخصوص لوگوں کے پاس ہوتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ HPS حیدرآباد پبلک اسکول کا قدیم نام جاگیر دار کالج تھا جو 1923 ء میں شروع ہوا اور 1953 ء کے بعد اس کا نام بدل کر حیدرآباد پبلک اسکول رکھا گیا ۔ آغاز سے اختتام تک جاگیردار کالج کے تمام اساتدہ روایات کے امین اور رکھ رکھاؤ والے تھے ، وہاں حصول علم کیلئے صرف دلچسپی درکار تھی۔ مدرسوں کے نام پر دکان نہیں چلائی گئی ۔ اساتذہ طلباء کی ذہن سازی کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتیں جھونک دیا کرتے تھے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مذکورہ کالج میں اس خانوادے کے لوگ پڑھیں یا نہ پڑھیں۔ جاگیر سے رقم کٹتی تھی۔ بسالت جاہ بہادر نے بھی متذکرہ اسکول کی سرپرستی فرمائی تھی ۔ اساتذہ دستار اور بگلوس پہنتے تھے ۔ انگریزی ، سنسکرت اور اردو زبان میں تعلیم دی جاتی تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ 1965 ء میں جب ان کی والدہ کا انتقال ہوا تب والد بستر مرگ پر تھے ۔ والد کی وفات کے بعد سید حسن عسکری نے ان کی سرپرستی کی اور خاندانی معاملات کو سلجھانے لگے تھے۔
ذکی شاداب نے اس عہد کے عید کی بعض مشہور اشیاء سے متعلق بتایا کہ مہمانوں کیلئے پلاؤ اور دم کی بریانی ہی کو فوقیت دی جاتی تھی ۔ مشقاب میں جو کھانا پیش کیا جاتا تھا وہ چوٹی دار ہوتا تھا اور اس سلیقے و طریقے سے نکالا جاتا تھا کہ ایک دانہ بھی گرتا نہیں تھا ۔ دسترخوان کے آداب کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا تھا ۔ میزبان سلخچی اور آفتابہ لیکر کھڑے ہوتے تھے، غرض کہ مہمان کو رحمت خدا سمجھا جاتا تھا اور ان کی آمد کو استحسان خیال کیا جاتا تھا ۔

قدیم تہذیب کے پروردہ ذکی شاداب تصورات میں کھو ئے ماضی کے روشن رخ دکھا رہے تھے ۔ ہم نے نظام کالج سے متعلق سوال کیا تو کہا کہ انٹرمیڈیٹ نظام کالج سے پاس کیا۔ نفسیات ان کا موضوع تھا ۔ عالم خوندمیری دوست بھی تھے اور استاد بھی۔ دیگر اساتذہ میں غلام دستگیر رشید ، کمار صاحب ، آغا حیدر وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ تین روزہ اردو فیسٹول اس عہد میںشروع ہوا تھا ۔ مجتبیٰ حسین جو آج کے ممتاز مزاح نگار ہیں، آرٹس کالج جامعہ عثمانیہ کی نمائندگی کرتے تھے ۔ وحید اختر ، حسن عسکری جیسی عبقری شخصیتوں نے کچھ ایسا ماحول پیدا کر رکھا تھا جو اب کبھی بھی پیدا نہیں ہوسکتا۔ فیسٹول کا اختتام نیلم سنجیوا ریڈی نے کیا تھا مکرم جاہ بہادر اور پنا لال پٹی بھی شامل ہوئے تھے ۔ آخری روز مشاعرہ ہوا تھا ، سرور ڈنڈا ، عزیز قیسی ، شاہد صدیقی کے علاوہ دوسرے نامور شعراء شریک ہوئے تھے ۔ ان کے بموجب 1952 ء میں جامعہ عثمانیہ سے بی اے اور 1954 ء میں ایم اے کیا ۔ وہاں بھی مجتبیٰ حسین کا ساتھ رہا ۔ وہ سوشیالوجی کے طالب علم تھے جبکہ شاداب صاحب سائیکالوجی کے اسٹوڈنٹ تھے ۔ جامعہ کے اساتدہ میں سروری صاحب، ڈاکٹر ولی الدین ، ڈاکٹر وحیدالدین ، صلاح الدین ، قاری کلیم اللہ صاحب، شیو موہن لال صاحب شامل ہیں۔ جامعہ عثمانیہ کی خوشگوار یادوں کا ذکر کیا اور کہا کہ ماہِ رمضان میں روزہ داروں کی فہرست تیار کی جاتی تھی اور ان کیلئے سحری کا معقول بندوبست کیا جاتاتھا ۔ یوم داغ بھی منایا گیا تھا جس میں محبوب کی مہندی کی کئی طوائفیں آتی تھیں۔ مغینہ سرتاج نے غزل گائی تھی۔ انہوں نے موضوع کے حوالے سے اپنے ایک دیرینہ رفیق مقصود کو یاد کیا اور رؤف سے متعلق بتایا کہ وہ نشرگاہ بیگم پیٹ میں ملازم تھے ۔ میوزک ڈائرکٹر تھے ۔ ماضی میں لاسلگی (wireless) نشرگاہ کو راجہ دھنراج گیر خاندان کے لوگ آیا کرتے تھے ۔ جہاں سے ہمہ اقسام کے پروگرام پیش کئے جاتے تھے ۔ وہاں ادبیات کا شعبہ بھی بہت سرگرم تھا ۔ خبریں ، اعلانات ، تقاریر ، مضامین ، منتخب کلام ، مباحثے ، ڈرامے نشریات میں شامل تھے ۔ تفریحی موسیقی Light Music اور معیاری موسیقی Classical Music کا بھی اہتمام تھا ۔ چونکہ اس وقت تینوں زبانیں عروج پر تھیں اس لئے تلنگی ، مرہٹی اور کنڑی زبانوں میں مفید اور معلوماتی پروگرام پیش کئے جاتے تھے ۔ دعائیہ اشعار پر پروگرام ختم ہوتا تھا ۔
تا ابد خالقِ عالم یہ ریاست رکھے
تجھکو عثماں بصد اجلال سلامت رکھے
مدارس میں بھی بطور ترانہ یہی اشعار پڑھے جاتے تھے جس کے خالق اعلیٰ حضرت نواب میر عثمان علی خاں آصف سابع تھے ۔ انہوں نے ریاست حیدرآباد کو نوابوں کی ریاست کہا اور بتایا کہ دیوڑھیاں اس ریاست کی آن بان اور شان تھیں جن میں امراء ، روساء اور ولیعہد براجمان ہوتے تھے۔ یہیں سے مفلوک الحال طبقہ فیض حاصل کرتا تھا ۔ ادب اور فنون لطیفہ کی سرپرستی ہوا کرتی تھی ۔ شعراء اپنے فن کی داد اور انعام و اکرام یہیں سے پاتے تھے۔ اقبال الدولہ کی دیوڑھی ، مہاراجہ کشن پرشاد کی دیوڑھی ، آسمان جاہ دیوڑھی ، نظیر نواز جنگ دیوڑھی ، مہدی نواز جنگ دیوڑھی ، عماد جنگ بہادر دیوڑھی ، بنسی لال دیوڑھی ، سالار جنگ کی دیوڑھی ، شوکت جنگ کی دیوڑھی ، عنایت جنگ کی دیوڑھی ، کمال یار جنگ کی دیوڑھی ، راجہ رائے کی دیوڑھی ، راجہ دھرم کرن کی دیوڑھی اور محبوب کرن کی دیوڑھی ، ریاست حیدرآباد کی مشہور دیوڑھیوں میں شمار ہوتی تھیں۔ اس کے علاوہ یہاں سکندر آباد کلاک ٹاؤر پولیس اسٹیشن محبوب چوک کلاک ٹاور ، فتح میدان کلاک ٹاؤر ، سلطان بازار کلاک ٹاؤر ، سٹی کالج ، چار کمان ، چارمینار ، خورشید جاہ بہادر کی بارہ دری ، آسمان گڑھ پیالس اور آسمان محل بھی معروف رہے۔

ذکی شاداب نے یہاں کی قدیم رسومات کا ذکر کیا اور کہا کہ شادی کے موقع پر بھوئی اپنے کندھوں پر دلہن کا جہیز لیجاتے تھے جن کے آگے آگے مددگار پٹرومیکس لئے چلتے تھے ۔ چاندی کا پلنگ دیا جاتا تھا ۔ ایروں غیروں کو بھی دور سے دیکھنے کی اجازت تھی ۔ چوریاں بالعموم ہوتی نہیں تھیں۔ شاذ و نادر ہوبھی جاتیں تو پولیس اہلکار چور کو بیڑیاں ڈال کر سر عام گھماتے ۔ اس قدر تضحیک کے بعد وہ کبھی چوری کی طرف مائل نہیں ہوتا۔
انہوں نے بتایا کہ فلک نما پیالس میں Billiard Table جو کانچ کا بنا ہوا تھا ۔ نیز وہاں کانچ کا صوفہ بھی تھا ۔ دو سو افراد کا ڈائیننگ ٹیبل اور گولڈن کراکری یعنی سونے کے ظروف تھے۔ اعلیٰ حضرت نے ہند وپاک جنگ کے بعد ملک کے معاشی استحکام کیلئے لال بہادر شاستری کو تمام ظروف کے علاوہ سونے کی اینٹیں دیدی تھیں ۔
انہوں نے ایک اور واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت جلسہ تقسیم اسناد ٹاؤن ہال موجودہ اسمبلی ہال میں ہوتا تھا جس میں مہاراجہ کشن پرشاد ، عماد الملک کے علاوہ ، حکومت ہند کے اعلیٰ عہدیدار اس میں شرکت کرتے تھے ۔ طلباء گون ، دستار اور کالی شیروانی پہنتے تھے جیسے عدالت العالیہ کے جج صاحبان۔ قبل ازیں ہی جلسہ لینڈ اسکیپ گارڈن جامعہ عثمانیہ میں ہو تا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اس ریاست کے رعایا پرور سلاطین نے جو نقوش چھوڑے ہیں، ان کو ابھارنے اور نمایاں کرنے کی سخت ضرورت ہے ۔ رواداری ، بے تعصبی ، تعلقات اور میل جول کی جس خوشگوار فضاؤں میں ہم سانس لیتے تھے ، اب وہ اسقدر زہر آلود ہوگئی ہیں کہ ہر طرف حبس ، گھٹن اور اخلاقی انحطاط میں نظر آرہا ہے اور ذکی شاداب کی دانست میں یہ سب اس لئے ہورہا ہے کہ ہم نے اسلاف کی تاریخ کو فراموش کردیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT