Monday , October 23 2017
Home / مضامین / حیدرآباد جو کل تھا سید محمد رشاد حسینی

حیدرآباد جو کل تھا سید محمد رشاد حسینی

محبوب خان اصغر
حیدرآباد دکن میں ایسے لوگوں کی کبھی بھی کمی نہیں رہی جنہوں نے جامع الکمالات ہونے کے باوجود خود کو مخفی رکھا۔ اپنی علمیت ، قابلیت اور ادبیت کے اظہار کے ذرائع تلاش نہیں کئے ۔ ہر چند کہ وہ ا س پر قادر تھے ، مگر گمنامی کی زندگی جینے ہی میں عافیت جانی ۔ سید محمد رشاد حسینی صاحب کا شمار ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے ۔ حکومت کینیڈا کے انتہائی اہم شعبہ یعنی انجنیئرنگ ڈپارٹمنٹ سے وابستگی نے انہیں دنیا بھر کی سیر کروائی ۔ وفاداری ، محنت ، دیانتداری اور لیاقت کے سبب وہ حکومت کی نگاہ میں قابلِ بھروسہ ٹھہرے۔ ان دنوں بحیثیت برتر مشیر (Senior Advisor) خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ماہِ رمضان میں اپنی والدہ محترمہ کے سانحہ ارتحال کے موقع پر حیدرآباد تشریف لائے تھے ۔ یوں بھی سال میں ایک دفعہ وہ اپنی جائے پیدائش کے دیدار سے مشرف ہوتے ہیں۔ یوں وہ دیارِ غیر میں رہ کر بھی اپنے دیار سے دور نہیں رہتے۔ حیدرآباد کا پروردہ حیدرآباد سے دور نہیں رہ سکتا۔ ملک کے حالات سے باخبری وطن سے محبت پر دلالت کرتی ہے۔

رشاد صاحب نے امسال اپنے دورۂ حیدرآباد کو یادگار بنایا۔ ایک طرف تو ان کی والدہ صاحبہ ملک عدم سدھار گئیں تو دوسری طرف مادر جامعہ نے اپنی صدی مکمل کرلی ۔ ہم نے جامعہ عثمانیہ کے صد سال مکمل ہونے پر ان کے تاثرات جاننے کی کوشش کی تو انہوں نے کہا کہ جامعہ عثمانیہ کے قیام کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ قوم اور ملک کی برتری اور اس کی عظمت کا اظہار ہو، ان کے بموجب ملک کی جامعات سے کسی قوم کی شائستگی اور آسودگی کا پتہ چلتا ہے ۔ چنانچہ انہوں نے بتایا کہ ریاست حیدرآباد کی جہاں متعدد امتیازی خصوصیات تھیں وہیں جامعہ عثمانیہ کا قیام اور وہاں کا ذریعہ تعلیم بھی ایک اہم خصوصیت تھی ۔ انہوں نے اس بات پر اظہار تاسف کیا کہ آج مقاصد کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے اور دورِ عثمانی میں مرتب کردہ لائحہ عمل سے سراسر غفلت اور تساہل برتا جارہا ہے اور تعمیری نصب العین کی وقعت کو گھٹادیا گیا ہے ۔ خود انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا بیش قیمت خیالات ملک کے مفاد میں نہیں ہوتے ۔ کیا تعلیمی اور سیاسی پختگی اقوام عالم میں عزت و وقار کا سبب نہیں ہوتی ۔ رشاد صاحب 3 اکتوبر 1942 ء کو قاری سید عبدالکریم کے گھر پیدا ہوئے ۔ عثمان پورہ چادر گھاٹ ان کی جائے پیدائش ہے ۔ جہاں بھوج راج نائیڈو کے مکان میں وہ قیام پذیر تھے ۔ مکان کا کرایہ پچاس روپیہ حالی تھا ۔ مالک مکان شریف النفس تھا ۔ اسے کبھی بھی مالک ہونے کا غرور نہیں تھا ۔ تکالیف اور مسائل کے بارے میں دریافت کیا کرتا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ علم و ادب کی مستحکم روایات کے درمیان ان کی نگہداشت ہوئی اور اس کا اثر ان کی فکر اور شخصیت پر پڑنا ایک فطری بات تھی ۔ انہوں نے عثمان پورہ کو بچپن کی آنکھ سے دیکھا ہے اور سر زمین حیدرآباد پر ایسی ایسی ہستیوں کو دیکھا ہے جن کے چال چلن میں ریاست حیدرآباد کی علمی ، ادبی ، تاریخی ، سیاسی اور مذہبی روایات کی جھلک پائی جاتی تھی ۔ کچھ عرصہ تک وہاں سکونت اختیار کرنے کے بعد ان کے آبا و اجداد بازارِ نورالامراء المعروف نور خاں بازار منتقل ہوگئے ۔ اس وقت وہ شعور کی منزل میں قدم رکھ چکے تھے ۔ ان کے مطابق 1949 ء میں نور خاں بازار میں علی پاشاہ کی درگاہ اور اس سے متصل مسجد کافی مشہور تھی۔ جہاں مصلیوں کی ایک بڑی تعداد عبادت کیلئے آیا کرتی تھی ۔ وہ اپنے والد کے ہمراہ جب مسجد جاتے تو انہیں ایسے مکان کثرت سے دکھائی دیتے تھے جن پر چلمنیں پڑی ہوتی تھیں۔ خواتین کا نامحرموں کے سامنے نکلنے کو بالکل ہی معیوب سمجھا جاتا تھا ۔ گھر کی سنِ رسیدہ خواتین نوجوان لڑ کیوں کو اپنے خالہ زاد پھوپی زاد اور دیگر رشتہ کے بھائیوں کا سامنا کرنے سے سختی سے منع کرتی تھیں۔ شام کے اوقات میں انہیں مذہبی کتابیں پڑھ کر سنائی جاتی تھیں اور تعلیم کا بندوبست گھر کے اندر ہی ہوا کرتا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پولیس کمشنر نورالحق اپنے فرائض کی ادائیگی میں دیانتداری کے سبب کافی مشہور تھے ۔ اسی زمانہ میں پٹیل میاں کا اسکول کا چرچہ بھی بہت تھا ۔ پٹیل میاں کے چار لڑکے تھے اور چاروں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اچھے عہدوں پر فائز تھے ۔ نورالحق ان ہی میں ایک تھے ۔ دوسرے عبدالقیوم تھے جو دارالطبع میں اسسٹنٹ ڈائرکٹر تھے ۔

ماہِ رمضان کے دوسرے عشرہ میں ہوئی بات چیت کے دوران انہوں نے بتایا کہ ایسے موقع پر حیدرآباد میں اپنی موجودگی کو وہ اپنی خوش بختی متصورکرتے ہیں کیونکہ اس ماہِ مقدس کی جو رونقیں اور گہما گہمی یہاں کے گلی کوچوں اور بازاروں میں نظر آتی ہے ، وہ کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتی۔ گوکہ مسجدیں دنیا کے ہر خطے میں موجود ہیں۔ بازار بھی ہیں اور ضرورتیں بھی کم و بیش وہی ہیں مگر جو جوش و خروش یہاں دیکھنے کو ملتا ہے وہ دوسری جگہ کم کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے ریاست حیدرآباد کے ماضی سے متعلق ورق گردانی کرتے ہوئے بتایا کہ دیگر ریاستوں کے مقابل اس ریاست کو تمام علوم اور ثقافت و تہذیب کا منبع کہا جاتا تھا ۔ بہ اعتبار رقبہ اس ریاست کو انگلستان کے ساہلی اہمیت حاصل تھی ۔ انہوں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ یہاں کے نظم و نسق اور انصاف رسانی کی مثالیں ساری دنیا میں دی جاتی تھیں۔ زبان چونکہ اردو تھی اسی لئے تمام شعبوں بشمول عدالت میں اردو کا چلن تھا ۔ ریاست حیدرآباد نے اردو زبان کے فروغ اور ارتقاء میں جو کردار ادا کیا ہے ، کوئی اور ریاست اس کی نظیر پیش نہیں کرسکتی۔ مغل حکمرانوں کے زوال کے بعد آصف جاہی حکمرانوں نے بالخصوص نواب محبوب علی پاشاہ اور اعلیٰ حضرت نواب میر عثمان علی خاں نے مملکت حیدرآباد میں جو کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں، اسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
رشاد صاحب کے بموجب ان کی ابتدائی تعلیم ماڈل پرائمری اسکول ایڈن باغ میں ہوتی تھی ، انہیں بعد میں مدرسہ عالیہ میں داخل کیا گیا ۔ وہاں کے ماحول سے وہ بیحد متاثر ہوئے ۔ صبح اسمبلی میں سورہ فاتحہ پڑھائی جاتی تھی اور ترانہ اردو اور فارسی زبان میں پڑھا جاتا تھا ۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ مدرسہ عالیہ اور نظام کالج کے فارغ التحصیل آج ٹورنٹو ، شکاگو ، ہیوسٹن ، لندن اور آسٹریلیا میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں، جو اپنی پیشہ وارانہ مصروفیات کے باوجود دیار غیر میں اردو کا چراغ جلائے رکھے ہیں ۔ حسن چشتی ، جعفر امیر ، ڈاکٹر صادق نقوی ، ڈاکٹر ضیاء الدین شکیب ، تقی عابدی ، نقی تنویر، عباس زیدی کے علاوہ اور بھی کئی ایسے نام ہیں جو حیدرآباد کے مدرسوں ، کالجوں اور جامعات کے علاوہ اپنے اساتذہ اور اپنے والدین کے ساتھ اپنے ملک کا نام روشن کئے ہوئے ہیں۔ غوث خواہ مخواہ ، مصطفیٰ علی بیگ اور حمایت اللہ متعدد بار مشاعروں میں شرکت کرچکے ہیں۔ ان تینوں شعراء نے طنز و مزاح سے مزین کلام سناکر سامعین کو بہت ہنسایا تھا ۔ اکثر سامعین کا یہ احساس تھا کہ وہ وطن سے دور نہیں بلکہ وطن ہی میں ہیں ۔ انہوں نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ لٹل فلاور اسکول سے میٹرک کامیاب کرنے کے بعد سٹی سائنس کالج سے PUC اور نظام کالج سے PPC کی تکمیل کی اور جامعہ عثمانیہ سے انجنیئرنگ کی سند حاصل کی ۔ انہوں نے اپنے تعلیمی سفر کے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہاں ریاضی اور سائنس کی تعلیم کا معیار بہت اعلیٰ تھا ۔ بنیادی تعلیم بھی بے مثال تھی ۔ مدرسین ذہین فطین اور لئیق ہوا کرتے تھے ۔
1948 ء میں وقوع پذیر پولیس ایکشن کی بابت انہوں نے بتایا کہ اس زمانے میں خان لطیف خان اسٹیٹ سے متصل پریڈ ولا ہوا کرتا تھا ، جسے ملٹری نے محصور کرلیا تھا ۔ لوگ اندیشوں کے ہولناک سایوں میں سانسیں لے رہے تھے ۔ وہ اپنے والد کے ساتھ مدرسہ عالیہ جارہے تھے ۔ آصف علی خاں کے فرزند لائق علی خاں جو کہ ایک بڑے صنعتکار تھے ، ان کی موجودگی میں ایک پولیس جوان نے ان سے ٹوپی اتار دینے کیلئے کہا تھا ، جس میں ایک مصلحت تھی ۔ انہوں نے ٹوپی اتار کر جیب میں رکھ لی تھی ۔ لائق علی خاں نے شفقت سے ان کے سرپر ہاتھ رکھا تھا ۔

ارجنٹائن ، ساؤتھ کوریا ، ٹورنٹو ، لندن ، ترکی ، جاپان اور سعودی عرب کے مختلف مقامات کا سفر کرنے والے معزز مہمان نے بتایا کہ اقطائے عالم میں ترکی ایک ایسا ملک ہے جسے دیکھ کر حیدرآباد کی یاد آتی ہے ۔ وہاں کی مساجد اور قبرستان بالکلیہ حیدرآباد جیسے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد یا ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ ساری دنیا میں شور و غل اور لڑائی جھگڑے اتنے نہیں تھے جتنے کہ آج ہیں۔ ہر ملک کی ایک انفرادی حیثیت تھی ۔ کمزور ممالک کو دبوچ کر ان پر اپنا سکہ جمانے کا رجحان اگرچیکہ پچھلے چند برسوں سے ہے مگر خطرناک ہے۔ اجتماعی شورش ، خوف اور تباہی کا یہ سلسلہ اب ہمارے ملک میں بھی نظر آرہا ہے ۔ انہوں نے پنڈت جواہر لال نہرو کی پالیسیوں کا ذ کر کرتے ہوئے ملک کے مفاد میں جامع منصوبہ بندی کو وقت کی اہم ترین ضرورت بتایا ۔
رشاد صاحب نے بتایا کہ ان کے والد گلبرگہ ہائی اسکول میں استاذ تھے ۔ انہوں نے جامعہ نظامیہ میں تعلیم حاصل کی تھی ۔ قرأت کے مقابلے میں ہمیشہ اول درجہ میں کامیاب ہوتے تھے ۔ قبل ازیں انہوں نے جا معہ عثمانیہ ہی میں تعلیم حاصل کی تھی ۔ مصر کی مشہور دینی درسگاہ جامعہ ا زہر میں بھی وہ سات سال تک حصول علم کے ساتھ علم بانٹتے بھی رہے ۔ اس زمانے میں حیدرآباد میں اردو ٹائپ رائٹنگ بہت ناقص تھی ۔ انہوں نے مطبع امیر میں اردو ٹائپ رائٹنگ سیکھی ۔ دفتر تعلیمات میں رہے۔ اکبر حیدری سے اجازت لے کر آل انڈیا نستعلیق کمیٹی تشکیل دی ۔ اس زمانے میں مولوی عبدالحق کی نگرانی میں چنچل گوڑہ میں دارالطبع تیار ہوا تھا ۔ ایران ، مصر ، بیروت میں نستعلیق کے نمونے روانہ کئے گئے ۔ اسی دور میں ان کے والد محترم کو مصر (Egypt) بلایا گیا ۔ وہ اپنے وقت کے بہترین خطاط (Caligrapher) تھے ۔ مذکورہ کمیٹی کی جانب سے 1933 ء بمبئی میں ایک (Industrial Trade Exhibition) کی داغ بیل ڈال گئی تھی ۔ جہاں خطاطی کے اعلیٰ نموننے پیش کئے گئے ۔ اس نمائش سے خطِ نستعلیق کی بہت تشہیر ہوئی ۔ ادارہ سیاست کی کاوشوں کی سراہنا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس فن کو فروغ دینے میں ادارے کے تمام لوگ قابل مبارکباد ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد 1945 ء میں ریاست حیدرآباد میں شورش پسندوں نے منصوبہ بندی شروع کر ڈالی ۔ برطانوی حکومت کے ساتھ مل کر سازشوں کا جال بچھایا گیا ۔ انہوں نے ان تمام محرکات کے مقاصد سے پردہ ہٹاتے ہوئے بتایا کہ یہاں پر قائم اسلامی طرز کی حکومت کا خاتمہ کرنا ہی مخالفین کا خاص مقصد تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ ایسے ناگفتہ بہ حالات میں چراغ علی گلی میں لاسلکی ریڈیو اسٹیشن قائم کیا گیا تھا جہاں سے عوام کو تازہ ترین حالات سے باخبر کیا جاتا تھا ۔ وہاں ایک بوتھ بنایا گیا تھا ۔ اس میں بیٹھ کر ان کے والد صاحب تلاوت کلام پاک کیا کرتے تھے۔ نواب میر عثمان علی خاں نے بھی ان کے والد کی خوش الحانی کو پسند کیا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں کی قدیم عمارتوں کی نگہداشت ضروری ہے ۔ یہ ہمارا سرمایہ ہیں اور ہماری شناخت ہے ۔ ان کے مطابق آج جہاں راج بھون قائم ہے ، وہ عمارت کبھی شاہ منزل کے نام سے مشہور تھی ۔ رٹز ہوٹل (Ritz Hotel) معظم جاہ بہادر کا مسکن تھا ۔ انہوں نے یہ بھی صراحت کی کہ یہاں (United State Information Library) بھی تھی ۔ جہاں نادر و نایاب کتابوں کا ذخیرہ تھا ۔ گھر لیجانے کی بھی اجازت تھی ۔ بچوں اور بڑی عمر کے لوگوں کے علاوہ خواتین میں مطالبہ کا ذوق و شوق پایا جاتا تھا ۔ ٹکنالوجی کی ترقی نے مطالعہ کے شوق کو یکلخت ختم کردیا ہے ۔ مگر آج بھی مطالعہ کی اہمیت مسلمہ ہے ۔

کمسنی سے اخبارِ سیاست کا مطالعہ کرنے والے رشاد صاحب نے کہا کہ مختلف تصانیف کے ساتھ روزنامہ سیاست ان کے زیر مطالعہ رہتا ہے ۔ ان کو چار لڑکے ہیں ، لڑکی نہ ہونے کا انہیں افسوس بھی نہیں ہے کہ تخلیق پر کسی کو اختیار نہیں ہوتا۔ آج کے قحط الرجال کے دور میں بھی ان کے گھر میں اردو پڑھی اور لکھی جاتی ہے ۔ بیٹے انہیں ابا کہتے ہیں اور ماں کو امی کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ کینیڈا میں رہتے ہوئے بھی ویسٹرن ماحول سے متنفر ہیں۔ اپنے ملک کی تہذیب کو پیش کر کے اور حیدرآبادی کہلانے میں ان کو اور اہلِ خاندان کو رومانی مسرت ہوتی ہے۔ انہوںنے بتایا کہ کینیڈا میں ترجمان کے نام سے اردو کا ایک رسالہ شائع ہوتا تھا جس کے مدیر محمد عبدالسلیم گولڈ میڈلسٹ جامعہ عثمانیہ تھے ۔ انتہائی ذہین ، فطین اور علمی استعداد کے مالک تھے ۔ ان کی اہلیہ ڈاکٹر مشتری ممتاز تاجر جناب ایف ڈی خان کی پوتی تھیں ۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ رسالے کے مدیر اردو کے سچے عاشق تھے ۔ اپنے ذاتی خرچ پر رسالہ ترجمان نکالتے تھے ۔ برسہا برس تک وہ اس رسالے کے توسط سے آصف جاہی عہد اور سلاطین کی تاریخ پیش کرتے رہے ۔ گویا کہ وہ وہاں شہر حیدرآباد کی تہذیب اور ثقافتی زندگی کی ترجمانی کر تے رہے۔ انہوں نے اس بات پر اظہار تاسف کیا کہ ان کے انتقال کے بعد ترجمان بھی مسدود ہوکر رہ گیا ۔ انہوں نے یہاں بھی ایک سوال اٹھایا کہ ایک مدیر اعلیٰ کی موت کے بعد اس کا اخبار یا رسالہ بھی مرجاتا ہے ۔ کیوں ؟ ان کی دانست میں اس کی ایک اہم وجہ جانشین کا صحافتی زندگی سے دور ہوتا ہے ۔ ا نہوں نے کہا کہ رابطہ عامہ (ٹی وی ، ریڈیو ، فلم اور اخبار) اہم شعبے ہیں، اپنی بات کو موثر انداز میں پیش کرنا بھی ایک فن ہے اور اس فن سے لاعلمی کے سبب جانشین اخبار یا رسالے کا سفر تادیر جاری نہیں رکھ سکتے۔ تاہم انہوں نے جناب عابد علی خان بانی اردو روزنامہ سیاست کے جانشین کی صلاحیتوںکا ذکر کیا اور اخبار کے توسط سے انجام پارہے مثبت اور فلاحی کاموں کی سراہنا کرتے ہوئے سیاست کی مقبولیت اور شہرت پر خوشی کا اظہار کیا ۔

اپنی پیدائش کے بعد کے حالات کا آج کے حالات سے موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آج فرقہ واریت کا جو زہر نظر آرہا ہے ، اس سے غفلت ملک کو تباہ و تاراج کرسکتی ہے ۔ آج لوگوں کے ذہن میں جیسے بارود سماچکی ہے ۔ کھلے میدانوں کی جنگیں بھی ذہنی جنگوں کے سامنے ہیچ لگنے لگی ہیں۔ ملک کی جدید تعمیر اور ارتقاء کے لئے بلا تفریق مذہب و ملت اور باہمی مصالحت کے ساتھ کام نہ کیا جائے تو پھر ملک کا اللہ ہی نگہبان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ا کثریتی فرقہ کا کردار مشکوک ہوجاتا ہے اور اقلیتیں شک و شبہ کے سائے میں جینے لگتی ہیں تو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ کشیدگی ملک کے مفاد میں ہرگز نہیں ہے۔ دوستی اور ہم آہنگی کو تقویت دینا آج کی اہم ضرورت ہے اور اسی میں ملک اور قوم کی ترقی کا راز مضمر ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT