Saturday , September 23 2017
Home / مضامین / ’’حیدرآباد جو کل تھا ‘‘ غلام قادر خان

’’حیدرآباد جو کل تھا ‘‘ غلام قادر خان

محبوب خان اصغرؔ
’’حیدرآباد جو کل تھا ‘‘ جیسے پسندیدہ موضوع پر ایک ایسی نامی گرامی شخصیت سے ہمکلامی کاشرف ہمیں حاصل ہوا جو غلام قادر خان کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔ جن کا نظریۂ حیات ’’نام بلند بہ از بام بلند ‘‘ کے مصداق ہے ( یعنی نیک نامی عالیشان عمارتوں والی جائیداد سے اور مال و دولت سے بہتر ہے ) ۔ انھوں نے کہاکہ آج کے سنگین حالات میں بہت سنبھل کر چلنے کی ضرورت ہے ۔ لغویات سے پرکھوں کی نیک نامی ، ساکھ اور آن بان چلی جاتی ہے، لازماً اس کا تحفظ کرنا چاہئے جوکہ وقت کی ضرورت بھی ہے اور اس سے صرف نظر کرنا ایک عظیم خسارہ ہوگا ۔
11 اگسٹ 1939ء کو غلام غوث خان کے گھر تولد ہونے والے غلام قادر خان کا مولد و مسکن حمایت نگر ہے۔ اپنی جائے پیدائش سے متعلق انھوں نے بتایا کہ ماضی میں یہ علاقہ بڑا ہی پُرسکون ہوا کرتا تھا اور لوگوں کی اکثریت بلا خوف و خطر سیکلیں چلایا کرتی تھی۔ شاپنگ مال تھے نہ ہی بھیڑ بھاڑ ہوا کرتی تھی ۔ سیدھے سادے لوگ تھے ۔ مرغی ، انڈے ، گھی اور اچار بیچنے والے گلیوں میں گھوما کرتے تھے ۔ ملاوٹ تھی نہ قول وفعل میں تضاد تھا صرف اعتماد کی بنیاد پر خریداری کی جاتی تھی ۔ خواتین مذکورہ سامان کے علاوہ پھل پھلاری بھی گھروں کے پاس ہی خریدا کرتی تھیں۔ موسم گرما میں کلفی ملائی بھی گلی کوچوں میں دستیاب ہوا کرتی تھی جوکہ بہت عمدہ اور لذیذ ہوا کرتی تھی ۔ صرف چار آنے میں بچے بڑے بوڑھے اشتیاق سے کھایا کرتے تھے ۔ آج قیمتیں کئی گنا بڑھ گئی ہیں اور ذائقے گم ہوگئے ہیں۔

خان صاحب کا تعلق ریاست حیدرآباد کے دو قدیم تجارتی اداروں سے ہے ۔ ددھیال گولکنڈہ سگریٹ فیکٹری کی وجہ سے جانا جاتا ہے، تو ننھیال کی شناخت کارخانۂ زندہ طلسمات سے ہے ۔ والد بزرگوار اول الذکر فیکٹری میں بحیثیت جنرل منیجر نصف صدی تک کارگزار رہے اور 1980 ء میں ان کی رحلت واقع ہوگئی ۔ حکیم محمد معزالدین (حقیقی ماموں ) کارخانہ زندہ طلسمات کے بانی اور موجد تھے ۔ اُس زمانے میں کسی بھی پروڈکٹ کی تشہیر ایک مسئلہ تھی لیکن ان کے ماموں نے تلسنکرات کے موقع پر پتنگوں کے ذریعہ اپنے پروڈکٹ کی پہچان کروائی ۔ ریل میں اس کو متعارف کروایا ۔ پہاڑوں پر جلی حرفوں میں اس کو نمایاں کیا ۔ انھوں نے بتایا کہ آج بھی زندہ طلسمات اور فاروقی منجن نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں فروخت ہوتا ہے ۔ گوکہ اس کی قیمت بڑھ گئی ہے مگر موثر ہے ،یہاں یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ مستقل مزاجی ہی کسی انسان کو دست کمال عطا کرتی ہے ۔

اپنے گم گشتہ ماضی کی و رق گردانی کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ 1870ء میں سالارجنگ اول نے مدرسہ عالیہ کی داغ بیل ڈالی تھی ۔ مدرسہ چادرگھاٹ ، گرامر اسکول عابد شاپ و بلارم ، رومن کیتھولک مشن اسکول ، ایس پی جے اسکول سکندرآباد وغیرہ بھی اُسی زمانے کے تعلیمی ادارے ہیں ۔ مفیدالانام ( کتھری) اور دھرم ونت ( کائستھ) مدرسے بھی اپنے مظاہرے کا زبردست ریکارڈ رکھتے ہیں ۔ متذکرہ تعلیمی اداروں میں مدرسۂ عالیہ کا شہرہ اس لئے بھی تھا کہ اس میں اپنے وقت کے اہم لوگ پڑھا کرتے تھے ۔ جن کا خاندانی پس منظر ہر اعتبار سے اعلیٰ ہوا کرتا تھا ۔ آغاز میں اس مدرسے نے اپنے جلو میں جن محترم شخصیتوں کو جگہ دی تھی وہ بھی اس قدر لائق اور فائق تھے کہ ان کا ثانی بھی ملنا مشکل تھا ۔ ای اے سیٹن، ڈاکٹر اگھورناتھ چٹوپادھیائے ، الفریڈ گلوری ، عبدالرحمن خان ، محمد جمال الدین ، مولوی حیدر طبا طبائی ، مرزا علی اکبر شیرازی جیسی ہستیاں بحیثیت مدرس یہاں کارگذار رہیں۔
انھوں نے بتایا کہ اس مدرسہ کے فارغ التحصیل میں پائیگاہ کے امراء اور شہزادے شامل ہیں۔ سالارجنگ سوم نواب میر یوسف علی خان کے علاوہ نواب عالم یار جنگ ، نواب سعید یار جنگ ، نواب زین یار جنگ ، نواب علی نواز جنگ ، راجہ پرتاب گیر جی نے اسی مدرسۂ ذیشان سے علم کی روشنی حاصل کی تھی ۔ خان صاحب نے 1946 ء میں اسی مدرسہ میں داخلہ لیا ۔ ان کے بموجب مدرسہ عالیہ کی عمارت ابتداء میں رومبولڈ کوٹھی میں تھی ۔ انھیں جو اساتذہ میسر آئے تھے ان میں قابل ذکر نندنی ، تاراپور والا ، گارڈنر ، عزینا ، تائیتال ، ہیلومن ،اور صاحبزادہ اشرف الدین ہیں۔ ہائی اسکول کے اساتدہ میں اے ایم پوتان ، اے جے سوما سندرم ، قاضی محمد جان صدیقی ، پرہاد ، کپاڈیہ ، بھاسکر نارائن ، عبدالحی ، شوکت حسین ، محمود پاشاہ شیرازی ، ارشد علی ، حیات خان ، رگھویا راؤ شامل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ماحول چاہے گھروں کا ہو کہ دانش گاہوں کا یہاں کا اتحاد و اتفاق اور باہمی محبت و دوستی کی مثالیں اب نہیں مل سکتیں۔ اس کی وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ آج بلند کردار اور وسیع اخلاق کی حامل شخصیتیں مفقود ہوچکی ہیں جو نئی نسل کی رہبری و رہنمائی کیلئے ناگزیر تھیں۔

غلام قادر خان نے دکن کی قدیم تہذیب کو اُجاگر کرتے ہوئے ایک واقعہ سنایاکہ کسی تقریب میں مفخم جاہ بہادر کھڑے ہوئے تھے کسی نے احتراماً کرسی پیش کی اور بیٹھنے کیلئے کہا تو انھوں نے برجستہ کہا ’’میں کیسے بیٹھ سکتا ہوں چچا کھڑے ہوئے ہیں ‘‘ ۔ کہیں دور ہاشم جاہ بہادر اپنے رفقاء کے بیچ کھڑے ہوئے تھے ۔ انھوں نے برسبیل تذکرہ کہا کہ استاذ محترم بھاسکر نارائن اپنی سیکل پر مدرسہ عالیہ تشریف لارہے تھے ۔ وہ آگے تھے اور ایک موٹر کار اُن کے پیچھے تھی جو کسی قدر دھیمی رفتار سے چل رہی تھی۔ بالآخر وہ مدرسہ کے احاطے میں داخل ہوگئے اور بعد میں آنے والی کار کو دیکھنے لگے جس میں سے نواب عابد علی خان بانی روزنامہ سیاست کے حقیقی چچا نواب مخدوم علی خان اُتر رہے تھے ۔ وہ سیدھے اپنے استاذ کے نزدیک آئے اور ادب سے سلام کیا۔ پوچھا گیا کہ دھیمی رفتار سے کیوں آرہے تھے ۔ نواب صاحب نے کہاکہ اخلاق و مروت کاتقاضہ یہی تھا کہ اپنے استاذ کے پیچھے چلنا چاہئے ۔ جواب سن کر بھاسکر نارائن صاحب بہت خوش ہوئے ۔ یہ کل کے حیدرآباد کا ایک روشن پہلو ہے ۔ معاشرہ تہذیب و تمدن سے اور طلباء تعلیم و تربیت سے مزین تھے ۔ اساتذہ میں ذہن سازی کا مذاق اور طلبہ میں فکر کے گوہر ہوا کرتے تھے ۔ آج یہ سب قصۂ پارینہ لگتے ہیں۔ انھوں نے پرانی تہذیب کے حوالے سے کہا کہ اگر کوئی مہمان گھر آتا تو میزبان شیروانی پہن کر ہی مہمان سے ملا کرتے تھے ۔ دیگر افرادِ خاندان کی بابت معلومات حاصل کی جاتیں اور اپنے احوال سناکر نہایت خوش دلی سے اس کی ضیافت کی جاتی تھی ۔ آج کی صورتحال اس کے برعکس ہے ۔

اپنے تعلیمی سلسلے کے متعلق بتاتے ہوئے انھوں نے کہاکہ سیف آباد کالج سے پی یو سی کرنے کے بعد 1957 ء میں نظام کالج میں داخلہ لیا جہاں مفکر اور دانشور پرساد راؤ ، پرنسپال تھے دورا سوامی نے انھیں انگلش پڑھائی ۔ ڈاکٹر چاری نے ریاضی اور جیک صاحب نے سائنس کی تعلیم دی جبکہ پروفیسر سیدہ جعفر سے وہ اُردو پڑھا کرتے تھے ۔ گریجویشن کی تعلیم کے دوران ڈاکٹر گیتا ریڈی ، سبی رام ریڈی ، جئے سما ( کرکٹر) اور مصطفی شہاب اور دیگر ان کے ہم جماعت رہے ۔ 1960ء میں وہ گرائجویٹ بن گئے ۔ اور دو سال نواب حبیب جنگ کے ہاں Princely Travel India میں کام کیا اور Zinfa  ( زندہ طلسمات اور فاروقی منجن کا مخفف ) ایجنسی کے نام سے ڈسٹری بیوشن شپ حاصل کی اور اٹھارہ سال تک اس کو سنبھالا اور فروغ دیا ۔ اس عرصہ میں وہ مختلف عہدوں پر براجمان رہے اور سیلز منیجر تک رسائی حاصل کرنے کے بعد ایجنسی کو خیرباد کہہ دیا اور رئیل اسٹیٹ کے پیشے سے منسلک ہوگئے اور بعض وجوہ کی بناء پر جلد ہی اس پیشے سے علحدہ بھی ہوگئے ۔ اور خاندان کے بعض ذی اثر افراد سے مشاورت کے بعد 1994 ء میں امریکہ روانہ ہوگئے اور مسلسل اجتہاد نے انھیں اُن کی منزل تک پہنچادیا ۔ امریکہ کی شہریت انہیں حاصل ہے ۔ ہمارے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں چلے جائیں حیدرآباد کی گنگاجمنی تہذیب کہیں بھی نہیں ملے گی ۔انھوں نے بتایا کہ امریکہ میں بھی اردو اپنی خوشبو پھیلاچکی ہے ۔ وہاں بھی ادبی محفلیں اور مشاعرے ہوتے ہیں اور سخن فہمی کیلئے کئی غیر اردو داں اُردو کی طرف راغب ہورہے ہیں ۔ اُردو سکھائی جارہی ہے ۔ جماعتوں میں ہندو اور دوسرے مذاہب کے لوگ شریک ہوتے ہیں۔ احمد بیگ اور حسن چشتی ان کے اچھے دوست ہیں ۔ انھوں نے نواب میر عثمان علی خاں آصف سابع کے نام سے موسوم جامعہ عثمانیہ کے حوالے سے کہا کہ یہ عہد آصفیہ کی بے مثال یادگار ہے جہاں کی علم نواز اور علم پرور فضاء میں ہندوستان کی مشترکہ زبان و تہذیب کی آبیاری ہوئی ۔ موجودہ نسل کی مادری زبان سے دوری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے اساتذہ اور سرپرستوں سے استدعا کی کہ وہ اس زبان کی افادیت کو طلبہ پر منکشف کریں۔

انھوں نے اپنے والد بزرگوار کے مخدوم محی الدین سے گہرے روابط ، مراسم کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ مخدومؔ چچا ان کے گھر اکثر آیا کرتے تھے جہاں ان کی حیثیت گھر ہی کے ایک فرد جیسی تھی ۔ بزم شعر و سخن میں ان کی موجودگی سے چار چاند لگ جاتے تھے ۔ اُس زمانے میں ان کے خلاف سمن جاری ہوگیا تھا انھوں نے پروانۂ طلبی کو خاطر میں نہیں لایا اور کچھ روز ان کے ہاں مقیم رہے ۔ انھوں نے بتایا کہ جہاں مخدوم ہوتے وہاں سوائے مخدوم کے کچھ نہیں ہوتا تھا ۔ ان ہی کا طوطی بولتا تھا اور ان ہی کا سکہ چلتا تھا ۔ کام میں ان کا استغراق کچھ یوں ہوا کرتا تھاکہ دورانِ کام غیرمتعلقہ اُمور کو وہ غیر اہم سمجھتے تھے اور جب گپ شپ ہانکنے لگتے تو ادب کی چاندنی سے فضاء کو معطر کردیتے تھے ۔ والدہ محترمہ سخت پردہ کرتی تھیں لیکن مخدومؔ چچا سے اُنسیت اور برادرانہ تعلق کے سبب انھوں نے اپنے والد ، مخدوم اور والدہ محترمہ کو اکثر محوِ گفتگو دیکھا تھا ۔ انھوں نے مخدوم کے حوالے سے اپنی شادی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ دعوت نامہ لے کر مخدوم چچا کے گھر پہنچے اور دعوت نامہ حوالے کیا مخدوم نے مسرت کا اظہار کیا ۔ دریں اثناء اُنھوں نے بموقع شادی مخدوم سے سہرہ لکھنے کی خواہش کی ۔ مخدوم نے یکبارگی درشت لہجے میں کہا ’’کیا تم مجھے سہرہ لکھنے والا شاعر سمجھتے ہو ‘‘ وہ دُم دبائے چلے آئے اور اپنے والد سے واقعہ سنایا تو وہ بھی ان کی اس حرکت پر ناراض ہوئے اور برہم بھی ۔ مخدوم بروز شادی نہ صرف حاضر ہوئے بلکہ سہرہ بطور تحفہ عنایت فرماکر ان کی خوشیوں کو دوبالا کردیا ۔ اس واقعہ کو نصف صدی گذر گئی مگر ان کے ذہن میں واقعہ اور سہرہ ہنوز تازہ ہے ؎

ابھی یہ رات کے گیسو کھلے نہ دل مہلکا
کہو نسیم سحر سے ٹھہر ٹھہر کے چلے
ملے تو بچھڑے ہوئے میکدے کے در پہ ملے
نہ آج چاند ہی ڈوبے نہ آج رات ڈھلے
غلام قادر خان نے بتایا کہ کسی رات مخدوم چچا کی طبیعت اچانک بگڑی تو انھوں نے والد کو اطلاع دی ۔ والد کے حکم پر کار لے کر مخدوم کے گھر پہونچے اور انھیں اپنے ہمراہ لئے عثمانیہ دواخانہ گئے ۔ استقبالیہ پر نام درج کرنے کے بعد ریسپشینسٹ نے کاسٹ (Caste) کی بابت پوچھا ۔ مخدوم چچا چپ سادھے رہے دوبارہ پوچھنے پر جھنجھلاکر کہا ’’کاسٹ ہے نہیں تو بتائیں کیا؟‘‘ ۔
ہم نے گھڑسواری (Horse Riding) سے متعلق سوال کیا تو انھوں نے بتایا کہ یہ ان کا دیرینہ شوق ہے جو وقت کے ساتھ پروان چڑھتا رہا ۔ تفصیل یوں بتائی کہ اے سی گارڈ میں CAVELRY دواخانہ تھا جسے ویٹرنری ہاسپٹل بھی کہا جاسکتا ہے ۔ اب مسددو ہوگیا ہے۔ اُس کے آس پاس آندھراپردیش رائیڈنگ کلب بھی تھا جو 1956 ء میں قائم ہوا تھا ۔ اس کے قیام میں سابق چیف منسٹر برہمانند ریڈی نے اہم کردار ادا کیا تھا اور بھی متمول لوگوں نے مالی اعانت کی تھی اور دس گھوڑوں سے کلب کا آغاز ہوا تھا ۔ موجودہ جے این ٹی یو سی (JNTUC) کی زمین اس کلب کی تھی ۔ موجودہ مہاویر دواخانہ بھی کلب ہی کے تحت تھا جہاں اسکولنگ کی جاتی تھی ۔ فلم ایکٹر و سابق چیف منسٹر آندھراپردیش این ٹی راما راؤ نے اس کلب میں گھڑ سواری سیکھی تھی ۔

اُس زمانے میں اس فن کو سیکھنے کا شوق لوگوں میں دیکھا گیا ۔ کچھ لوگ تو مہارت حاصل کرکے یوروپین ممالک میں روزگار سے لگ گئے ۔ 1986 ء میں Horse Polo کلب بھی قائم ہوا تھا اور ایک ٹیم تشکیل دی گئی تھی ۔ شاہ مرزا بیگ کا شمار بہترین پولو کھیلنے والوں میں ہوتا تھا ۔ وہ کپتان تھے کرنل حامداﷲ ، بریگیڈیر توفیق ، شاہ پور چینائی بھی ٹیم میں شامل تھے ۔ اس ٹیم کے کرتا دھرتا اعظم جاہ بہادر تھے ۔ انھوں نے گھڑ سواری کو زبردست ورزش سے تعبیر کرتے ہوئے اس کے احیاء کو وقت کی ضرورت بتایا۔ انھوں نے کہاکہ انسانی تاریخ گھوڑوں سے مربوط رہی ہے ۔ انسانی تمدن کی ترقی اور سلطنتوں کی بقاء کا تعلق بھی گھوڑوں کے استعمال پر تھا ۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں گھوڑوں کی اہمیت کم ہوگئی ہے اور حیات انسانی سے یہ دور نکل گئے ہیں۔ انھوں نے یہ نویدِ جانفزاء بھی سنائی کہ نصر اسکول والوں نے گھڑ سواری کا نظم کر رکھا ہے ۔ اس فن سے متعلق کتابیں اور بہت سارا مواد انھوں نے اسکول انتظامیہ کو دیا ہے جس میں گھوڑوں کی مالش سے لے کر بیٹھک تک معلومات مرقوم تھیں۔ انھوں نے اپنی گفتگو کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ درخت اور جانور خدا کی خلاقیت کے مظہر ہیں اور ان کی حفاظت کرنا ہم سب کیلئے ازحد ضروری ہے !

TOPPOPULARRECENT