Sunday , September 24 2017
Home / مضامین / حیدرآباد جو کل تھا محمد نعیم صابری

حیدرآباد جو کل تھا محمد نعیم صابری

محبوب خان اصغر
روئے زمین پر کچھ فنکار ایسے ہیں جو اپنے دستِ ہنر کو آفاق گیر بنانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ عصر زندگی اور عصری میلانات ان کیلئے بے معنی ہوتے ہیں۔ انہیں صرف اپنی صناعی کے اعلیٰ سے اعلیٰ ترین نمونے پیش کر کے ہی روحانی آسودگی ملتی ہے ۔ ایسے ہی فنکاروں میں نعیم صابری کا شمار ہوتا ہے۔ کیلی گرافی یا خطاطی ان کا اوڑھنا بچھونا ہے اور یہ اپنے فن کے بڑے صناع ہیں اور یہ فن انہیں کلیتہً ودیعت ایزدی ہے جسے انہوں نے اب تک سینکڑوں لوگوں کو سکھاکر ایک طرف انہیں خود مکتفی بنایا ہے تو دوسری طرف اس کی بقاء ، ارتقاء اور فروغ میں اہم ترین حصہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے اپنے فن میں فطری پن کو یوں نمایاں کیا ہے کہ اس فن کے تئیں ان کی غیر معمولی ذہانت اور قوت متخیلہ پر حیرت ہوتی ہے۔ کبرِ سنی نے انہیں کبھی بھی کبیدہ خاطر نہیں کیا بلکہ مصروفیت ہی کی وجہ سے وہ چاق و چوبند رہا کرتے ہیں۔
نعیم صابری کے بموجب وہ پڑھے لکھوں کی صحبت میں فیض پائے ہوئے آدمی ہیں۔ ان کے والد بزرگوار محمد خواجہ صابری بذاتِ خود ستودہ صفات اور نیک انسان تھے جن کی دانست میں ریاست حیدرآباد کے قدیم مدرسے دارالعلوم اور دارالشفاء اور وہاں کے مدرسین طلباء کیلئے بہترین رہبر تھے ۔ اسی کے پیش نظر والد محترم نے انہیں دارالعلوم مدرسے میں شریک کیا ۔ وہاں جو اساتذہ انہیں میسر آئے وہ بھی صحبت یافتہ تھے ، اس کے بعد دارالشفاء ہائی اسکول کے مدرسین بھی مثالی رہے، ان کے پاپوش اٹھائے اور خوب خدمت کی تو اس کا ثمرہ  یوں ملا کہ ان کی خوبو نعیم صابری میں منتقل ہوگئی جس کے بعد زندگی کی دشوار گزار راہوں سے گزرنا ان کیلئے آسان ہوگیا۔

انہوں نے اس بات کا انکشاف بھی کیا کہ ابتداً  انہیں مصوری کا شوق چرایا تھا ۔ والد محترم چراغ پا ہوئے اور خطاطی کی طرف انہیں مائل کیا اور آرٹس کالج میں انہیں شریک کردیا گیا ۔ تین سالہ پری ڈپلوما کورس تھا ۔ ایک مشہور تعلیمی ادارے میں گزارے ہوئے تین برسوں نے انہیں زندگی کی رمق دی۔ زمانے کے بدلتے ہوئے دھاروں سے روشناس ہوئے ۔ انہوں نے وہاں قدامت پسندی کو دیکھا۔ قدیم تہذیب اور ثقافتی زندگی کا لطف حاصل کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ اس ریاست میں عرصہ دراز تک تہذیب کی اجارہ داری رہی ہے ۔ افکار اور اقدار کا تحفظ کیا جاتا رہا ہے ۔ آج فکر و خیال کے نئے پیمانوں نے سیاسی اور سماجی سطح کو اتھل پتھل کردیا ہے ۔ آج یہ ریاست استحصال کا مرکز بن گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آرٹس کالج میں محبوب علی اطہر ہیڈ کیلی گرافر تھے۔ دور سے رشتہ داری کے سبب وہ انہیں عزیز رکھتے تھے۔ اسی یگانگت کے سبب وہ ایک خوابیدہ فن یعنی خطاطی کی جانب راغب ہوگئے۔ محبوب علی اطہر آزمودہ کار فنکار تھے ، ان کی معیت میں انہوں نے اپنی مشکلوں کو آسان کیا ۔ فن میں کمال اور مہارت پیدا ہونے لگی اور یہ عقیدہ بھی کھلا کہ ’’تحصیل‘‘ اور اکتساب‘‘ میں کیا فرق ہے۔؟ خطاطی ان کیلئے مرغوب الطبع بن جانے کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ اس فن سے منضبط ہوکر دل دماغ جسم اور روح پاکیزہ ہوجاتے ہیں۔ مصیبت سے بچنا آسان ہوجاتا ہے اور قدم حسنات کی طرف اٹھنے لگتے ہیں۔ دوسری وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ چھوٹی سی زندگی میں کشمکش حیات کا متحمل ہونا ان کے بس کی بات نہیں تھی اور تن آسانی کیلئے خطاطی کا میدان مفید ثابت ہوسکتا تھا ۔ چنانچہ یہی ہوا ۔ پچھلے تین دہوں سے چھتہ بازار جمال مارکٹ میں ان کا ورکشاپ رواں دواں ہے۔ فارغ البالی اسی پیشے کی دین ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے کارخانے میں متعدد نوجوانوں نے یہ فن سیکھا اور خطاط کہلائے اور اس فن کو ذریعہ معاش بھی بنایا۔ لیکن کسی بھی خاتون نے اس فن کی جانب توجہ نہیں دی ۔ البتہ تاریخ میں اورنگ زیب کی دختر زیب النساء سے متعلق یہ ثابت ہے کہ وہ بہترین کیلی گرافر تھیں اور ان کی خطاطی کے نادر نمونے بھی موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فن خطاطی صحابہ رضی اللہ تعالیٰ اجمعین سے ہوتا ہوا اولیائے عظام اور سلاطین وقت تک پہونچا ہے ۔ یہ ایک ایسا فن ہے جس سے تھوڑی سی بھی آشنائی ہوجائے تو واقف کار اس وقت تک ایک اضطراب آمیز سکون سے گزرتا رہتا ہے ، جب تک کہ اس کو مذکورہ فن کی پوری آگہی حاصل نہ ہوجائے ۔ سردست انہوں نے اس کی وجہ تسمیہ کو بھی بیان کیا اور کہا کہ یہ یونانی لفظ Kallos اور Graphos سے مشتق ہے اور اس کے معنی Beautiful کے بھی ہیں۔ اس طرح خطاطی یعنی کیلی گرافی کا مطلب خوبصورت لکھت ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہر خوبصورت لکھت کو خطاطی نہیں کہہ سکتے ۔ خطاط یا Caligrapher کیلئے رسم الخط کا ادراک اور مہارت کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے ۔ یہ ایک ایسا فن ہے جو مسلسل ریاضت کے بعد ذہن و دل میں بلکہ سرشت میں سرایت کرجاتا ہے جس کے بعد اس فن میں ترقی کے مدارج طئے کرنے کیلئے ذہن و دل کا مصفا ہونا اولین شرط ہے۔
نعیم صابری کے مطابق خطاطی کی تاریخ بہت قدیم ہے چونکہ اسلام میں جانداروںکی تصویر کشی ممنوع ہے، اسی لئے اہل عرب نے اپنے قلم کی جولانیاں دکھانے کیلئے کتابت اور خطاطی کو اہمیت دی، جس کے نتیجہ میں سعودی عرب ، ترکی ، پاکستان ، مصر ، کویت ، مسقط اور عرب امارات کے علاوہ دوسرے ممالک میں خطاط حضرات کی مانگ حد درجہ بڑھ گئی اور انہیں منہ مانگا معاوضہ دیا جانے لگا۔ انہوں نے خطاطی کیلئے کتابت میں مہارت کو ضروری بتاتے ہوئے کہاکہ جب کوئی عبارت آرائش و زیبائش اور فنکارانہ مہارت کے ساتھ لکھی جاتی ہے تو وہ خطاطی کہلاتی ہے۔ قوت مشاہدہ ، استاد کا احترام ، ہدایات پر عمل آوری ، یہ ایسے عوامل ہیں جن کو فوقیت اور اہمیت دینے سے خطاطی کے اسرار و رموز جلد کھلتے ہیں۔

ہر چند کہ نعیم صابری مصوری کے میدان کے بھی شہوار ہیں۔ اس زمانے میں اس میدان کے جن نامی گرامی ، آرکیٹکٹ کے ساتھ ان کے مراسم رہے ، ان میں مجید آرکیٹکٹ سرفہرست ہیں۔ طنز و مزاح کے مشہور شاعر طالب خوندمیری کو عمارت سازی میں یہ طولیٰ حاصل تھا ۔ عابد شاپ گن فاؤنڈری پر اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد کی وسیع و عریض عمارت کا نقشہ فیاض الد ین آرکیٹکٹ کا بنایا ہوا ہے جو آج بھی جاذب نظر اور دل و دماغ کو مسحور کرتا ہے۔ ان کا شمار ٹاؤن پلانر میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدیم حیدرآباد کی اکثر قدیم شخصیتیں فطانت اور متانت کی حامل ہوا کرتی تھیں۔ شریف النفسی کے دامن کو انہوں نے کبھی نہیں چھوڑا۔ تقسیم ہند و پاک کے بعد قابل اور عالیشان و عالی جاہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد برصغیر ہجرت کر گئی جو کہ ایک خسارے کی بات تھی ان میں بہترین خطاط بھی شامل تھے۔
ماہر خطاط نعیم صابری نے ہمارے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ فنونِ لطیفہ میں اگرچیکہ بہت سی چیزیں شامل ہیں اور جن میں قابل ذکر مصوری ، نقاشی ، موسیقی ، سنگ تراشی اور تعمیرات ہیں لیکن ان میں لطیف فن خطاطی ہے بلکہ خطاطی ہی فنونِ لطیفہ کی معراج ہے ۔ قلم ، قلم تراش، رنگ ، پانی اور کاغذ (Paper) اس فن کے اہم لوازمات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس فن میں سب سے اہم چیز قلم ہے ۔ اگر قلم درست ہو اور اس پر قابو پانا آجائے تو ایک ماہر خطاط بننے کے آثار روشن ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے سلسلہ گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہاکہ خطاطی کے قلم بانس کو چیر کر بنائے جاتے ہیں ۔ اس کو تراشنا خود بھی ایک فن ہے ۔ جو رنگ خطاطی کیلئے استعمال ہوتے ہیں، یہاں بھی دستیاب ہیں، سستے ہیں۔ ان کی خوبی یہ ہے کہ واٹر پروف یعنی  پانی کا اثر ان پر نہیں ہوتا۔ اکثر خطاط حضرات نے زمین پر بیٹھ کر لکھنے ہی کو ترجیح دی ہے۔ میز کرسی کا استعمال بھی ہوتا ہے مگر کم کم ۔ انہوں نے اسی فن کی نکات سے متعلق بتایا کہ یہ ایک روحانی فن ہے ۔ متقدین نے اس فن کو محترم جانا اور خالق کائنات کی بخشی ہوئی خصوصی صلاحیتوں کے سبب اس کے فروغ میں ذہنی نطافت کو بروئے کار لایا ہے۔ ثلث ، نسخ ، کونی، غبار ، دیوانی، شکستہ اور نستعلیق اس کے اہم خط ہیں۔ ان میں ثلث مروج ہے۔ نستعلیق کے بارے میں بتایا کہ اس کے موجد ایرانی خطاط میر علی تبریزی ہیں، اردو کی اشاعت کیلئے اس خط کو اختیار کیا گیا ہے ۔ نستعلیق ایران کے راستے افغانستان اور پھر ہندوستان پہونچا اور ارتقائی منازل طئے کرتا ہوا پاکستان اور ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں پھیل گیا۔
انہوں نے عربی رسم الخط میں ’’کوفی‘‘ کی اہمیت سے متعلق بتایا کہ اس کی تاریخ بہت قدیم ہے ۔ نبی اکرم نے حکمرانوں اور بادشاہوں کے نام جو مکتوب روانہ کئے تھے ، وہ خط کوفی میں تحریر کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ سلاطین دہلی کی تعمیر کردہ بعض عمارات پر جو قرآنی آیات کندہ ہیں وہ کوفی ہی ہیں جس کی وجاہت اور دیدہ زیبی لاجواب ہے۔ مغلیہ دور کی تعمیرات کیلئے اس خط کااستعمال خصوصی طور پر کیا گیا ہے۔
نعیم صابری نے بتایا کہ احاطہ سیاست میں گزشتہ پانچ سال سے خطاطی کی جماعتوں کا اہتمام کیا جارہا ہے اور اس میں مدیر اعلیٰ زاہد علی خاں صاحب اور ان کے معاونین کی ذاتی دلچسپی کا بڑا دخل ہے ۔ ماہر خطاط مقرر کئے گئے ہیں اور ان جماعتوں میں داخلے کیلئے کوئی فیس نہیں لی جاتی ۔ سیاست کی بالائی منزل پر بنام آرٹ گیلری  خطاطی کے سینکڑوں نمونے جمع کئے گئے ہیں  اور ادارے کی جانب سے خطاطی کی نمائش کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ مقامی اور غیر مقامی لوگوں کی کثیر تعداد اس کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ سردست انہوں نے یہ بھی کہا کہ جمال مارکٹ میں قائم ان کے ورکشاپ  میں چھوٹے بڑے اور سست مہنگے طغرے دستیاب ہیں۔ طغروں کے چوکٹھے بنانے میں انہیں مہارت حاصل ہے یعنی  Self Framing کرلیتے ہیں۔

سعودی عرب کے مختلف مقامات کویت، جبیل، دمام اور مدینہ منورہ کے علاوہ دہلی ، بنگلور ، الہ آباد وغیرہ میں بھی انہوں نے خطاطی کی نمائش لگائی تھی جہاں فن کے قدر دانوں نے قیمتی طغرے خریدے۔ ہزاروں طغروں کی نکاسی ہوئی ۔ طغروں کے نرخ کے بارے میں بتایا کہ دو سو روپئے سے لے کر پچاس ہزار تک موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قطب شاہی اور آصفجاہی سلاطین نے خطاط حضرات کی بہت سرپرستی کی۔ اس عہد میں خوبصورت خط میں نام بھی لکھنے سے ملازمت کا مل جانا یقینی تھا۔ بادشاہِ وقت اور سلاطین کو خطاطی محبوب بھی تھی اور مرغوب بھی ۔ اردو ہو کہ فارسی یا کوئی اور زبان ہو کیلی گرافی اس کی جان ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قدیم زمانے میں خطاطی کیلئے عام کاغذ کا استعمال ہوتا تھا ۔ کاغذ کو چاول کی پیچ میں بھگوکر اسے سکھایا جاتاتھا ۔ سمندر کنارے سیپی تلاش کئے جاتے تھے ۔ کوڑی بھی خطاطی کیلئے استعمال ہوتے تھے لیکن آج یہ فن جتنا جمالیاتی ذوق کا ترجمان ہے اس وقت نہیں تھا ۔ آج کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا چلن عام ہے ۔ آرٹ پیپر دستیاب ہے۔ دنیا کا بادشاہ یعنی قلم ہے گو کہ بانس کا ہوتا ہے مگر یہی بانس کا قلم ایک کیلی گرافر کا سب سے قیمتی ہتھیار ہے۔
نواب میر عثمان علی خاں آصف سابع کے بارے میں بتایا کہ رعایا میں علم کو عام کرنا ان کا مقصد تھا ۔ اچھے ذہان کے حامل طلباء کی راہ میں درپیش مالی مسائل کو حل کر کے انہیں سہولتیں بہم پہونچایا کرتے تھے ۔ ان کی اعانت کی وجہ سے کئی طلباء نے برطانیہ میں اعلیٰ تعلیمی مراحل طئے کئے اور واپس آکر ملک کی خدمات انجام دیں۔ ستاسی سالہ نعیم صابری نے بتایا کہ فن خطاطی نے ان کے دامن کو فیاضیوں سے بھردیا ہے۔ انہوں نے چار لڑکیوں کی شادیاں کیں ۔ دو لڑکے ہیں وہ بھی شادی شدہ ہیں اور دونوں بہترین خطاط ہیں جو اس فن کا فیضان حاصل کرنے کی تگ ود میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے دیرینہ رفیق سلام خوشنویس مرحوم کی بابت بتایا کہ ان کے کام میں نفاست تھی اور انہوں نے ساری زندگی اس فن کی خدمت کی ۔ ضمیر صاحب اور غفار صاحب بھی ان کے دوستوں میں شامل ہیں جو خطاطی کے بڑے ہی ماہر شمار کئے جاتے ہیں ۔ مزید برآں انہوں نے بتایا کہ مہاراجہ کشن پرشاد کا شمار بہترین خطاط میں ہوتا ہے۔
گفتگو کے آخری مرحلے میں انہوں نے بتایا کہ وہ پی ڈبلیو ڈی (Public work Department) میں ملازم تھے ۔ گوداوری ویلی سرکل پوچم پہاڑ کے اس شعبہ میں طویل عرصہ تک کارگزار رہے جہاں مختلف مذاہب کے افراد تھے مگر باہم مل جل کر رہا کرتے تھے ،کوئی بھید بھاو اور امتیاز نہیںتھا بلکہ سب ایک دوسرے کے خیر خواہ تھے ۔ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے ۔ 1988 ء میں وظیفہ حسن پر سبکدوش ہوئے اور لگ بھگ تین دہوں سے حکومت انہیں حسن خدمات کے صلے میں پینتیس ہزار روپئے ماہانہ پنشن دے رہی ہے اور وہ پوری یکسوئی اور دلجمعی کے ساتھ فن خطاطی کے گیسو سنوار رہے ہیں۔ نعیم صابری کے مطابق اس فن کو وسعت دینے کیلئے وسیع و عرض جگہ نہیں ہے ، اگر انہیں جگہ کی فراہمی کی طمانیت دی جائے تو وہ اس فن کو اور آگے تک لے جاسکتے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT