Monday , October 23 2017
Home / مضامین / حیدرآباد جو کل تھا ویدیہ پرمود چندرا

حیدرآباد جو کل تھا ویدیہ پرمود چندرا

محبوب خان اصغر
’’میں نے ایک قدامت پرست گھرانے میں آنکھیں کھولیں ۔ تموّل دیکھا ، گھر کے افراد کے علاوہ دیگر لوگوں میں بھی تکبر ، ریاکاری اور حسد کے جذبات کی تلاش بے سود تھی۔ زندگی بڑی پرسکون تھی۔ ہر طرف خاموشی ہوا کرتی تھی ۔ تمتماٹ بھی کم کم ہی دیکھنے کو ملتی تھی ۔ افرادِ خاندان ہی تسکین کا سامان ہوا کرتے تھے۔ اپنے چال چلن اور زندگی کے تئیں ان کے خود ساختہ اصول و ضوابط ہمارے لئے ایک نمونہ ہوا کرتے تھے جن سے انحراف ممکن ہی نہ تھا‘‘۔ ان خیالات کا اظہار ویدیا پرمود چندرا نے کیا ۔ انہوں نے برسبیل تذکرہ عصر حاضر کو ماڈرن تہذیب سے تعبیر کر تے ہوئے ہندوستان بالخصوص ریاست حیدر آباد کی گم گشتہ تہذیب کی رعنائی سے متعلق بتایا کہ یہاں رشتوں سے متعلق ایک خاص نظریہ ہوتا تھا جو کہ بہت بلند تھا۔ تمام فرقوں کے لوگ شیر و شکر کی مانند رہتے تھے ۔ خواہ عید ہو کہ تہوار یا کوئی اور موقع ہو، لوگ مذہب اور ذات پات سے قطع نظر گرمجوشی کے ساتھ مصافحہ ، معائقہ کیا کرتے تھے۔ ’’دل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہئیے‘‘ والی بات نہ تھی بلکہ ہاتھ کے ساتھ دل بھی ملتے تھے۔
ویدیا پرمود مہاجن کے مطابق ان کے دادا آنجہانی پنڈت الہاس رام شرما اور پتا پنڈت رادھا کرشنا آچاری علیگڑھ کے موضع ’’ہاتھ رس‘‘ کے رہنے والے تھے ۔ آج بھی انہیں ’’ہاتھ رس والے‘‘ کہا جاتا ہے ۔ دریں ا ثناء انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ان کے نانا جی کا نام بھی اتفاقاً پنڈت رادھا کرشنا آچاری ہی تھا ۔ دوھیال اور ننھیال کے بیشتر لوگوں کو آیورویدک سے بڑا ہی گہرا سروکار رہا ہے ۔ یہی سبب ہے کہ ان کے پریوار کے بہت سے لوگ جیوتش بھی رہے ۔ انہوں نے بتایا کہ آیور کا مطلب زندگی ہے اور وید کے معنی بتانے والے کے ہیں اور یہ مرکبات میں مستعمل ہے مثلاً آیوروید ، اس کا مطلب یوں ہوا کہ منش کی عمر اور اس کے حالاتِ زندگی بتانے والے لوگ ۔

پرمود چندرا کے بموجب ہاتھ رس اور دو سرے مواضع کے لوگ آیورویدک پر بڑا اعتقاد رکھتے تھے اور استقلال کے ساتھ دوا کھاتے تھے ۔ انہیں ا فاقہ ہوتا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ قدیم لوگوں میں ایک طرح کی اعتدال پسندی دیکھی جاتی تھی اور میانہ روی کے سبب ہی وہ صحت مند رہا کرتے تھے ۔ اس عہد کی ایک اہم خوبی یہ بھی تھی کہ معالجین ہر قسم کے فرق، امتیاز سے بالاتر ہوکر مریض کی خدمت ہی کو اپنا مقصد زندگی تصور کرتے تھے اور اسی طرز کے باعث معالج اور مریض کے مابین ایک خاص تعلق بن جاتا تھا۔ انہوں نے ماضی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ قدیم اطباء میں خوش اخلاق اور پاکیزہ کردار کے ساتھ مریض کو تسلی اور دلاسہ دینے کا رجحان دیکھا جاتا تھا ۔ آج ایسے معالج اور ڈاکٹروں کا قحط الرجال ہے۔
علیگڑھ سے حیدرآباد منتقلی سے متعلق انہوں نے بتایا کہ والد محترم کا شمار نامی گرامی ویدوں میں ہوتا تھا اور ریاست حیدرآباد میں ان کے نام کا شہرہ تھا اور اس کی بھنک آصف جاہی سلاطین تک بھی پہونچی ہوئی تھی۔ اسی زمانے میں مہاراجہ کشن پرشاد علیل ہوگئے تھے۔ حکیموں اور طبیبوں نے ان کی تشخیص کی اور سلسلہ علاج جاری رکھا مگر خاطر خواہ افاقہ نہ ہوسکا ۔ انہوں نے علیگڑھ کے ہاتھ رس سے ان کے والد محترم کو علاج معالجے کیلئے ریاست حیدرآباد آنے کی دعوت دی ۔ چنانچہ والد محترم حیدرآباد آئے اور مہاراجہ کشن پرشاد کا علاج بہ نفس نفیس کیا اورجلد ہی وہ صحت مند ہوگئے ۔ مہاراجہ نے بڑی ہی گرمجوشی سے اس کا اظہار اعلیٰ حضرت نواب میر عثمان علی خاں آصف سابع سے کیا ۔ اعلیٰ حضرت نے ان کے والد محترم سے حیدرآباد ہی کو اپنا نگر بنالینے کی خواہش کی ۔ انہوں نے حیدرآباد کے ماضی اور یہاں کے سلاطین کے حوالے سے اس بات کی وضاحت کی کہ خاندان آصفیہ نے جہاں ریاست حیدرآباد کی آرائش میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا وہیں متذکرہ ریاست میں علم و ادب کی پرورش کے ساتھ جود و نما کی مثالیں قائم کیں۔ باوجود اس کے کہ یہاں مسلم اقتدار تھا مگر ملنساری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے یہ ریاست اپنی مثال آپ تھی ۔ پولیس ایکشن کے بعد سرگشتہ ہنود اورمسلمانوں کیلئے بود و باش اور غذا جیسی بنیادی ضرورت کی تکمیل کی ۔ انہوں نے اعلیٰ حضرت کی شخصیت پر اپنے تاثر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ سلطان العلوم تھے اس لئے اہل علم کے قدرداں تھے ۔ ان کی علم دوستی اور قدر شناسی کا اعتراف ہر گوشے سے ہوا ہے۔

ویدیہ پرمود چندرا نے ایک حیران کن انکشاف بھی کیا کہ ان کے والد نے اعلیٰ حضرت کی خواہش کا احترام کیا اور اپنی اہلیہ کے ساتھ حیدرآباد ہی کو اپنا مسکن بنالیا ۔ اعلیٰ حضرت نے ان کے والد کو جاگیر سے نوازا اور دوسری ضرورتوں کی تکمیل کیلئے مالی مدد کی تھی ۔ اسی خاص رویے کی وجہ سے ان کے والد کو اس ریاست اور حکمرانوں سے تعلق خاطر ہوگیا ۔ اس طرح حیدرآباد ان کیلئے وطن مالوف ہوگیا۔ انہوں نے اس واقعہ سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ نواب میر عثمان علی خاں نے ہر میدان کی اہم اور قابل شخصیتوں کو سرزمین حیدرآباد میں کچھ ایسی مراعات دیں کہ وہ رونق حیدرآباد بن گئے اور آگے چل کر حیدرآباد سارے ہندوستان کی رونق اور شان بن گیا ۔
پرمود چندرا کا مولد و مسکن حیدرآباد ہی ہے ۔ انہوں نے 1940 ء میں پرانے شہر کے قدیم محلے ماما جملہ پھانٹک میں آنکھیں کھولیں اور اپنے اطراف و اکناف رواداری ، روابط ، رسم ، رواج اور روایات کا ایک بہترین دور پایا ۔ ان کی ابتدائی تعلیم اگروال ودیالیہ واقع پتھرگٹی اردو گلی میں ہوئی جہاں ہندی اور اردو پڑھائی جاتی تھی ۔ تعلیم کا معقول بندوبست تھا ۔ عظیم مدرسین کی نگرانی تھی ۔ 1948 ء میں وہ گھانسی بازار منتقل ہوگئے اور آج تک یہیں مقیم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ محلہ گھانسی میاں سے موسوم ہے۔ 1950 ء میں عدالت العالیہ کی قدیم عمارت تھی اور کچھ کویلو کے مکان تھے ۔ گھانسی میاں کے کھیت کھلیان تھے اور ساری جائیداد ان ہی کی تھی ۔ وہ جانوروں کا چارہ فروخت کرتے تھے ۔ اس نام سے انہیں شہرت ملی ۔ اس زمانے میں عدالت العالیہ کے آس پاس وسیع و عریض میدان تھا۔ جہاں سیر سپاٹے کیلئے لوگ آیا کرتے تھے اور بچے کھیلا کرتے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہائیکورٹ میں جو اژدہام آج نظر آتا ہے وہ پہلے نہیں تھا ۔ اکا دکا معاملہ ہوتا اورجلد ہی معاملہ بن بھی جاتا تھا ۔ وکلاء بھی معاملہ فہم ہوتے تھے ۔ فریقین میں مصالحت کروانا ہی ان کے پیش نظر ہوتا تھا ۔ آج جرائم کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے اور اصل مجرمین کو کیفر کردار تک پہونچانے کے بجائے ان کی حمایت کی جانے لگی ہے اور مظلوم کے ساتھ ناانصافی ہونے لگی ہے۔

انہوں نے آیورویدک طریقہ علاج کو یونانی ، ہومیو پیتھی اور ایلوپیتھی سے بھی قدیم بتایا اور کہا کہ اس طریقہ علاج میں جو دوائیاں یا نسخے تجویز کئے جاتے ہیں وہ بہت ہی موثر ہوتے ہیں ۔ نیز انہوں نے بتایا کہ ملک آزاد ہونے کے بعد مذکورہ شعبوں کو ارتقائی منازل سے ہمکنار کیا گیا ، حتیٰ کہ اس ضمن میں لٹریچر کو بھی عام کیا گیا ۔ باوجود اس کے کہ آج طب جدید یعنی ایلوپیتھی روز افزوں مقبول ہورہی ہے مگر آیورویدک ، ہومیو پیتھی اور یونانی علاج اور اسکے فوائد سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے موجودہ طریقہ علاج پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ آج معائنوں کے بغیر تشخیص ہو ہی نہیں سکتی یا پھر تجربات سے کام لے کر مریض کو تختہ مشق بنایا جاتا ہے جبکہ آیورویدک میں مرض کی درست تشخیص صرف تجربات کی بنیاد پر ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تشخیص الامراض ایک ایسا فن ہے جو ودیعت خداوندی ہوتا ہے ۔ ایک آزمودہ کار حکیم ، ویدیا ڈاکٹر کیلئے نبض دیکھ لینا ہی کافی ہوتا ہے اور نبض کی اہمیت و افادیت سے نہ اس وقت انکار کیا گیا نہ ہی آج انکار کیا جاسکتا ہے ۔ حاذق اطباء اور حکما جدید آلات کا سہارا لئے بغیر صرف نبض دیکھ کر ہی عوارض سے متعلق درست اندازہ لگالیتے تھے ۔ جدید آلاتی تشخیص کو آج بھی اس میدان کے نامی گرامی لوگ نبض کی تشخیص کے مقابل کمزور سمجھتے ہیں۔

انہوں نے سلطان بازار میں واقع آیور ویدک دواخانہ سے متعلق بتایا کہ ان کے والد اور بعض ان کے ہم عصروں نے 1934 ء میں اس کی شروعات کی تھی ۔ 1941 ء میں نظام گورنمنٹ نے اس کو اپنے تحت لے لیا اور پرنس آف برار کے ہاتھوں اس کا افتتاح عمل میں آیا ۔ قبل ازیں یہ دواخانہ خانگی طور پر کام کرتا تھا ۔ بیس تا پچیس لوگ اسٹاف میں شامل تھے جو عوامی خدمات کیلئے مثبت انداز فکر کے حامل تھے ۔ نظام حکومت نے تمام اسٹاف کو سرکاری ملازمین ہونے کی اسناد عطا کیں اور معقول مشاہرہ دیا گیا ا ور حیاتیات پر مبنی لٹریچر بھی انہیں فراہم کیا گیا اور جید و مشتاق ویدوں کی نگرانی میں جماعتوں کا اہتمام کیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ آیورویدک میں نبض کے ساتھ زبان ، تھوک ، بلغم اور قارورہ دیکھ کر درست نتیجہ اخذ کرنے کی تعلیم دی جاتی تھی ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آیورویدک میں مرض کی جڑ دیکھتے ہیں جبکہ ایلوپیتھی میں موجودہ حالت پر قابو پالیا جاتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ انسان کے جسم میں بے شمار گانٹھ جیسے ہوجاتے ہیں ۔ایلوپیتھی میں اس کو نہیں مانا جاتا جبکہ آیورویدک میں اس کا کامیاب علاج ہے ۔ سنسکرت کا اچھا خاصا درعلم رکھنے والے پرمود جی نے بتایا کہ وہ مختلف امراض پر تحقیقی مقالے لکھ چکے ہیں جو ہندی اور سنسکرت اخبارات و جرائد میں شائع ہوئے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر گہری تشویش ظاہر کی کہ ان کے بعد مطب کو سنبھالنے والا کوئی نہیں ہے ۔ ان کے دونوں لڑکے تاجر ہیں ۔اپنے والد کے پیشے سے ان کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آیورویدک کے موضوع پر بے شمار تصانیف ہیں جو سولہ الماریوں میں بند ہیں ۔ ان کی صفائی اور دیکھ بھال کرنا بھی ان کیلئے مشکل ہوگیا ہے اور یہ قیمتی اثاثہ انہیں اپنے پرکھوں سے ملا ہے۔ سلطان بازار آیورویدک دواخانہ سے وظیفہ حسن پر سبکدوش والے ویدیہ پرمود چندرا نے بتایا کہ ترقی یافتہ دور میں کارپوریٹ دواخانوں اور نئی ادویات کا استعمال ایک فیشن بن گیا ہے۔ آج بھی بعض مریض تھک ہار کر آیوروید، ہومیوپیتھی ، یونانی کا رخ کرتے ہیں اور فیض پاتے ہیں۔ انہوں نے آیورویدک کی اہم کتاب ’’چرک سنگھتا‘‘ کے حو الے سے بتایا کہ اس کا مطالعہ معلومات بہم پہونچاتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ ریاست تلنگانہ (کریم نگر) سے کنکا جی اور منکاجی نے ایران کا رخ کیا وہ اپنے عہد کے نامور حکیم تھے۔ انہوں نے آیورویدک سے متعلق چرک سنگھتا کا ہندی میں ترجمہ کیا تھا ۔ انہوں نے بیگم بازار کے بی دادا اور کاچی گوڑہ کے ڈاکٹر چاری کو آیوروید کے بہترین ویدک کہا اور بتایا کہ کہ ایرہ گڈہ میں آیورویدک دواخانہ عوام کی خدمات کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ ریاست تلنگانہ میں تقریباً سات سو سرکاری ڈسپنسری کام کر رہی ہیں جبکہ خانگی دواخانہ علحدہ ہیں۔ سینکڑوں ہول سیل اور ریئل آیورویدک اسٹور آج شہر میں کارگر ہیں۔

گھانسی بازار میں واقع ان کے مطب میں مریض آنا شروع ہوگئے تھے ۔ انہوں نے گفتگو کو سمیٹتے ہوئے کہاکہ آصف جاہی سلاطین کا یہ طرہ امتیاز تھا کہ انہوںنے بہت سارے فنون کے ساتھ ویدک طب کے فن کو بھی اہمیت دی تھی ، ویدک طریقہ علاج اور ویدک شفاخانوں کی کشادگی عمل میں لائی تھی ۔ ویدک مشاورتی بورڈ قائم کیا تھا ۔ ویدک نصاب اور ویدک تعلیم کا نظم بھی کیا گیا تھا۔ موجودہ حکومت آیورویدک کی سرپرستی کرے اور اس کے ارتقاء کیلئے تدابیر اختیار کرے اور فنڈس جاری کرے۔

TOPPOPULARRECENT