Thursday , August 24 2017
Home / مضامین / حیدرآباد جو کل تھا ڈاکٹر بابو راؤ ورما

حیدرآباد جو کل تھا ڈاکٹر بابو راؤ ورما

محبوب خاں اصغر
ہم نے مندرجہ بالا موضوع پر حاذق اطباء ، وکلاء ، سماجی جہد کاروں اور ماہرین تعلیم کے علاوہ بلند پایہ اہلِ قلم خواتین و حضرات سے گفتگو کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ چناں چہ اس ضمن میںظہیر الدین علی خاں منیجنگ ایڈیٹر ’’سیاست‘‘ نے ڈاکٹر بابو راؤ ورما صاحب کا نام تجویز کیا اور رابطہ کیلئے اُن کا ٹیلی فون نمبر فراہم کرکے ہمارے لئے آسانی پیدا کردی۔ ہم نے اولین فرصت میں ورما صاحب سے بذریعہ فون پروگرام طئے کرلیا، لہذا وہ  دفتر ’سیاست‘ تشریف لائے۔ محبوب حسین جگر ہال میں  قائم اسٹوڈیو میں قبل اس کے کہ ان سے ہماری گفتگو کا آغاز ہوتا کیمرہ مین مرلی نے چائے پیش کی۔ ہم نے تو پی لی مگر معزز مہمان نے معذرت خواہی کرلی اور ایک حیرت انگیز انکشاف کیا کہ انہوں نے زندگی میں کبھی بھی چائے نہیں پی۔ البتہ صبح دم نیم گرم پانی میں لیمو کا رس اور شہد ملا کر نوش فرماتے ہیں اور یہ بھی کہ وہ سبزی خور ہیں اور صبح صادق سبزہ زار پر کچھ دیر چہل قدمی کرنا بھی اُن کے ہردن کا شغل ہے۔ اس انکشاف کے بعد ان کی صحت کا راز بھی فاش ہوگیا۔

1927ء میں تولد ہونے والے ڈاکٹر بابو راؤ ورما اٹھاسی برس کے نہیں لگے۔ اور نہ ہی دیگر لوگوں کی طرح ماضی میں جیتے ہیں۔ اگرچیکہ ماضی سے رشتہ استوار رکھا ہے مگر حال سے ان کا تعلق بہت عمیق ہے۔ اِرد گِرد کے حالات سے انتہائی باخبر رہنے والے ورما صاحب نے فخر کے ساتھ بتایا کہ رام کوٹ ان کی جائے پیدائش ہے۔ یہ شہر مستعملہ گاڑیوں کی خرید و فروخت  کیلئے شہرت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی، تمدنی اور علمی و ادبی سرگرمیوں کیلئے اسکا بڑا ہی شہرہ  ہے۔ اس شہر سے متصل کنگ کوٹھی، ایڈن گارڈن اور پردہ گیٹ اس لئے بھی مشہور ہیں کہ ان تینوں جگہوں پر نواب میر عثمان علی خاں مقیم رہے۔ اگرچیکہ اعلیٰ حضرت کا بچپن پرانی حویلی میں گذرا ، لیکن بحیثیت جانشین ایڈن گارڈن ہی کو انہوں نے اپنا مسکن بنایا ، وہاں ایک جاگیر دار نواب کمال خاں کی وسیع و عریض کوٹھی تھی۔ ’’ کے کے ‘‘ کے نام سے موسوم یہ حویلی اعلیٰ حضرت کی نذر کردی گئی جس کے بعد ’’ کے کے ‘‘بمعنٰی کنگ کوٹھی مستعمل تھا، اس سے قبل ’ کے کے ‘ کا مطلب کمال خان تھا جو اس حویلی کے حقیقی مالک تھے۔ ڈاکٹر بابو راؤ نے پردہ گیٹ کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ حضور نظام چونکہ اس میں اپنا وقت گذارا کرتے تھے، جب وہ محل میں ہوتے تو پردہ پڑا ہوا ہوتا اور پردہ اٹھائے جانے کا مطلب یہ ہوتا کہ اعلیٰ حضرت بیرون محل ہیں۔

اپنا خاندانی پس منظر بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے آباء و اجداد جنگاؤں رگھوناتھ پلی کومالڈا گاؤں کے ہیں۔ ان کے والد آنجہانی وینکٹ راجیا درزی تھے۔ ان کی آٹھ اولادیں ہوئیں جو بچپن ہی میں ایک کے بعددیگر فوت ہوگئیں۔ والد کی آرزو تھی کہ زندہ رہ جانے والا ان کا بیٹا تعلیم کے اعلیٰ مراحل طئے کرے مگر غربت مانع تھی۔ اپنی ابتدائی تعلیم سے متعلق انہوں نے بتایا کہ رام کوٹ میں موتی سنگھ گلی میں مندر تھا اور اُس سے لگا ہوا ایک درخت تھا جس کے سائے میں بیٹھ کر وہ حرف شناس ہوئے۔ سلطان بازار مدرسہ میں وسطانیہ اور فوقانیہ کے بعد چادر گھاٹ ہائی اسکول میں انہیں تمام طلباء میں فوقیت حاصل رہی۔ بابو راؤ کے بموجب ان دنوں ان کے معاشی حالات انتہائی ابتر تھے۔ اعلیٰ حضرت کی جانب سے معاشی طور پر پسماندہ لوگوں کیلئے اسکالر شپ دی جاتی تھی، کتابیں اور بستہ فراہم کئے جاتے تھے جس سے انہوں نے بھرپور فائدہ اُٹھایا۔ اُس وقت نظام کالج کا الحاق مدراس یونیورسٹی سے تھا۔ بابو راؤ نے وہاں بھی امتیازی نمبرات سے کامیابی حاصل کی اور جامعہ عثمانیہ کے انجینئرنگ کالج میں انہیں داخلہ مل گیا۔ انہوں نے قانون کی تعلیم بھی حاصل کی۔ اپنے تعلیمی سفر کے دوران میسر آنے والے قابل اساتذہ اور اتالیق کو انہوں نے بھگوان کی دین کہا۔ دورا سوامی، غالب صاحب، احسن صاحب وغیرہ نے ہمیشہ اپنے شاگردوں کو معنوی اولاد سمجھا۔ مرحوم سردار علی خاں، جیون ریڈی، اکبوٹے اور شیو شنکر ان کے اہم رفیق رہے۔
انہوں نے کہا کہ اُردو زبان سے فطری محبت کے باعث اُردو کو ایک زبان کی حیثیت سے سیکھا اور سمجھا۔ آصف جاہی لائبریری جانا اور مطالعہ کرنا ان کی عادت تھی۔ اپنی مادری زبان تلگو اور انگلش سے زیادہ انہوں نے اُردو زبان میں چاشنی محسوس کی۔ ڈاکٹر ورما نے بتایا کہ 24اگسٹ 1984ء کو انکی اہلیہ کا انتقال ہوا۔ وینکٹیشور راؤ( فرزند) تلنگانہ سکریٹریٹ میں (جی اے ڈی ) جنرل اڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ میں ریاستی وزیر اعلیٰ کے تحت کار گزار ہیں اور ان ہی کے ہاں ورما صاحب مقیم ہیں۔

ممتاز عثمانین مسٹر بی آر ورما نے کہا کہ سلاطین آصفیہ بالخصوص نواب میر محبوب علی خاں اور ان کے فرزند اعلیٰ حضرت نواب میر عثمان علی خاں آصف سابع کے تذکرے کے بغیر حیدرآباد دکن کی تاریخ نامکمل رہے گی۔ یہ دونوں سلاطین اپنی رعایا سے بے حد اُنسیت رکھتے تھے۔ غرباء پروری اور رعایا کے حالات سے باخبری کی وجہ سے بھی عوام و خواص میں انہیں یکساں مقبولیت حاصل تھی۔ بالخصوص تعلیم کے فروغ میں آصف سابع کی دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ مدرسوں اور کالجوں میں بتدریج اضافہ ہی ہوتا رہا۔ دکن سے باہر بھی تعلیمی اداروں کے استحکام کیلئے غیر معمولی تعاون کیا کرتے تھے۔ مثلاً آکسفورڈ یونیورسٹی، نیو کیاسل آسٹرانگ کالج میں لائبریری کا قیام عمل میں لایا۔ منادر، مساجد اور گردواروں کیلئے بھی وہ فراخدلی سے مدد کیا کرتے تھے۔ بنارس یونیورسٹی، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی، شانتی نکیتن، آندھرا یونیورسٹی کیلئے انہوں نے گرانٹ منظور کئے۔ تلگو زبان کے فروغ کیلئے حتی الامکان نذرانے پیش کرکے اپنی رواداری کا ثبوت دیا نیز قدیم ہندو عمارتوں پر مبنی مواد ( لٹریچر ) کیلئے ہمیشہ فراخدل رہے اور یہی حیدرآباد کا اصل زرین دور ہے۔
تحریک آزادی میں اہم کردار ادا کرنے والے بابو راؤ ورما نے بتایا کہ 1857ء تا 1947ء انگریزوں سے لڑی جانے والی جنگِ عظیم میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی کثیر تعداد شامل تھی۔ اس تحریک کو چلانے میں کانگریس نے بڑا ہی اہم حصہ ادا کیا۔ کانگریس کا منشاء یہ تھا کہ ہندوستان سے برطانیہ کا تسلط ختم ہو اور اقتدار حاصل ہوجائے۔ اور یہاں ایک جمہوری نظام رائج کیا جائے۔ دکن کے باشندے برطانیہ کی مطلق العنانی سے اس قدر بدظن ہوگئے تھے کہ اس کے خاتمہ کیلئے اپنی جانیں تک قربان کرڈالیں۔ اُن کی قربانیوں کا ثمرہ آزادی کی صورت میں ظاہر ہوا۔

پولیس ایکشن سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ ہندوستان کی تاریخ کا ایک افسوس ناک پہلو ہے۔ حیدرآباد کی فوجی طاقت کمزور تھی۔ رضاکار بھی فوجی کارروائی کے متحمل نہیں تھے۔ قاسم رضوی کی جذباتی تقاریر نے رضاکاروں کے جوش کو اس قدر اُبالا کہ وہ اپنے سروں پر کفن باندھ کر محاذ پر جانے کیلئے اکٹھے ہوگئے باوجود اس کے کہ انہیں محاذ آرائی کا کوئی تجربہ نہیں تھا، کوئی تربیت یافتہ بھی نہیں تھے۔ برچھوں اور بھالوں کے ذریعہ کب تک لڑا جاسکتا تھا۔ رضاکاروں کی بڑی تعداد نے دبابوں کے آگے لیٹ کر اپنی جانیں قربان کرڈالیں۔ ان دنوں کے خون چکاں مناظر دیکھنے والوں میں آج بھی خوف کی ایک لہر نظر آتی ہے ۔ اُسی زمانے میں کانگریسیوں نے ریاست کی آزادی کی تحریک شروع کی تھی۔ کمیونسٹ اور ان کے حاشیہ برداروں نے اپنی ایک علحدہ تحریک شروع کرڈالی۔ اُسی وقت رضاکاروں نے اپنی ایک تحریک شروع کی تھی کہ حکومت نظام کا تحفظ ہو۔ 1945ء کی بات ہے جب یہ تحریکیں شروع ہوئی تھیں اور دو سال میں یہ تحریکیں تقویت حاصل کرچکی تھیں۔ حکومت نے ان کو گرفتار کرنا شروع کیا اور قانون ’’ احتیاط نظربندی‘‘( Law of Preventive Detention)کے تحت مقدمات درج کئے بغیر حراست میں لیا جانے لگا۔
رضاکار کمیونسٹوں کو اور کمیونسٹ رضاکاروں کے خاتمہ کیلئے آپس میں گتھم گتھا ہونے لگے تھے۔ اُس زمانے میں کہا جاتا ہے کہ رضاکاروں کو حکومت کی تائید حاصل تھی جس کی وجہ سے وہ علانیہ ظلم کرتے نظر آتے تھے اور کمیونسٹ خفیہ طور پر ظلم کیا کرتے تھے۔ ان کے شر سے کرناٹک اور مہاراشٹرا کے علاوہ تلنگانہ علاقے کے عوام متاثر ہوئے۔ قاسم رضوی جو وکیل بھی تھے، رضاکار تحریک کو فروغ دینے میں اہم رول ادا کرتے رہے۔ ’’ گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل ‘‘ کے مصداق ملٹری ایکشن کے وقت کے حالات پر مزید کچھ کہنے سے احتراز کرتے ہوئے انہوں نے چُپ سادھ لی۔ کچھ وقفہ بعد انہوں نے کہا کہ قاسم رضوی کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوگئی تھی لیکن 19سپٹمبر 1948ء کو قاسم رضوی کو مجلس اتحادالمسلمین کے ہیڈکوارٹر سے گرفتار کرلیا گیا کیونکہ ان پر شعیب اللہ خان ایڈیٹر ’ امروز ‘ جو مجاہد آزادی بھی تھے کے قتل کا الزام تھا۔ مقدمہ چلتا رہا بالآخر انہیں سات سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔ سزا کاٹ کر وہ پڑوسی ملک چلے گئے اور وہیں انتقال کرگئے۔
انہوں نے ایک انکشاف یہ بھی کیا کہ اُن کے خسر الیکٹریکل کنٹراکٹر تھے اور اعلیٰ حضرت کا قُرب بھی انہیں حاصل تھا، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بہادر یار جنگ مجلس اتحادالمسلمین کے حامی بھی تھے اور بانی بھی۔ اچھے مقرر تھے، ان کی تقریر سامعین کے شعور کو بیدار کرتی تھی، وہ مہاراج گنج میں مقیم تھے۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ان کی شادی میں بہادر یار جنگ تشریف لائے تھے۔ جب اُن کا انتقال ہوا تو اُن کے دیدار کیلئے جو ہجوم دَر آیا تھا اس کا اظہار مشکل ہے۔ جب اُن کا جنازہ گذر رہا تھا تو آریہ سماج سلطان بازار میں لوگوں نے گلہائے عقیدت برسائے۔ زمستان پور مشیرآباد میں ان کی تدفین ہوئی۔ آج بھی وہاں سے گذر ہوتا ہے تو وہ بہت یاد آتے ہیں۔ ان کے جلوسِ جنازہ میں ہندو بھی کثرت سے شامل تھے۔ سرزمینِ دکن پر کیسے کیسے لوگ رہے۔ سب کے اپنے اپنے مذہبی اُصول تھے مگر قلوب شفاف تھے۔

محترم بابو راؤ ورما صاحب جو ممتاز دانشور بھی ہیں‘ اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔ انہوں نے (MBA) ماسٹر آف بزنس اڈمنسٹریشن کی ڈگری حاصل کی۔ پچھڑے ہوئے طبقات پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا اور ڈاکٹر کہلائے۔ سرویس کمیشن کے رکن کی حیثیت سے آپ نے کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ ڈائریکٹر بیاک ورڈ کلاس اور ڈائریکٹر ٹرائیبل ویلفیر، سوشیل ویلفیر، ہریجن ویلفیر بھی رہے۔ عادل آباد، محبوب نگر، ورنگل وغیرہ میں آپ نے ملازمت کی۔حکومتِ ہند کی جانب سے یوروپی ممالک کے دورے کئے، اس کے علاوہ بیروت، کراچی، قاہرہ ( مصر)، ایران، اسرائیل کا بھی آپ نے سفر کیا۔ دنیا کے بیشتر ممالک اور ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں گھوم گھام کر انہوں نے بتایا کہ دکن کے کلچر کی اپنی کشش اور خصوصیت ہے۔ باہمی میل ملاپ کے نتیجے میں جو ماحول پیدا ہوا تھا اصل وہی حیدرآباد کی شناخت ہے۔
تلنگانہ تحریک سے متعلق انہوں نے معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ تلنگانہ پسماندہ تھا اس کے برخلاف آندھرا میں متمول افراد رہتے تھے۔ ہندوستان کو آزاد ہوئے عرصہ گذر گیا مگر تلنگانہ کے ساتھ امتیازی سلوک میں فرق نہیں آیا۔ آندھرا اور تلنگانہ کے انضمام کے بعد تلنگانہ کے ملازمین کیلئے جو اُصول و ضوابط متعین کئے گئے تھے ان پر عمل آوری میں تساہل سے کام لیا گیا۔ سب سے زیادہ ناانصافیاں تلنگانہ کے انجینئرس کے ساتھ ہوئیں۔ آندھرا کے علاوہ دوسری ریاستوں سے جو سیول اڈمنسٹریٹر بن کے آئے تھے ان کو اہمیت دی جانے لگی تھی۔ دوسرے ضلعوں میں تقررات ہورہے تھے۔ ’’ اڈلی سانبر گو بیاک‘‘ کے نعرے لگ رہے تھے۔ پنڈت جواہر لعل نہرو پے درپے حیدرآباد کے دورے کررہے تھے ان کے روبرو مسائل رکھے گئے۔ طلباء کا ایک وفد ان سے جاکر ملا، نہرو نے بڑے تپاک سے ملاقات کی۔ مسائل کی سنوائی کے بعد ان کو حل کرنے کا تیقن دیا تھا۔

انھوں نے مہاتما گاندھی سے بھی ملاقات کی ۔ مہاتما گاندھی سے اپنی ملاقات کو یادگار بتاتے ہوئے کہا کہ واپسی پر گاندھی جی نے انہیں کچھ پیسے سفر خرچ کے طور پر دیئے تھے۔ مسٹر ورما نے بتایا کہ چالیس ہزارسے زائد لوگوں نے جنگِ آزآدی میں حصہ لیا تھا اور ان کا تعلق حیدرآباد سے تھا۔ انہوں نے اس بات کی بھی توثیق کردی کہ ہندوستان کی آزادی میں اور حیدرآباد میں عوامی حکومت کیلئے جو مہم چلائی گئی تھی اس میں وہ بھی اُس مہم کا ایک حصہ رہے۔ ان کے خلاف وارنٹ بھی جاری ہوا۔ حق کے حصول کیلئے جدوجہد کرنے کی سزا یہی ہے تو انہوں نے قبول کرلیا۔ مشیرآباد جیل میں بند کردیا گیا تھا اور محافظت کیلئے چند مخصوص پولیس آفیسرس متعین کردیئے تھے۔ کچھ دنوں بعد متعین کردہ پولیس آفیسر آپس میں کہنے لگے کہ سب کی بھلائی  کی خاطر کارِ خیر کا انجام جیل نہیں ہونا چاہیئے۔ اس تصور نے پولیس عہدیداروں کو ہمدردانہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرڈالا۔ ورما صاحب کو گھر جانے کی اجازت ملتی تھی اور برتاؤ بھی مخلصانہ ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت مشیرآباد جیل میں اکثریت مسلم پولیس عہدیداروں کی تھی۔ انہوں نے محکمہ پولیس اور ملازمین کا موازنہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ آج اس محکمہ کی نیک نامی متاثر ہوئی ہے، رشوت اور تعصب کے درآنے کی باتیں بھی ہورہی ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو اس کی اصلاح ناگزیر ہے۔ ہم نے اپنی گفتگو سمیٹتے ہوئے بابو راؤ ورما سے اُردو کے مستقبل سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے عہد میں ذریعہ تعلیم اُردو تھا۔ تمام سرکاری شعبوں میں بھی اُردو کا چلن تھا اور لازماً ہم کو اُردو سیکھنی پڑتی تھی۔ آج اُردو کو بے گھر کیا جارہاہے گویا کہ اُردو والے ہی اُردو زبان کو نقصان پہونچا رہے ہیں۔بچوں کو لازمی طور پر اُردو سکھائیں کہ یہ ہماری میراث ہے۔!

TOPPOPULARRECENT