Tuesday , October 24 2017
Home / مضامین / حیدرآباد جو کل تھا ڈاکٹر کنڈل راؤ

حیدرآباد جو کل تھا ڈاکٹر کنڈل راؤ

محبوب خان اصغر
پرانے حیدرآباد میں اساتذہ طلباء کے اندر پاکیزہ اور صاف ستھرا ادبی ذوق پیدا کرنے کو اس لئے بھی ناگزیر سمجھتے تھے کہ اس سے طالب علموں میں تہذیبی قدریں اجاگر ہوتی تھیں اور سماجی آگہی میں مدد ملتی تھی ۔ دارالعمل  ، دارالفناء اور دارالبقاء جیسی اصطلاحات کی وضاحت کرتے ہوئے دنیا کی بے ثباتی کو مثالوں کے ذریعے سمجھاتے تھے ۔ ان کے اس عمل سے طلباء میں سماجی اور ادبی قدروں کی آگہی کے ساتھ موت کا یقین بھی بیٹھ جاتا تھا ۔ دانش گاہیں علم و ادب کا مرکز ہوا کرتی تھیں جہاں اخلاقیات کی تعلیم کو بہرحال مقدم سمجھا جاتا تھا ۔ ان پاکیزہ خیالات کا اظہار ماہر تعلیم ڈاکٹر کنڈل راؤ نے کیا جو خود بھی عرصہ دراز تک پیشہ تدریس سے وابستہ رہے ۔ اپنے زمانہ طالبعلمی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ 1956ء میں وہ جامعہ عثمانیہ میں تعلیم پارہے تھے اس وقت علی یاور جنگ وائس چانسلر تھے ۔ محض دانشوری کی بنیاد پر ان کا طوطی بول رہا تھا ۔ ان کی ہر ادا دلکش  ،دلنشین تھی  ۔انہیں دیکھنے اور ان سے ملنے کی خواہش اکثر لوگوں میں پائی جاتی تھی ۔ ایسی رعب داب والی شخصیتیں اب خال خال ہی نظر آتی ہیں  ۔
ڈاکٹر کنڈل راؤ نے ’’حیدرآباد جو کل تھا‘‘ موضوع کو پسند کیا اور اس سے پیشتر مختلف شخصیتوں کے تاثرات کی ستائش بھی کی ۔ انہوں نے عنوان کو اپنی گفتگو کا محور بناتے ہوئے نہ صرف اردو بلکہ تلگو کی زبوں حالی پر فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زبانیں مشترکہ تہذیب کی ترجمان ہوتی ہیں ۔ دلوں کو جوڑنے کا بہترین ذریعہ اور باہم ارتکاز و ارتباط کیلئے ایک پل کا کام کرتی ہیں ۔ آج یہ دونوں زبانیں اپنی اقدار سے دور کیا ہوئیں تہذیب و تمدن کا خاتمہ ہوگیا ۔ آج یہ زبانیں سن رسیدہ لوگوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں ۔ ربع صدی قبل تک بھی صورتحال ویسی نہیں تھی جیسی کہ آج ہے ۔ آصف جاہی دور کے آخری حکمران اعلی حضرت نواب میر عثمان علی خان کے دور حکومت کو زرین دور کہا جائے تو کوئی مبالغہ نہ ہوگا ۔ انہوں نے اردو زبان کی نگہداشت اور اسکی ترویج ، ترقی کیلئے ذریعہ تعلیم اردو رکھا اور اس کیلئے اپنے خزانوں کا منہ کھول دیا ۔ تعلیم بالکل مفت دی جاتی تھی ۔ سرکاری مدارس ہی تھے خانگی مدارس کا نام ونشان بھی نہ تھا ۔ ڈاکٹر کنڈل راؤ جن کا ذریعہ تعلیم بھی اردو تھا کہا کہ قدیم حیدرآباد لسانی تعصب کی زہریلی ہوا سے بالکلیہ پاک تھا ۔ آج سیاسی اغراض و مقاصد کیلئے سوتیلا سلوک روا رکھا جارہا ہے  مگر ہمیں اپنے تئیں زبانوں کی حفاظت کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ زبان چلی جائے گی تو تہذیب چلی جائے گی ۔ اردو سے نابلد ہونے کے سبب ہم اپنے اسلاف کے کارناموں کو اور تہذیبی قدروں کو کس طرح اجاگر کرپائیں گے ؟ اپنے مذہبی ورثے کی حفاظت اور اسکے پرچار کیلئے مادری زبان کو اپنانا بہت ضروری ہے ۔ انہوں نے ہندو اور مسلمان دونوں فرقے کی نسلوں کا انگریزی کی طرف جھکاؤ پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور مادری زبان کو بھی سیکھنے اور اس کے تحفظ کیلئے پیش پیش رہنے کی تلقین کرتے ہوئے جاپان اور چین کی مثالیں دیں اور کہا کہ مذکورہ ممالک کی اقوام اپنی زبان کو ترجیح دیا کرتی ہیں اور اپنے ہی ملک میں روزگار حاصل کیا کرتی ہیں ۔ اس کے برخلاف ہمارے ملک میں انگریزی جامعات میں تعلیم پاکر امریکہ اور دوسرے ممالک کا رخ کیا جاتا ہے جو ہرگز بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دوراندیشی اچھی بات ہے مگر بعض معاملات میں پیچھے پلٹ کر دیکھنا بھی ضروری ہوجایا کرتا ہے کہ آیا اردو ذریعہ تعلیم اختیار کرنے والے شاہراہ حیات پر کامران ہوئے یا نہیں ؟

انہوں نے اپنے عنفوان شباب اور جامعہ عثمانیہ میں گذرے ایام کی یادوں کو اپنا قیمتی سرمایہ بتایا اور کہا کہ اعلی حضرت نے جامعہ عثمانیہ میں اعلی تعلیم کا ذریعہ اردو قرار دیا اور اس فرمان کو ایک اہم اصول کے طور پر رائج کردیا تھا مگر ساتھ ہی انگریزی زبان کی تعلیم کو بھی طالب علموں کیلئے لازم قرار دیا تھا ۔ اس اصول اور ضوابط کے ساتھ 7 اگست 1919 ء سے اردو زبان کی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک ایسی جامعہ کا آغاز ہوا جس میں اردو زبان اعلی تعلیم کیلئے مستعمل تھی جس کے ساتھ ہی ایک شعبہ ترجمہ بھی قائم کردیا گیا تھا جس میں اہل زبان اور فن کے ماہرین اصطلاحات وضع کرتے تھے ۔ یہ اعلی حضرت کا قوم پر ناقابل فراموش احسان ہے ۔
21 جولائی 1932 کو ضلع کریم نگر کے ایک موضع میں تولد ہونے والے ڈاکٹر کنڈل راؤ نے بتایا کہ ان کی ابتدائی تعلیم کریم نگر ہی کے ایک سرکاری مدرسہ میں ہوئی ۔ ہائی اسکول کے بعد وہ حیدرآباد منتقل ہوگئے اور اعلی تعلیم حاصل کرلینے کے بعد 1956 میں کریم نگر کالج میں لکچرار بن گئے ۔ حیدرآباد میں چار کالجوں میں پرنسپل کے طور پر تقرر ہوا جن میں قابل ذکر سٹی کالج ہے جہاں انہوں نے حیدرآباد کی تہذیب کی بھرپور ترجمانی کی ۔ محکمہ تعلیمات میں جوائنٹ ڈائرکٹر رہے ۔ تلگو اکیڈیمی کے ناظم بنے ۔ پندرہ سال سے وشواناتھ لٹریری کلچرل فورم کے روح رواں ہیں ۔ متعدد تعلیمی اداروں میں مشیر کی حیثیت سے مدعو کئے جاتے ہیں ۔ کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔ حال ہی میں ان کی ایک اہم کتاب ’’تلنگانہ ایک کلاسک کلچرل خزانہ‘‘ کے نام سے منظر عام پر آئی ہے ۔ جس میں انہوں نے مخدوم محی الدین (شاعر) اور مجتبیٰ حسین (ممتاز مزاح نگار) جیسی شخصیتوں پر اپنے تاثرات کا ذکر کیا ہے ۔ انہوں نے اپنی جائے پیدائش سے متعلق کہا کہ وہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کے میل ملاپ سے خوشگوار فضا بنی رہتی تھی ۔ انہوں نے گنگا جمنی تہذیب اور حیدرآبادیت کے فرق کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کئی مذاہب (Multi Religious) کا ملک ہے ۔ قطب شاہی دور ، مغلیہ دور اور آصفجاہی دور میں بھی اس ملک کا ہر طبقہ پُر سکون اور پر اعتماد زندگی گذار رہا تھا ۔ کئی ثقافتوں کے گڈمڈ ہونے سے جو تہذیب نمایاں ہوئی درحقیقت وہی گنگا جمنی تہذیب ہے ۔ انہوں نے حیدرآبادیت کو حیدرآباد شہر کا کلچر قرار دیتے ہوئے یہاں کا رہن سہن ، ثقافتی زندگی ، باہمی اتحاد و اتفاق ، اعراس و یاتراؤں میں ایک دوسرے کی شرکت ، شادی بیاہ اور اموات میں خوشی اور غم کے تاثرات کو دکن کی ثقافت بتایا اور کہا کہ عقائد ان کے اپنے تھے مگر مخلوط طور پر زندگی بسر کرتے تھے  ۔ یہ برادرانہ مراسم حیدرآباد کی خصوصیات تھیں جن کی بنیاد پر حیدرآبادیت ٹکی ہوئی تھی اور اب بھی ہے ۔

ڈاکٹر کنڈل راؤ نے اپنی زندگی کے ایک اہم واقعہ کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کی گرفتاری کا حکمنامہ نکل چکا تھا  ۔وہ سہمے ہوئے بس سے اترے تو کسی نے حیدرآبادی انداز میں آواز لگائی کنڈل راؤ صاحب کاں جارئیں ؟ انہوں نے سرگوشی کے انداز میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ۔ ان کے ہم محلہ تھے اسی لئے شناسائی تھی ۔ انہوں نے ڈھارس بندھائی اور کہا کہ کنڈل راؤ ڈرنا ورنا نئیں ۔ دستگیر آپ کے ساتھ ہے ۔ اتنا کہہ کر انھوں نے اپنی شیروانی اور ٹوپی انہیں پہنادی اور بیل گاڑی میں بٹھا کر انہیں ان کے گھر تک پہنچایا۔ یہ بے لوث بندہ مسلمان تھا اور انسانیت کے جذبے سے سرشار تھا ۔ کنڈل راؤ صاحب ایسی ہی تہذیب کے پروردہ ہیں ۔
ڈاکٹر کنڈل راؤ نے اعلی حضرت نواب میر عثمان علی خان کو بڑا اڈمنسٹریٹر  ، ذہین ، فطین اور دوراندیش حکمران کہا ۔ انہوں نے بتایا کہ آصفجاہی سلاطین نے اپنی معیشت کے استحکام کیلئے اراضی خالصہ کبھی فروخت نہیں کی ۔ ضرورت پڑنے پر انہوں نے زمین دان دیدی ۔ مساجد ، منادر ، گرودواروں اور مدرسوں کیلئے وقف کرڈالیں ۔ تعلیم کو عام کرنے اور بے سر وسامانی کو دور کرنے کیلئے انہوں نے زمینوں کا استعمال کیا ۔ انہوں نے سابقہ اور موجودہ حکومتوں کے رویے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آندھرا پردیش کے قیام کے بعد خالص سرکاری زمینوں کا استحصال کیا گیا ۔ اراضیات فروخت کرکے حکومت کی گئی ۔ چندرا بابو نائیڈو نے بھی کیا اور اب تلنگانہ کے چیف منسٹر بھی یہی کررہے ہیں ۔ انہوں نے عوام کے بنیادی مسائل کی یکسوئی کیلئے ایک لائحہ عمل کو ضروری بتایا اور کہا کہ آج غریبوں کے لئے مکانات نہیں ہیں ۔ پارکنگ کے لئے جگہ نہیں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ میں ہمہ منزلہ عمارتوں کو محض پارکنگ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ جو دواخانے آصف جاہی دور میں تعمیر ہوئے وہ اس وقت کی ضرورت کیلئے کافی تھے ۔ آج آبادی میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے مگر حکومت اس جانب غور و فکر نہیں کرتی ۔ انہوں نے کہا کہ اندرا گاندھی جب کبھی حیدرآباد آتیں تو پائلٹ سے کہتی تھیں کہ ’’مجھے حیدرآباد کے اطراف و اکناف میں گھماؤ تاکہ میں جی بھر کے حیدرآباد کو دیکھ سکوں‘‘ ۔ انہیں یہاں کا Rock Formation of Hyderabad بہت بھاتا تھا ۔ آج پہاڑوں اور زمینوں کی فروختگی کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس ایکشن کے وقت وہ جیل میں تھے ۔ آل انڈیا فریڈم اسٹرگل کے ذریعہ ڈیموکریسی کو بحال کرنا تھا اور برطانوی سامراج کو نکالنا تھا ۔ اس سے قبل 1945 ء میں دوسری جنگ عظیم کے اثرات بھی بڑی تیزی سے رونما ہوئے ۔ انگریزوں کی جیت میں ہار متصور کی جانے لگی ۔ ساری دنیا میں ان کی ساکھ متاثر ہوئی ۔ وہ اپنا اقتدار ختم کرکے چلے گئے لیکن ریاست حیدرآباد کی بقا کا سوال ان دنوں بہت اہم تھا ۔ قاسم رضوی بہت شاطر انسان تھے جو اپنا اثر جمانے کیلئے ہمہ وقت سازشوں میں ملوث تھے ۔ اس کے برخلاف نواب صاحب چھتاری جو وزیراعظم تھے بڑے نازک حالات سے گذر رہے تھے ۔ حیدرآباد کو آزاد مملکت کا موقف دینے کیلئے پٹیل  ،نہرو اور گاندھی جی تیار نہیں تھے جبکہ قانوناً حیدرآباد کو آزاد مملکت کے حصول کا حق حاصل تھا ۔ مگر اس زمانے میں طاقت کے بل ہر حالات پلٹا کھارہے تھے اور قانون کو طاق پر رکھ دیا گیا تھا ۔

حیدرآباد کو آزاد موقف دینے کیلئے دو ہی راستے تھے ۔ صلح کل کا راستہ یا جنگ کا راستہ ۔ اعلی حضرت نے علاحدہ حیدرآباد کا فیصلہ کیا تھا یہ انکی فاش غلطی تھی ۔ معزز مہمان نے ہمارے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تلنگانہ میں زراعت بارش پر منحصر تھی ۔ مگر اعلی حضرت نے زراعت اور کھیتی باڑی کیلئے تالاب ، جھیل اور کنٹے بنوائے ۔ نہروں کی تعمیر کی جو آج بھی کارآمد اور مفید ہیں ۔ اعلی حضرت نے تقریباً چھ تا سات کروڑ روپئے تالابوں اور نہروں کیلئے خرچ کئے ۔ نظام ساگر سلطنت آصفیہ کی یادگار ہے جو کروڑوں کی لاگت سے پورا ہوا ۔ اور یہ ہندوستان کا تیسرا بڑا ساگر ہے ۔  عثمان ساگر کو بھی آصف جاہی سلطان کی یادگار کہا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں اور اطراف و اکناف میں آب رسانی کا معقول انتظام تھا ۔ گھروں میں باؤلیاں ہوا کرتی تھیں ان میں جھرّے بھی ہوتے تھے اگرچیکہ تالاب میر عالم اور حسین ساگر سے اس زمانے میں استفادہ کیا جاتا تھا مگر کثیر آبادی کیلئے ناکافی تھا ۔

انہوں نے سلسلہ گفتگو جاری رکھتے ہوئے حیدرآباد کی قدیم تاریخی عمارتوں میں جامعہ عثمانیہ کی عمارت کو ریاست حیدرآباد کی ناک کہا اور برطانوی صحیفہ نگار کی رائے کے حوالے سے بتایا کہ یہ عمارت اتنی شاندار اس لئے ہے کہ اس کا معمار زندگی سے متاثر تھا ۔ انہوں نے کہا کہ صرف عمارتیں ہی نہیں یہاں کی بہت سی شخصیتیں ہیریٹج ہیں ۔ جامعہ عثمانیہ کے وائس چانسلر علی یاور جنگ ہوں کہ جسٹس سردار علی خان یا دوسرے معززین شہر سب ہیریٹج ہیں ۔ اعلی حضرت نے شہریوں کی سیر و تفریح کیلئے پارک اور وسیع باغ بنوائے ۔ آبادی بڑھی اور شہر وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا تو بلدہ اور آرائش بلدہ کے تحت باغ عامہ کے علاوہ اور بھی کئی تفریحی مقامات وجود میں آئے ۔ انہوں نے ہماری خواہش پر قدیم حیدرآباد میں مجلس آرائش بلدہ سے متعلق مفصل گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 1912 کے اختتام میں اس کا قیام عمل میں آیا تھا ۔ نواب نظامت جنگ اور شہزادہ معظم جاہ بہادر مجلس آرائش بلدہ کے صدور رہے ۔ اس مجلس کے تحت حیدرآباد میں روشنیوں کا نظم ہوا ۔ محلوں میں رونق آئی ، مستحقین کیلئے مکانات بنائے گئے ۔ حیدرآباد کی قدیم اور تاریخی عمارتوں کی حفاظت کا ذمہ بھی اسی کے سر تھا ۔ انہوں نے قدیم حیدرآباد کے ڈرینج سسٹم کو سراہا جو 1927/1928 میں بنا تھا ۔ وقت کے ساتھ اس سسٹم میں مزید بہتری لانے کی ضرورت تھی ۔ بلدیہ اور دوسرے شعبوں نے اپنے ہاتھ گرم کئے اور آنکھیں میچ لیں اور سسٹم کو حد درجہ خراب کردیا ۔ ہم نے سوال کیا تھا کہ اقتدار کیلئے ماضی میں بھی قتل و خون ہوا مگر عام آدمی کو اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا ۔ جواباً انہوں نے ہمارے سوال سے اتفاق کیا اور کہا کہ پہلے اقتدار کیلئے جھگڑے خاندانوں ہی میں ہوا کرتے تھے ، آج اقتدار کیلئے عام آدمی کو بھی قتل کردیا جاتا ہے ۔ جو کسی بھی مہذب ملک کے شایان شان نہیں ۔ آصف جاہی سلاطین اپنے مذہب کا بہت پاس و لحاظ رکھتے تھے لیکن غیر مذاہب یعنی ہنود اور دوسری اقوام کے لوگوں کے درمیان حد فاصل نہیں کھینچا ۔ ان کی رواداری کے چرچے تو سارے عالم میں  تھے اور آج بھی اسکی مثالیں دی جاتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب جانتے ہیں کہ آصفجاہی حکومت میں الگ الگ مذاہب کے لوگ یعنی چھتری ، برہمن ، مرہٹے ، کائستھ اعلی منصب پر فائز رہے ۔ گو کہ عقائد جدا تھے مذاہب الگ تھے مگر سب کا ثقافتی ورثہ ایک تھا اور جس کا تحفظ مل جل کر کیا جاتا تھا یہی سبب ہے کہ سلاطین آصفیہ کا تشخص بلند سے بلند تر ہی رہا ۔ جی تو چاہتا تھا کہ ہم اپنے معزز مہمان سے موضوع پر بات چیت کا سلسلہ جاری رکھیں جو نہایت فراخدلی سے ہمارے سوالات کے جوابات دے رہے تھے مگر تنگیٔ وقت کے سبب سلسلۂ گفتگو روکنا پڑا ۔

TOPPOPULARRECENT