Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد دکن کی خاتون شعراء کا اردو دنیا میں منفرد مقام

حیدرآباد دکن کی خاتون شعراء کا اردو دنیا میں منفرد مقام

خاتون شعراء پر مباحثہ، صاحب دیوان شاعرہ ماہ لقا بائی چندا پر امریکی ریسرچ اسکالر کے پراثر اقتباسات
حیدرآباد۔/12ستمبر، ( سیاست نیوز) امریکی کونسلیٹ حیدرآباد نے ہسٹاریکل سوسائٹی آف حیدرآباد و سالار جنگ میوزیم کے اشتراک سے  دکن کے خاتون شعراء کے عنوان پر مباحثہ کا اہتمام کیا تھا۔ امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی ریسرچ اسکالر کیلیا بیل نے اس موقع پر دکن کی صاحب دیوان شاعرہ ماہ لقا بائی چندا پر اپنے ریسرچ کے اقتباسات پیش کئے۔ کیلیا بیل حیدرآباد میں ان دنوں دکنی خاتون شاعرات پر ریسرچ کررہی ہیں۔ اس مباحثہ کے انعقاد کا مقصد دکنی خاتون شعراء کو عوام سے واقف کرانے اور ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کرنا ہے۔ ایسے وقت جبکہ سماج میں خواتین کی شاعری کو معیوب سمجھا جاتا تھا دکن کی سرزمین سے کئی خاتون شعراء نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ امریکی ریسرچ اسکالر کیلیا بیل حیدرآباد میں آئندہ 8ماہ تک اپنے ریسرچ کا کام جاری رکھیں گی اور یونیورسٹی آف حیدرآباد کے پروفیسرس کی نگرانی میں یہ کام انجام دیا جائے گا۔ انہوں نے ماہ لقا بائی چندا کی شاعری پر اپنی تحقیق سے سامعین کو واقف کرایا بلکہ ان کے بعض اردو اشعار کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ غیر اردو داں ہونے کے باوجود اس امریکی ریسرچ اسکالر نے اردو اشعار کا صحیح تلفظ ادا کرنے کی کوشش کی جسے سامعین نے سراہا۔ امریکی کونسلیٹ حیدرآباد کے پبلک افیرس آفیسر گیبریل ہانس اولیویر نے خیرمقدم کیا اور امریکی کونسلیٹ کی جانب سے خواتین کے حقوق کے سلسلہ میں منعقد کئے جارہے پروگراموں کی تفصیلات بیان کی۔ سالار جنگ میوزیم میں کونسلیٹ کی جانب سے ہندوستان سے متعلق نادر تصاویر کی نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ مباحثہ میں ڈاکٹر حبیب نثار، ڈاکٹر فاطمہ پروین، ڈاکٹر زاہدالحق اور جمیلہ نشاط نے حصہ لیا۔ امریکی کونسلیٹ کے عہدیدار سلیل قادر اور ایم اے باسط نے انتظامات کی نگرانی کی۔ مقررین نے کہا کہ حیدرآباد دکن نے کئی خاتون نامور شعراء کو جنم دیا ہے جنہوں نے اپنے کلام کے ذریعہ اردو دنیا میں منفرد شناخت بنائی۔ شاہی گھرانوں کے علاوہ غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین نے بھی بے مثال شاعری کی۔ ڈاکٹر حبیب نثار نے کہا کہ دکن کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ لطف النساء امتیاز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغلیہ، قطب شاہی اور بہمنی دورِ حکومت میں خواتین کی تعلیم کے حصول کیلئے حوصلہ افزائی کی جاتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ دکنی تہذیب کو اُجاگر کرنے کیلئے خانقاہی ادب کا مطالعہ ضروری ہے۔ انہوں نے ایک اور دکنی شاعرہ  بی بی فتح الملک کا بھی تعارف پیش کیا۔ ادونی سے تعلق رکھنے والی بیگم حضرت خاکی نے بھی غزل گوئی میں منفرد مقام پیدا کیا ہے۔ لطف النساء امتیاز نے 1212 میں  اپنا دیوان مرتب کیا تھا۔ ڈاکٹر فاطمہ پروین نے کہا کہ لطف النساء امتیاز ماہ لقا بائی چندا کے علاوہ حیدرآباد کی صغریٰ ہمایوں مرزا نے بھی اردو شاعری میں اپنا مقام بنایا ہے۔

TOPPOPULARRECENT