Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی واقعات پر مرکز و تلنگانہ کو قومی حقوق انسانی کمیشن کی نوٹس

حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی واقعات پر مرکز و تلنگانہ کو قومی حقوق انسانی کمیشن کی نوٹس

ایمرجنسی جیسی صورتحال کی اطلاعات پر از خود کارروائی ۔ غذا ‘ پانی ‘ برقی روک دینے پر شدید تشویش کا اظہار
حیدرآباد /25 مارچ ( سیاست نیوز ) حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی معاملہ میں قومی انسانی حقوق کمیشن نے ازخود کارروائی کرتے ہوئے حکومت تلنگانہ ، وزارت فروغ انسانی وسائل حیدرآباد پولیس کو نوٹس جاری کی اور اندرون ایک ہفتہ جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ قومی انسانی حقوق کمیشن نے ذرائع ابلاغ میں شائع اطلاعات پر سخت نوٹ لیتے ہوئے مذکورہ محکمہ جات نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی آف حیدرآباد میں ایمرجنسی جیسی صورتحال پیدا ہوچکی ہے جہاں پانی ، برقی ، غذاء اور انٹرنیٹ و اے ٹی ایم جیسی سہولتیں مسدود کردی گئی ہیں ۔کیمپس کے اندر بھاری پولیس جمعیت تعیناتی طلبہ کے ساتھ پولیس کے غیر انسانی سلوک کی خبروں پر قومی انسانی حقوق کمیشن نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وزارت فروغ انسانی وسائل ، چیف سکریٹری حکومت تلنگانہ پولیس کمشنر حیدرآباد کو نوٹسیں جاری کی ہیں اور 25 طلبہ کی حراست کے متعلق بھی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ کمیشن نے یونیورسٹی انتظامیہ اور عہیداروں کی جانب سے اختیار کردہ رویہ کو سخت تصور کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور انتظامیہ نے جو رویہ اختیار کیا وہ ناقابل قبول نظر آرہا ہے ۔ واضح رہے کہ 23 مارچ کو وائس چانسلر حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی پروفیسر پی اپا راؤ کی طویل رخصت سے واپسی کے بعد طلبہ نے احتجاج شروع کیا تھا جنہیں منتشر کرنے کیلئے پولیس کی جانب سے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے زائد از 25 طلبہ اور 3 اساتذہ کو حراست میں لے لیاگیا ہے جو فی الحال چرلہ پلی جیل میں قید ہیں ۔ 23 مارچ کے شب سے ہی انچارج رجسٹرار کی ہدایت پر بیرونی افراد کو یونیورسٹی میں داخلے سے روک دیا گیا ہے اور ذرائع ابلاغ نمائندوں کے بھی یونیورسٹیوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔ اس صورتحال کے ساتھ یونیورسٹی میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو مسدود کئے جانے کی اطلاعات پر صورتحال ابتر ہوچکی ہے ۔ کمیشن نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق کیمپس میں بھاری پولیس متعین ہے ۔ طلبا بے تحاشہ گرفتاریوں کی وجہ سے خوف اورصدمہ میں ہیں۔ کیمپس میں بنیادی سہولیات جیسے غذا اور برقی کی عدم سربراہی پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی اس طرح کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو روک نہیں سکتا ۔

TOPPOPULARRECENT