Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد سٹی بس کنڈاکٹرس کو حفاظت خود اختیاری کے لیے کراٹے کی تربیت

حیدرآباد سٹی بس کنڈاکٹرس کو حفاظت خود اختیاری کے لیے کراٹے کی تربیت

احساس عدم تحفظ کا شکار نہ ہونے ، چھیڑ چھاڑ کے واقعات پر قابو پانے پر خصوصی توجہ
حیدرآباد ۔ 11 مارچ (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں چلائی جانے والی آر ٹی سی بسوں میں موجود خاتون کنڈکٹرس اب حفاظت خوداختیاری کیلئے کراٹے سیکھ رہی ہیں۔ تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی جانب سے خاتون کنڈکٹرس کو کراٹے کی تربیت فراہم کرتے ہوئے انہیں حفاظت خوداختیاری کا اہل بنانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں تاکہ کسی بھی طرح کے ناگہانی واقعہ کی صورت میں وہ اپنا دفاع کرسکیں۔ ٹی ایس آر ٹی سی نے 14 خاتون کنڈکٹرس کیلئے حیدرآباد میں تربیتی کلاس منعقد کرتے ہوئے انہیں کراٹے کی تربیت دینی شروع کردی ہے۔ اسی طرح اس منصوبہ کو جی ایچ ایم سی حدود تک وسعت دینے کی تیاری کی جارہی ہے۔ 9 اور 10 مارچ کو دی گئی تربیت کے دوران خاتون کنڈکٹرس کو اس بات کی بنیادی معلومات فراہم کی گئی ہیں کہ کس طرح وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا ناگہانی حالات کے دوران حفاظت خوداختیاری کیلئے کراٹے جیسے فن کا استعمال کرتے ہوئے حملہ آور کو روک سکتی ہیں۔ ان کنڈکٹرس کو بتایا گیا کہ وہ کس طرح چھیڑچھاڑ یا حملہ کے واقعات سے نمٹنے کیلئے تیار رہیں۔ ان خاتون کنڈکٹرس کو کراٹے کی تربیت فراہم کررہے کوچ مسٹر وی وشواناتھ نے بتایا کہ ہنگامی صورتحال میں خاتون ملازمین کو اپنے دفاع کیلئے چوکس رہنے کی تربیت کے علاوہ ان میں خوداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جارہا ہے کہ کسی بھی طرح کے حالات میں خواتین احساس عدم تحفظ کا شکار نہ ہوں بلکہ حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنا دفاع کرسکیں۔ ریاست تلنگانہ میں خواتین کے تحفظ اور چھیڑچھاڑ کے واقعات کے تدارک کیلئے حکومت کی جانب سے متعدد اقدامات کئے جارہے ہیں بالخصوص حیدرآباد میں سڑک چھاپ نوجوانوں کی حرکتوں کو روکنے کیلئے محکمہ پولیس نے شی ٹیم کا آغاز کیا ہے۔ اسی طرح ٹی ایس آر ٹی سی کی جانب سے شہر میں چلائی جانے والی بسوں میں خواتین اور مرد حضرات کیلئے علحدہ علحدہ گوشے ترتیب دیتے ہوئے جالیاں نصب کی گئی ہیں اور اب آر ٹی سی میں خدمات انجام دینے والے خاتون ملازمین بالخصوص کنڈکٹرس کو حفاظت خوداختیاری کی تربیت فراہم کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے خاتون ملازمین میں خود اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، جس کے مثبت نتائج برآمد ہونے کی توقع ہے۔ تربیتی کلاسیس میں شرکت کرنے والی خاتون کنڈکٹرس کا کہنا ہیکہ اس طرح کی تربیت سے ریاست بالخصوص شہر میں پیش آنے والے چھیڑچھاڑ وغیرہ کے واقعات کو بڑی حد تک روکا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT