Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد شہر ہر دن تاریکی میں ڈوب رہا ہے

حیدرآباد شہر ہر دن تاریکی میں ڈوب رہا ہے

حیدرآباد۔10جون (سیاست نیوز) شہر میں عوامی نمائندے اور حکومت شہریوں کے مسائل کا اے سی کمروں میں مضحکہ اڑا رہے ہیں اور ان کی بد حالی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ حیدرآباد میں بلا وقفہ و معیاری برقی سربراہی ایک خواب بنتی جا رہی ہے۔ شہر کا کوئی علاقہ ایسا نہیں ہے جہاں برقی سربراہی کا مسئلہ پیدا نہیں ہو رہا ہے۔ چھتہ بازار ‘ دیوان دیوڑھی کے علاقوں میں گزشتہ شب وولٹیج میں کمی و زیادتی کی وجہ سے الکٹرانک اشیاء جل جانے کی شکایات موصول ہوئی ہیں جس کے سبب شہریوں کو لاکھوں کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ دونوں شہروں کے مختلف علاقوں میں عین افطار اور سحر کے وقت برقی سربراہی منقطع ہونے کے سبب عوام کو تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن عہدیدار یہ کہتے ہوئے دامن جھاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہنگامی صورتحال کے سبب برقی سربراہی منقطع کی جا رہی ہے لیکن بسا اوقات ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ بعض متعصب عہدیدار تکلیف دینے کی غرض سے ہی ان اوقات کار میں برقی سربراہی منقطع کر رہے ہیں اور یہ احساس عوام کے ذہنوں میں پیدا ہونے لگا ہے۔ منتخبہ عوامی نمائندے برقی سربراہی کے اس مسئلہ پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور عوام ان تکالیف کے سبب مشکلات سے دو چار ہوتے جا رہے ہیں۔ چھتہ بازار اور دیوان دیوڑھی کے علاقوں میں وولٹیج کے مسائل کی سحر کے وقت شکایات کیلئے متعدد فون کال کئے جانے کے بعد یہ کہہ دیا گیا کہ صبح دس بجے سے قبل کچھ نہیں کیا جاسکتا عوام نے شکایات کی کہ وولٹیج میں کمی و زیادتی کے سبب فریج ‘ اور ائیر کولر کی موٹرس جل چکی ہیں علاوہ ازیں کئی گھروں میں ٹیوب لائٹس میں اچانک جلنے کی بو پیدا ہونے لگی ۔ محکمہ برقی کے ایک اعلی عہدیدار نے بتایا کہ شہری علاقوں میں ماہ گرما کے دوران برقی سربراہی کے انتظامات کو بہتر بنانے کیلئے شٹ ڈاؤن کی اجازت نہ دیئے جانے کے سبب یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے لیکن فی الحال صرف ہنگامی مینٹیننس کیلئے برقی سربراہی منقطع کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد و سکندرآباد کے علاقوں میں ماہ مارچ و اپریل کے  دوران سربراہی کو بہتر بنانے کے اقدامات نہ کئے جانے کے سبب یہ مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب ماہ رمضان المبارک کے دوران برقی سربراہی میں خلل ایک بڑے اسکام کا حصہ ہے اور اس اسکام میں علاقہ واری اساس پر عہدیدار خود ملوث ہیں جس کی وجہ سے وہ عوامی شکایات پر توجہ دینے کے بجائے ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے وقت گذاری کر لیتے ہیں اور رمضان المبارک کے گذر جانے کے بعد کوئی اس مسئلہ پر سوال نہیں کرتا۔ بتایا جاتا ہے کہ نہ صرف عہدیدار بلکہ بعض سیاسی افراد بھی اس بڑے پیمانے پر ہونے والی دھاندلی کا حصہ ہیں اسی لئے وہ بھی عوام کو ہونے والی تکالیف پر خاموش بیٹھے ہوئے ہیں۔ اسکام کی تفصیلات کے بموجب ماہ رمضان المبارک کے دوران تجارتی برادری کی جانب سے جو اضافی روشنیاں کی جاتی ہیں ان کے لئے قبل از وقت اجازت نامہ حاصل نہیں کیا جاتا اور اگر کیا بھی جاتا ہے تو معمولی چالان ادا کرتے ہوئے اضافی برقی استعمال کرنے کی اجازت دیدی جاتی ہے اور اس کیلئے عہدیدار بھاری رقومات حاصل کرلیتے ہیں۔ پرانے شہر کے کئی علاقوں میں جہاں خصوصی بازار لگائے جا رہے ہیں ان بازاروں میں استعمال ہونے والی برقی کے متعلق بھی محکمہ برقی کے ویجلنس عہدیدار شبہات رکھتے ہیں لیکن ان کا ازالہ کرنے سے متعلقہ عہدیدار قاصر نظر آتے ہیں۔ محکمہ ہی سے تعلق رکھنے والے ایک عہدیدار نے بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ بعض تاجرین کی جانب سے اضافی برقی بغیر اجازت کے استعمال کی جاتی ہیں لیکن ان کی حوصلہ افزائی بھی محکمہ برقی میں موجود بعض بد عنوان عہدیدار اور انہیں حاصل سیاسی سرپرستی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے کئی علاقوں میں برقی کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں لیکن جن علاقوں میں سب سے زیادہ مسائل پیدا ہور ہے ہیں ان میں ایسے علاقوں کی اکثریت ہے جہاں ماہ رمضان المبارک کے دوران سرگرمیاں عروج پر ہوتی ہیں۔ پرانے شہر کے علاقوں کے علاوہ ٹولی چوکی ‘ مہدی پٹنم ‘ پنجہ گٹہ‘ یوسف گوڑہ ‘ ملے پلی ‘ نامپلی ‘ چادر گھاٹ ‘ ملک پیٹ میں برقی سربراہی میں پیدا ہونے والے خلل پر عوام میں شدید برہمی پائی جاتی ہے۔ عہدیدار یہ کہتے ہوئے عوام کو ٹال رہے ہیں کہ ٹرانسفارمر پر اضافی بوجھ عائد ہونے کے سبب برقی سربراہی میں خلل پیدا ہو رہا ہے جبکہ حقیقی وجوہات سے عہدیدار واقف ہیں کہ کیوں صرف ان علاقوں میں برقی سربراہی منقطع ہو رہی ہے جہاں اقلیتی آبادیاں غالب ہیں۔

TOPPOPULARRECENT