Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد :صرف 22 دن میں 2700 کروڑمالیتی سونے کی خریدی

حیدرآباد :صرف 22 دن میں 2700 کروڑمالیتی سونے کی خریدی

پرانے نوٹوں کے ذریعہ سونے کی ریکارڈ خریداری، انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ کو خریداروں کی تلاش

حیدرآباد۔18ڈسمبر (سیاست نیوز) کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کے فیصلہ کے بعد صرف شہر حیدرآباد میں 2700کروڑ کی لاگت کے سونے کے بسکٹ منسوخ کرنسی نوٹوں کے ذریعہ خریدے گئے ہیں۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذرائع کے بموجب دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں 8نومبر کی شب کے بعد سے 30نومبر تک 2700کروڑ کے سونے کی فروخت عمل میں لائی گئی اور یہ سونا صرف منسوخ کرنسی کے عوض فروخت کیا گیا ہے ۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے بموجب اب تک کی تحقیق میں جو انکشاف ہوئے ہیں ان کے مطابق شہر میں 8000کیلو سونے کے بسکٹ درآمد کئے گئے تھے جنہیں منسوخ کرنسی رکھنے والوں کو فروخت کیا گیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ای ڈی ان سونے کے خریداروں کی تلاش میں ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ خریدار سونے کی خریدی کے بعد روپوش ہو چکے ہیں۔ روپوشی سے مراد ان کے نام اور پتہ حاصل کرنا دشوار ہے لیکن اس سلسلہ میں جاری تحقیق سے اس بات کا پتہ لگانا مشکل نہیں ہوگا ۔ ای ڈی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں نوٹوں کی تنسیخ کے فیصلہ کے بعد سونے کی فروخت پر گہری نظر رکھی گئی تھی اور ماہ نومبر کے دوران ریکارڈس کے مطابق 8000کیلو سونا شہر حیدرآباد میں فروخت کیا گیا جو کہ معمول سے کافی زیادہ ہے اور اسی طرح ماہ ڈسمبر میں سونے کی درآمدات کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ حیدرآباد میں جاریہ ماہ کے دوران اندرون 10یوم 1500کیلو سونے کی درآمدات کی اطلاع ہے۔ شہر کے سرکردہ سونے کے تاجرین کی جانب سے 8نومبر کی شب سے کی گئی فروخت اور خریدی کے علاوہ ان کے پاس موجود اسٹاک کا جائزہ لینے کے بعد انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کا یہ کہنا ہے کہ شہر میںمنسوخ کرنسی نوٹوں کے ذریعہ سونے کی فروخت عروج پر رہی اور 2700کروڑ کے سونے کی فروخت کا اندازہ لگایا جارہا ہے جبکہ تحقیقات میں مزید انکشافات ممکن ہو سکتے ہیں کینوکہ ابھی صرف چند مخصوص سونے کے تاجرین کی جانب سے کی گئی فروخت کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور بھی کئی تاجرین ہیں جنہوں نے ان ایام کے دوران سونے کے بسکٹ درآمد کئے ہیں اور ان بسکٹوں کی فروخت کہاں ممکن بنائی گئی اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ خریداروں تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ای ڈی ذرائع کا کہنا ہے کہ سونے کے تاجرین نے 2لاکھ سے زیادہ کے سونے کی فروخت پر عائد شرط کے مطابق گاہکوں کے پیان یا شناختی کارڈ حاصل نہیں کئے ہیں جو کہ ان کی جانب سے کی گئی فروخت اور خریدار کے مشتبہ ہونے کی دلیل بنتا جا رہا ہے لیکن تحقیقاتی ایجنسیاں اس سلسلہ میں تفصیلات اکٹھا کرنے میں مصروف ہیں۔

TOPPOPULARRECENT