Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میٹرو ریل بمقابلہ چینائی میٹرو ریل ملک کا پہلا عالمی درجہ کا پراجکٹ

حیدرآباد میٹرو ریل بمقابلہ چینائی میٹرو ریل ملک کا پہلا عالمی درجہ کا پراجکٹ

مزید کئی چیالنجس سے نمٹنا باقی ، سی ایم آر کے مشاہدہ سے تحریک ، جامع عمل کی ضرورت
حیدرآباد /19 اگست ( سیاست نیوز ) حیدرآباد میٹرو ریل میں چند ایک چیالجس سے نمٹا گیا تاہم بہت سارے چیالنجس سے نمٹنا ابھی باقی ہے ۔ حالانکہ چینائی میں میٹرو پراجکٹ کا آغاز کردیا گیا لیکن حیدرآباد میٹرو ریل ( ایچ ایم آر ) پروجیکٹ سیکڑوں پیمانوں کو عبور کرنے میں لگا ہوا ہے ۔ صحافیوں نے چینائی کا دورہ کرتے ہوئے جس کا حیدرآباد میٹرو ریل کی جانب سے انتظام کیا گیا تھا ۔ دونوں پراجکٹس کا ازخود تقابل کیا ۔ حالانکہ بین الاقوامی معیارات کو دیکھتے ہوئے حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ کو اس میعار پر لاتے ہوئے شہر کی ہئیت کو بدلنا بہت مشکل مرحلہ بن گیا ہے ۔ بین الاقوامی طرز پر لانے کیلئے اس پراجکٹ کیلئے ہر چیز کا خیال رکھا جارہا ہے ۔ جہاں اس کی ایرکنڈیشنڈ کوچس ، سرسبز راہداریاں ، عالمی درجہ کے اسٹیشنس ہوں گے ۔ اس طرح جملہ 66 اسٹیشنس کا منصوبہ ہے ۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں نے پہلی رپورٹ حاصل کی اور چینائی میٹرو ریل ( سی ایم آر ) کوئمڈو تا النڈدور جس طرح چلائی گئی اسی دوران لوگوں سے چینائی میٹرول ریل کے تعلق سے معلومات حاصل کیں ۔ چینائی میٹرو ریل پراجکٹ کا مقصد یقینی طور پر چینائی کی عوام کو اور اس کے وزیٹرس کو سہولت بخش اور کفایتی طرز کا پبلک ٹرانسپورٹ فراہم کرنا جو ایک جامع انداز زیں ، عوامی اور خانگی نقل و حمل کے ساتھ پیدل راہروں ، بسوں ، سب اربن ٹرینس اور ایم آر ٹی سے مختلف ہے ۔ جس کی حیدرآباد میٹرو پراجکٹ میں کمی دیکھی جاتی ہے ۔ حیدرآباد میٹرو ریل لمیٹیڈ کے منیجنگ ڈائرکٹر این وی ایس ریڈی نے سہولتوں کے مشاہدہ کے بعد کہا ہم کو یہاں بہتر اور منظم مشق کی ضرورت ہے۔ چینائی میٹرو ریل کے منصوبہ کو دیکھتے ہوئے میں بہت متاثر ہوا جہاں جامع اور منظم نظام ٹرانسپورٹ ہونے سے ہم کو تحریک ملی ہے ۔ ہم کو حیدرآباد میں اس پر عمل کرتے ہوئے اسی طرز پر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مناسب طور پر دیگر حمل و نقل کے ذرائع سے مربوط تمام اقسام کی سہولتوں کے ساتھ پراجکٹ کو جامعیت عطا کرنے کیلئے کوشش کی جائے گی ۔ مسٹر ریڈی نے کہا ہندوستان کے شہر پیدل چلنے یا سائیکل چلانے کی اہمیت کو نہیں سمجھتے اس کے متبال طور پر وہ میٹرو ریل کو فیڈر سرویس کے طور پر قبول کریں گے ۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرے تو یہ اینڈ ٹو اینڈ رابطہ ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے شہروں میں میٹرو ریل کی سہولتو ںکو تعمیر کرنا چیالنج سے بھرا ہے ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر حیدرآباد میٹرو ریل چینائی کی طرح خصوصی درجہ کا ہوگا تو انہو ںنے کہا کہ یہ سہولت یہاں نہیںجوڑی جاسکتی ۔ چنائی میٹرو میں یہ ایک منفرد خصوصیت ہے ۔ عموماً میٹرو ریل سسٹم اس طرح نہیں ہوا کرتا ۔ ایلیویٹیڈ اور انڈر گراؤنڈ پراجکٹ کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ ایچ ایم آر ایلیویٹیڈ پراجکٹ ہے ۔ حالانہ موازانہ کیا جائے تو حیدرآباد میٹرو ریل عوامی خانگی شراکت داری  کے تحت ہے اور چینائی میٹرو ریل کو حکومت ہند اور حکومت تاملناڈو کی جانب سے مکمل کیا گیا۔ ایچ ایم آر پراجکٹ 3 کاریڈورس پر مشتمل ہے ۔ 72 کیلومیٹرس کا احاطہ کیا جارہا ہے ۔ جبکہ سی ایم آر پراجکٹ دوکوریڈار پر مشتمل ہے اور 45 کیلومیٹرس کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ ایچ ایم آر پروجیٹکس عالمی درجہ کے 3 ڈپوز رکھتا ہے ۔ جو اپل ، میاں پور اور فلک نما پر ہوں گے ۔ ہرگاہ کہ سی ایم آر پراجکٹ دو ڈپوز ایک کویمبڈو اور منام باکم رکھتا ہے ۔ ایچ ایم آر پراجکٹ 269 ایکرس اراضی اس کے پراجکٹ کے تحت رکھتا ہے تاہم سی ایم ار کو 121 ایکر اراضی الاٹ کی گئی ہے ۔ ایچ ایم آر 66 اسٹیشن ( تمام ایلیویٹیڈ ) رکھتا ہے۔ سی ایم آر 32 اسٹیشن 920 انڈر گراؤنڈ اور 12 الیویویٹیڈ رکھتا ہے ۔ ایچ ایم ار نے جون 2012 میں کاموں کا آغاز کیا پراجکٹ کی تخمینہ لاگت 14132 کروڑ روپئے ہے ۔ جبکہ سی ایم آر نے جون  2009 میں کام کا آغاز کیا ۔ لاگت 14750 ہے ایچ ایم آر کے دیگر فوائد جس کا تقابل سی ایم آر نہیں کرسکتا ہے ۔ ایچ ایم آر کمیونٹیشن پر مبنی ٹرین کنٹرول سگنلنگ نظام کا حامل ہے ۔ تاہم سی ایم آر روایتی نظام کا حامل ہے ۔ ٹیکٹنگ کے تناظر میں ایچ ایم آر جدید ٹیکنالوجی رکھتا ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT