Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میٹرو ریل کا 75 فیصد کام مکمل، آئندہ سال پراجکٹ کی تکمیل

حیدرآباد میٹرو ریل کا 75 فیصد کام مکمل، آئندہ سال پراجکٹ کی تکمیل

موسیٰ ندی کے فروغ کے لیے علحدہ کارپوریشن ، روزانہ پانی کی سربراہی یقینی بنائی جائے گی ، معیاری سڑکوں کی تعمیر : کے ٹی آر
حیدرآباد۔/17جنوری، ( سیاست نیوز) وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ کا 75 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے اور آئندہ سال تک پراجکٹ مکمل ہوجائے گا۔ کے ٹی آر نے موسی ندی کی ترقی کیلئے علحدہ کارپوریشن، معیاری سڑکوں کی تعمیر، بنیادی سہولتوں کی فراہمی، صحت وصفائی کے انتظامات، شہر میں غریبوں کیلئے ایک لاکھ ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر اور روزانہ پانی کی سربراہی کو یقینی بنانے کا بھی اعلان کیا۔ کے ٹی راما راؤ نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں ترقیاتی سرگرمیوں کے بارے میں تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں مختصر مباحث کے تحت بیان دیا۔4 گھنٹوں سے زائد مباحث میں وزیر بلدی نظم و نسق نے گزشتہ ڈھائی سال میں شہر کی ترقی کیلئے حکومت کی مساعی کی تفصیلات بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت حیدرآباد کو اسمارٹ، کلین، گرین اور محفوظ شہر میں تبدیل کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کررہی ہے۔ کے ٹی آر نے شہر کی ترقی کے بارے میں حکومت پر غیر سنجیدگی سے متعلق اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کردیا اور کہا کہ گزشتہ ڈھائی برس میں کے سی آر کی زیر قیادت ٹی آر ایس حکومت نے کئی شعبوں میں شہر کی حالت کو تبدیل کیا ہے۔ سخت ترین گرما کے باوجود برقی اور پانی کی موثر سربراہی کے سی آر حکومت کا کارنامہ ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ حیدرآباد جس طرح ایک عظیم شہر ہے اسی طرح اس کے مسائل بھی کئی ایک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد کے حدود اور مضافاتی علاقوں میں 2018 تک ہر گھر کو پینے کا پانی سربراہ کیا جائے گا۔ جاریہ سال روزانہ پانی کی سربراہی کے سلسلہ میں تجرباتی طور پر بعض علاقوں میں اسکیم کا آغاز کیا گیا ہے جسے مرحلہ وار طور پر توسیع دی جائے گی۔ وزیر بلدی نظم و نسق نے اپوزیشن جماعتوں سے کہا کہ وہ صرف تنقیدوں کے بجائے حکومت کے کارناموں کا بھی تذکرہ کریں۔ حیدرآباد کو تلنگانہ کا معاشی انجن قرار دیتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ 45 فیصد جی ڈی پی صرف حیدرآباد سے حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں کبھی برقی کی عدم سربراہی اور پانی کی قلت کیلئے اپوزیشن کے مظاہرے ہوا کرتے تھے لیکن ٹی آر ایس برسر اقتدار آنے کے بعد سے حیدرآباد میں برقی اور پانی کا مسئلہ حل ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ مبسوط منصوبہ بندی کے ذریعہ حیدرآباد کی ترقی کیلئے کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واٹر ورکس اینڈ سیوریج بورڈ اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے کئی اصلاحی قدم اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے حیدرآباد واٹر ورکس کے خسارہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ماہانہ 25کروڑ روپئے خسارہ کی پابجائی کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد میں 40 فیصد پانی سے بورڈ کو کوئی آمدنی نہیں۔ نان ریونیو واٹر کو کم کرنے کیلئے حکومت اقدامات کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ5 ، 6 اور 7 ڈیویژنس میں تجرباتی طور پر روزانہ پانی کی سربراہی کا آغاز کیا گیا ہے۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں 9 لاکھ 60 ہزار کنکشنس ہیں اور 8 لاکھ کنکشنس کو میٹرس نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے وقت حیدرآباد میں صرف 20 ہزار کمرشیل کنکشن تھے جبکہ تجارتی اداروں کی تعداد لاکھوں میں ہیں۔ واٹر بورڈ کی مہم کے بعد یہ تعداد بڑھ کر 38 ہزار ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسی ندی کے پانی کو آلودگی سے صاف کرنے اور اسے خوبصورت بنانے کیلئے علحدہ کارپوریشن بہت جلد تشکیل دیا جائے گا جو میونسپل کارپوریشن، واٹر ورکس اور ایچ ایم ڈی اے کی سرگرمیوں پر محیط ہوگا۔ انہوں نے حیدرآباد سنٹرل لائبریری کے تحفظ کے اقدامات کا تیقن دیا۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ شہر میں ٹائیلٹس کی کمی کو محسوس کرتے ہوئے حکومت نے پٹرول پمپس پر ٹائیلٹ کی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں پٹرول پمپس مالکین کے ساتھ اجلاس منعقد کیا گیا۔ پہلے مرحلہ میں 300 پٹرول پمپس پر ٹائیلٹس تعمیر کئے جائیں گے۔ کے ٹی آر نے حسین ساگر کو آلودگی سے پاک رکھنے کیلئے کوکٹ پلی نالے کا رُخ موڑنے کیلئے 40کروڑ روپئے سے اسکیم کا اعلان کیا جس کے تحت صنعتی فضلہ حسین ساگر میں شامل نہیں ہوگا۔ انہوں نے شہر میں قدیم سیوریج سسٹم کو تبدیل کرنے، انجینئرنگ ڈپاٹمنٹ کو مستحکم کرنے، عہدیداروں کو جوابدہ بنانے، سائبرآباد آئی ٹی راہداری میں سڑکوں کی تعمیر، پلاسٹک سڑکوں کی تعمیر، نالوں کی صفائی، برقی کی بچت کیلئے ایل ای ڈی اسٹریٹ لائیٹس اور گریٹر حیدرآباد کے موبائیل ایپ جیسے اقدامات کا ذکر کیا۔

TOPPOPULARRECENT