Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / حیدرآباد میں ایک بھی اچھی سڑک کی نشاندہی پر وزیر ’ کے ٹی آر ‘ کو انعام کا اعلان

حیدرآباد میں ایک بھی اچھی سڑک کی نشاندہی پر وزیر ’ کے ٹی آر ‘ کو انعام کا اعلان

مرکزی حکومت سے تلنگانہ کو کوئی پیاکیج نہیں ملا ، محمد علی شبیر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 10۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کی وزیراعظم نریندر مودی سے ’ پیار دو پیار لو ‘ کی آنکھ مچولی کھیلنے سے تلنگانہ کو مرکز سے کوئی پیاکیج نہ ملنے کا دعویٰ کیا ۔ شہر میں ایک بھی سڑک اچھی ہونے کی نشاندہی کرنے پر ریاستی وزیر کے ٹی آر کو انعام دینے کا اعلان کیا ۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تقسیم ریاست بل کے وعدے پر عمل کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کے بجائے 2.25 لاکھ کروڑ روپئے کا مالی پیاکیج دیا ہے تاہم تلنگانہ سے کئے گئے وعدے قاضی پیٹ میں ریلوے کوچ فیکٹری ، راما گنڈم میں 4000 میگاواٹ برقی پلانٹ کھمم میں بیارم اسٹیل فیکٹری اور ہائی کورٹ کی تقسیم کو یکسر نظر انداز کردیا ہے ۔ حکومت تلنگانہ نے اس سلسلے میں کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے اور نہ ہی مرکزی حکومت نے تلنگانہ کے ساتھ انصاف کرنے کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں کی گئی قانون سازی کا احترام کیا ہے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر فوری دہلی پہونچ کر تلنگانہ سے انصاف کرنے کا مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالیں یا کل جماعتی وفد کو دہلی لیجائیں ۔ کے سی آر نے گجرات میں 2 ہزار مسلمانوں کے قتل کے الزام کا سامنا کرنے والے نریندر مودی سے گلے ملتے ہوئے تلنگانہ کے مفادات کو نظر انداز کردیا ۔ تلنگانہ حکومت گذشتہ 2 سال میں مرکز سے ایک روپیہ گرانٹ بھی حاصل نہیں کیا ۔ چیف منسٹر شیخ چلی کی باتیں کرتے ہوئے فاضل بجٹ رکھنے والے ریاست تلنگانہ کے ہر فرد کو مقروض بنادیا ۔ مرکزی حکومت نے پولاورم پراجکٹ کو قومی درجہ کا پراجکٹ قرار دیا ۔ تلنگانہ میں پرانہیتا چیوڑلہ پراجکٹ کو قومی پراجکٹ کا درجہ دینے کا جائزہ لیا جارہا تھا تاہم ٹی آر ایس حکومت نے پراجکٹ کا نام تبدیل کرتے ہوئے کالیشورم رکھدیا اور ری ڈیزائننگ کے نام پر اس کی اصلی حالت کو تبدیل کردیا ۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے ریاستی وزیر آئی ٹی و بلدی نظم و نسق کے ٹی آر کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جی ایچ ایم سی کے انتخابات سے قبل شہر حیدرآباد کی ترقی کے لیے 25 ہزار کروڑ روپئے خرچ کرنے پرانے شہر کو استنبول اور نئے شہر کو ڈلاس کے طرز پر ترقی اور 100 یومی منصوبہ تیار کرتے ہوئے سڑکوں پر ایک بھی گڑھا نظر آنے کی صورت میں ایک ہزار روپئے انعام دینے کا اعلان کیا تھا وہ کے ٹی آر کو چیلنج کرتے ہیں شہر میں ایسی کوئی سڑک کی نشاندہی کریں جس پر گڑھا نہیں ہے ۔ وہ ریاستی وزیر کے ٹی آر کو اپنی طرف سے انعام دیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT