Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میں جرائم کی شرح میں کمی‘ سٹی پولیس کے متعدد اقدامات کارگر

حیدرآباد میں جرائم کی شرح میں کمی‘ سٹی پولیس کے متعدد اقدامات کارگر

شدت پسندی کی طرف راغب ہونے والے نوجوانوں پر نظر‘ آپریشن ’ مسکان‘کے ذریعہ بچہ مزدوری کے خلاف مہم
حیدرآباد۔ 28 ڈسمبر (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں سال 2015ء میں جرائم کی شرح میں 14% کمی ریکارڈ کی گئی۔ کمشنر پولیس آف حیدرآباد مسٹر ایم مہیندر ریڈی نے آج یہاں سالانہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سال 2016ء سٹی پولیس کیلئے ٹیکنالوجی کا سال ہوگا اور وہ شہر کو Smart & Safe City میں تبدیل کرنے کیلئے اپنی توجہ مرکوز کی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف پی ڈی ایکٹ کا نفاذ، کریمنل ٹریکنگ سسٹم، شدت سے پیٹرو کارس اور بلیو کولٹس پارٹیز کی گشت، وقفہ وقفہ سے کارڈن سرچ آپریشنس، جرائم پیشہ افراد کا سروے ، سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب جرائم پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوئے۔ مسٹر مہیندر ریڈی نے بتایا کہ حیدرآباد سٹی پولیس نے 33% یعنی 4,895 مخلوعہ جائیدادوں کے باوجود بھی پولیس نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2015ء میں آئی ایس آئی ایس (داعش) میں شمولیت کی کوشش کرنے والے 17 نوجوانوں کی نشاندہی کی گئی تھی اور بنیاد پرست ذہنیت کے خاتمہ کیلئے ان کی وقفہ وقفہ سے کونسلنگ کی گئی۔ کمشنر پولیس نے بتایا کہ سابق میں داعش میں شمولیت کی کوشش کرنے والے نوجوانوں پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے اور شدت پسندی کی جانب راغب ہونے والے نوجوان اور ان کے سوشیل نیٹ ورکنگ ویب سائیٹ اکاؤنٹس پر بھی نظر رکھی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھٹکے ہوئے نوجوانوں کو کونسلنگ کے ذریعہ انہیں بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں میں شمولیت اختیار کرنے کی صورت میں پیش آنے والے سنگین نتائج و عواقب سے بھی واقف کروایا جارہا ہے۔ کونسلنگ کے ذریعہ سماجی مسائل کی یکسوئی کی جاسکتی ہے اور محض مقدمات درج کرنے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنا بسا اوقات کافی نہیں ہوتا۔ مسٹر مہیندر ریڈی نے کہا کہ سال 2015ء سٹی پولیس میں کئی موبائیل اپیلی کیشنس متعارف کئے ہیں جن کے ذریعہ تمام کو سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جاریہ سال دونوں شہروں میں رہزنی کی وارداتوں میں 50% کمی ہوئی ہے۔ سال 2014ء میں 523 رہزنی کی وارداتیں پیش آئی تھیں جبکہ رواں سال 263 رہزنی کی وارداتیں ہوئی ہیں۔ جرائم کی شرح میں کمی میں ڈکیتی، رہزنی، توجہ ہٹاکر لوٹ لینے اور دیگر متعدد نوعیت کے جرائم شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2015ء میں تلنگانہ پولیس کی جانب سے حیدرآباد میں شی ٹیمس تشکیل دی گئی تھیں جن کے تحت 1,111 شکایات موصول ہوئی تھیں اور 345 افراد بشمول 142 کم عمر لڑکوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ 14 نربھئے ایکٹ مقدمات درج کئے گئے تھے جس کے تحت 26 افراد کو جیل بھیجا گیا تھا، 120 افراد کو جرمانہ اور 76 افراد کو بعد کونسلنگ رہا کردیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سٹی پولیس کے اسپیشل برانچ یونٹ نے سال 2015ء میں 1,12,935 پاسپورٹ درخواستوں کی تنقیح کی گئی تھی اور آئی پیاڈس کے ذریعہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اندرون پانچ یوم پاسپورٹ درخواستوں کی تنقیح مکمل کی جارہی ہے جو ملک گیر سطح پر منفرد ریکارڈ ہے۔ پی ڈی ایکٹ جیسے سخت قوانین کے تحت 263 جرائم پیشہ افراد بشمول روڈی شیٹرس، عادی رہزن، ڈرگ اسمگلرس، دھوکہ باز اور دیگر جرائم پیشہ افراد کو ایک سال کے طویل عرصہ کیلئے جیل میں محروس رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سنٹرل کرائم اسٹیشن (سی سی ایس) عملہ نے جاریہ سال اپنی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی بین ریاستی بدنام زمانہ ٹولیوں کو بے نقاب کیا۔ کمشنر ٹاسک فورس نے بھی رواں سال 1,303 مقدمات درج کرتے ہوئے 1,916 افراد کو گرفتار کیا تھا جن میں بدنام زمانہ عادی رہزن اور روڈی شیٹرس شامل ہیں۔ کمشنر پولیس حیدرآباد نے بتایا کہ شہر حیدرآباد میں ساؤتھ زون پولیس نے نمایاں کارکردگی پیش کی اور ’’آپریشن مُسکان‘‘ کے ذریعہ بچہ مزدوری کے خلاف مہم چلائی اور 383  کم عمر بندھوا مزدوروں کو رہا کرواکر انہیں اپنے آبائی مقام منتقل کیا جبکہ ’’مشن چبوترہ‘‘ کے تحت 236 نوجوانوں کو حراست میں لے کر کونسلنگ کی گئی اور پھر انہیں رہا کردیا گیا۔ اسی طرح سنٹرل زون پولیس کی لیک پولیس نے 207 افراد کو خودکشی کرنے سے باز رکھا اور بعد کونسلنگ انہیں ان کے رشتہ داروں کے حوالے کیا۔ سٹی پولیس کا سائبر کرائم عملہ بھی اپنی کارکردگی میں بہتری پیدا کی جس کے نتیجہ میں گزشتہ سال کے مقابل سائبر جرائم میں قدرے کمی دیکھی گئی ہے۔ حیدرآباد ٹریفک پولیس نے جاریہ سال کئی اقدامات کئے ہیں۔ جن میں کیش لیس ٹریفک چالان شامل ہیں۔ رواں سال ٹریفک پولیس نے ملک میں پہلی مرتبہ کاپ لیس جنکشنس قائم کئے ہیں جن کے تحت متعلقہ ٹریفک جنکشنس پر ٹریفک پولیس عملے کے بغیر ٹریفک کو کنٹرول کرنے کا تجربہ کیا گیا۔ حالت ِ نشہ میں گاڑی چلانے والوں کے خلاف بھی خصوصی مہم چلائی گئی جن میں 14,913 مقدمات درج کئے گئے تھے اور 2,802 افراد کو سزا ہوئی۔ جاریہ سال حیدرآباد سٹی پولیس نے کئی موبائیل اپلی کیشنس متعارف کئے جن میں ’’ہاک آئی‘‘ ، لاسٹ رپورٹ‘‘ ایپ شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ پولیس اسٹیشنس کی تزئین نو کرتے ہوئے انہیں اسمارٹ پولیس اسٹیشن میں تبدیل کیا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT