Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد میں حوالہ ریاکٹ ، سالانہ 1000 کروڑ بیرون ممالک منتقلی کا انکشاف

حیدرآباد میں حوالہ ریاکٹ ، سالانہ 1000 کروڑ بیرون ممالک منتقلی کا انکشاف

مہیندرا کھتری کے ساتھ دو افراد گرفتار ، فرضی دستاویزات سے کاروبار
حیدرآباد ۔ 11 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : ریاست کے دارالحکومت حیدرآباد میں حوالہ ریاکٹ بے نقاب ہوگیا ۔ فرضی دستاویزات اور ادارے تشکیل دیتے ہوئے سالانہ 1000 کروڑ روپئے بیرونی ممالک کے بنک کھاتوں میں منتقل کرنے کا انکشاف ہوا ہے ۔ پولیس نے حوالہ ریاکٹ چلانے والے مہیندرا کھتری کے علاوہ ان کے دو دوستوں کو گرفتار کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا ۔ منشیات کا معاملہ ٹھنڈا ہی نہیں پڑا تھا کہ حوالہ ریاکٹ منظر عام پر آگیا ہے ۔ فرضی دستاویزات تیار کرتے ہوئے نقلی اداروں کے نام پر کالا دھن کو غیر قانونی طور پر بیرونی ممالک روانہ کرنے والی ٹولی کے لیے حیدرآباد آماجگاہ میں تبدیل ہوگئی ہے ۔ پولیس کو ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ملک کے دوسرے شہروں میں حوالہ کا کاروبار کرنے والی ٹولیوں کے حیدرآباد سے تار جڑے ہوئے ہیں ۔ سائبر آباد کمشنریٹ کے حدود میں واقع چندا نگر پولیس اسٹیشن میں درج شدہ مقدمہ کی تحقیقات کرنے پر انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ عہدیداروں کو اس کا علم ہوا ہے ۔ قانون میں موجود نقائص کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے چند افراد غیر قانونی کام کررہے ہیں ۔ بلیک منی کو وائیٹ کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کررہے ہیں ۔ نوٹ بندی کے بعد نوٹوں کی لین دین آن لائن ہوجانے سے غیر سماجی عناصر بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کرلی ہے ۔ بنکوں کے ذریعہ کی جانے والی لین دین پر ٹیکس ادا کرنے سے بچنے کے لیے چند شخصیتیں اور ادارے غلط راستہ اختیار کررہے ہیں مثال کے طور پر ایک فیکٹری کی جانب سے 100 سمنٹ کے تھیلے فروخت کرنے پر صرف 50 تھیلوں کے بلز بنا رہے ہیں باقی 50 تھیلوں کو بغیر بلز کے فروخت کرتے ہوئے اس سے ہونے والی آمدنی کو پوشیدہ رکھ رہے ہیں جو کالا دھن کہلاتی ہے ۔ ایسی دولت ٹیکس کے دائرے میں نہیں آئے گی اور نہ ہی اس کو بینکوں میں ڈپازٹ کیا جاسکتا ہے ۔ سیاسی قائدین اور عہدیداروں کو بھی بے قاعدگیوں سے کمائی گئی دولت خفیہ طور پر رکھنا مشکل ہوگیا ہے ۔ ایسی صورت میں بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کے ذریعہ کمائی گئی دولت بیرونی ممالک پہونچا دی جارہی ہے ۔ فرضی دستاویزات سے نقلی کمپنیاں صرف کاغذ پر تیار کی جارہی ہیں ۔ ان کمپنیوں میں کوئی پیداوار نہیں ہوگی تاہم اس کمپنی کو فروخت کے مطابق اشیاء حاصل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے بوگس انوائیس تیار کیا جارہا ہے اور فنڈز مختلف بیرونی ممالک کے اداروں کے کھاتوں میں منتقل کیا جارہا ہے ۔ حیدرآباد میں واقع چندا نگر ایچ ڈی ایف سی بینک کے منیجر کی شکایت پر حوالہ ریاکٹ بے نقاب ہوا ہے ۔ بینک منیجر نے چندا نگر پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی کہ ہمارے بینک میں فرضی دستاویزات کے ذریعہ تین کھاتے کھولتے ہوئے 31.60 کروڑ روپئے بیرونی ممالک کو منتقل کئے گئے ہیں تحقیقات میں حوالہ ریاکٹ بے نقاب ہوا ہے ۔ کالا دھن بیرونی ممالک منتقل کرنے والوں کو کمیشن کی شکل میں بھاری رقم دستیاب ہوتی ہے ۔ ان بے قاعدگیوں سے بھر پور فائدہ اٹھانے کے لیے مہیندرا کھتری نے ایک پلان تیار کیا ۔ چندا نگر کے ایچ ڈی ایف سی بینک میں مختلف اداروں کے نام پر تین کھاتے کھولے ۔ اداروں کے رجسٹریشن اور بینک کھاتوں کے لیے فرضی دستاویزات کا استعمال کیا ۔ اس کے لیے درگا پرساد کا استعمال کیا گیا اپنے ساتھ اپنے دوستوں ونودا اہوجا ، آنند کمار بیدر کرکے پیان کارڈ ، آدھار کارڈ ، ووٹر شناختی کارڈ ، برقی بلز درگا پرساد کو دیتے ہوئے مہیندرا کھتری نے ان کی مدد سے بینک میں تین کرنٹ کھاتے کھولنے اور اداروں کے رجسٹریشن کی ذمہ داری درگا پرساد ہی کو دی اور انہیں 2 لاکھ روپئے بھی ادا کئے گئے ۔ ویاٹ ، ٹی وی ٹی دستاویزات کے لیے ایجنٹ سائی کرن کی خدمات سے استفادہ کیا گیا ۔ ضرورت کے مطابق فرضی دستاویزات تیار کرتے ہوئے سائی کرن ویاٹ رجسٹریشن کراتے ہوئے دستاویزات درگا پرساد کے حوالے کئے ۔ جن کی اساس پر درگا پرساد چندا نگر ایچ ڈی ایف سی اور سدی عنبر بازار کے اکسیز بینک کے علاوہ دوسرے بینکوں میں کھاتے کھلوائے اور ان کی مدد سے کالا دھن کو ان بینک کھاتوں کی مدد سے بیرونی ممالک منتقل کیا جارہا تھا ۔ تحقیقات میں کھتری نے حوالہ ریاکٹ چلانے کا پولیس کے سامنے اقرار کیا ہے ۔ پوچھ تاچھ کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ 40 دن میں مختلف بینک اکاونٹس سے 42 کروڑ روپئے بیرونی ممالک کے بینک کھاتوں میں جمع کئے گئے ہیں ۔ اس طرح ابھی تک ان تینوں کی جانب سے 150 کروڑ روپئے بیرونی ممالک منتقل کئے گئے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT