Saturday , October 21 2017
Home / Top Stories / حیدرآباد میں سرکاری اسکولوں کی صورتحال پر اظہار تشویش

حیدرآباد میں سرکاری اسکولوں کی صورتحال پر اظہار تشویش

بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے 75کروڑ روپئے کی اجرائی کا اعلان : ڈپٹی چیف منسٹر کے سری ہری
n  اقلیتی اقامتی اسکولوں کیلئے 10 تا 15ہزار اساتذہ کے تقررات کا فیصلہ
n   14نومبر سے 1500 اسکولوں میں ڈیجیٹل کلاسیس کا آغاز
حیدرآباد ۔ 7نومبر ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری نے ریاست کے دارالحکومت حیدرآباد میں سرکاری اسکولس کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 15 اسمبلی حلقوں میں فی کس 5کروڑ روپئے کے حساب سے 75کروڑ روپئے جاری کرنے کا اعلان کیا ۔ 14 نومبر یوم اطفال کے موقع پر ریاست کے 1500 اسکولس میں ڈیجیٹل کلاسیس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ۔ صنعت نگر کے سینٹ گرلز اسکول میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات بتائی ۔ اس موقع پر ریاستی وزراء این نرسمہا ریڈی ‘ ٹی سرینواس یادو کے علاوہ دوسرے موجود تھے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد سرکاری اسکولس میں زیر تعلیم طلبہ کو معیاری و مسابقتی تعلیم کی فراہمی کیلئے ٹی آر ایس حکومت بڑے پیمانے پر اقدامات کررہی ہے ۔ تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہیکہ حیدرآباد میں سرکاری اسکولس کی حالت تشویشناک ہے ۔ مختلف اسکولس میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے ۔ جنگی خطوط پر ان  اسکولس کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے اور معیار تعلیم کو بڑھانے کیلئے آئندہ دو یا تین دن میںحکومت کی جانب سے 75 کروڑ روپئے جاری کئے جائیں گے ۔ شہر حیدرآباد کے 15 اسمبلی حلقوں میں ہر اسمبلی حلقہ کیلئے 5کروڑ روپئے مختص کرتے ہوئے ترقیاتی کام انجام دیئے جائیں گے ۔ متعلقہ اسمبلی حلقوں کی نمائندگی کرنے والے ارکان اسمبلی کے ترقیاتی فنڈز سے فی کس ایک کروڑ روپئے اور کلکٹر کے ترقیاتی فنڈز سے ایک کروڑ روپئے جاری کرانے کے ساتھ ساتھ محکمہ تعلیمات کے میاچنگ گرانٹس سے فی اسمبلی حلقہ کیلئے 3کروڑ روپئے جاری کئے جائیں گے ۔ تلنگانہ حکومت ریاست میں کے جی تا پی جی مفت تعلیم فراہم کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کررہی ہے ۔ 464 ریذیڈنشیل اسکولس کو منظوری دی گئی ۔ آئندہ تعلیمی سال ریاست کے 119اسمبلی حلقوں میں بی سی ریذیڈنشیل اسکولس اور 90 مزید میناریٹی ریذیڈنشیل اسکولس قائم کئے جارہے ہیں ۔ ہر اسکول پر 20کروڑ روپئے کے مصارف ہیں ۔ ان اسکولس میں 10 تا 15 ہزار ٹیچرس کے تقرارت کئے جائیں گے ۔ کڈیم سری ہری نے کہا کہ اضلاع کی تنظیم جدید کی وجہ سے ٹیچرس کے تقررات میں تاخیر ہورہی ہے ۔ 31 اضلاع میں بہت جلد طلب کے مطابق اساتذہ کا 2017 میں تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے تحت تقررات کئے جائیں گے ۔ کنٹراکٹ پر خدمات انجام دینے والے تمام لکچررس کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کا فیصلہ ہوگیا ہے ۔ تاہم قانونی مسائل کی وجہ سے تھوڑی تاخیر ہورہی ہے ۔ 14 نومبر کو یوم اطفال کے موقع پر پہلے مرحلے میں ریاست کے 1500 سرکاری اسکولس میں ڈیجیٹل کلاسیس کا آغاز کیا جارہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT